گھر بیٹھے فوڈ ڈلیوری کے وہ نقصانات جن سے آپ لاعلم ہیں

گھر کا خیال جب بھی ذہن میں آتا ہے تو ایک سکون کا احساس انسان کے رگ و پے میں دوڑ جاتا ہے جہاں پر پیار و محبت کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام افراد کا ایک دسترخوان پر جمع ہو کر گھر کے پکے لذيذ پکوان سے لطف اندوز ہوں-
 


ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں بہت ساری آسائشیں اور آرام فراہم کیا ہے وہیں پر انسان کو آرام طلب اور سست بنا دیا ہے اب انسان دن بھر محنت کرنے کے بجائے صبح شام جم جا کر ورزش کرنے کے لیے تو تیار ہے مگر گھر کے کسی کام کے لیے پیدل دو قدم چلنے کو تیار نہیں ہے-

یہی سبب ہے کہ اب جب گھر والے ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے اپنے اسمارٹ فون کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں اور کسی بھی خوشی کے موقع کو منانے کے لیے نت نئے لذيذ پکوان بنانے کے بجائے آن لائن فوڈ پانڈہ یا دیگر آن لائن کھانا فراہم کرنے والی کمپنیوں کو آرڈر دے کر کھانا منگوانے کو ترجیح دیتے ہیں-
 


بھوک کا اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ازل سے چلا آرہا ہے بھوک انسان کی وہ کمزوری ہے جس نے اسے جنت سے نکلوا دیا مگر اس کے باوجود آج بھی انسان اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صرف اپنی بھوک مٹانے پر ہی خرچ کرتا ہے جس کا فائدہ مختلف کمپنیاں اٹھاتی ہیں اور فوڈ ڈلیوری پورٹل جیسی کمپنیاں انسان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی آفرز سامنے لے کر آتی ہیں جن کو دیکھ کر انسان کی رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے اور وہ بے ساختہ یہ سوچے بغیر کہ اس آرڈر کا اس کی جیب اور صحت پر کیا اثر پڑے گا آرڈر دے بیٹھتا ہے-

آن لائن کھانے کے آرڈر کے اثرات

1۔ گھر میں کھانا بنانے کی لذت اور برکت سے محروم ہو جاتا ہے

باہر سے کھانا آرڈر کر کے بظاہر کم نرخوں پر منگائے جانے والے کھانے کا سب سے برا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ کھانا برکت سے محروم ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان اس محبت اور خوشی سے بھی محروم ہو جاتا ہے جو گھر کی عورت ، ماں بہن ، بیٹی یا بیوی کے ہاتھ کے پکے کھانے سے ملتی ہے-

2۔ ماہانہ بجٹ کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے
فوڈ ڈلیوری پورٹل اور اس جیسے دیگر آن لائن آرڈر دینے والے افراد کی دی گئی آفرز پر اگر غور کیا جائے تو وہ تمام آفرز متوسط طبقے کے افراد کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں جن کی آمدنی محدود ہوتی ہے ایسے متوسط گھرانوں میں فوڈ ڈلیوری پورٹل ایک نشے کی طرح سرایت کرتا جا رہا ہے اور اس کے شکار افراد اپنی قلیل آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان کھانوں پر خرچ کرنےکے بعد بجٹ کے عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں-
 


3۔ صحت کی بربادی کا سبب
عام طور پر گھر میں بنایا جانے والا کھانا حفظان صحت کے اصولوں کو سامنے رکھ کر تیار کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کھانے کی تیاری کے دوران گھر والوں کے مزاج کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے ۔ جب کہ باہر سے آرڈر کیا جانے والا کھانا صرف کمرشل بنیادوں پر تیار کیا جاتا ہے اور قیمت کم کرنے کے چکر میں اس میں مضر صحت اجزا کا استعمال بھی کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں چکنائی ، نمک اور چینی کی مقدار بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے جو کہ انسانی صحت کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے-

ان تمام منفی اثرات کو جانتے بوجھتے ہم لوگ اشتہارات کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں اپنے پیسے کو لٹا دیتے ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 64846 Print Article Print

YOU MAY ALSO LIKE:

Reviews & Comments

Es ummet ko kon samjay 100% sahi ha aksar ya khanay jo ghar batay mangwa jatay hain wo dusaroin ka khanay bach jatain usko alag Karkay delivers kartain hain
By: Alim Raza, Karachi on Nov, 29 2019
Reply Reply
0 Like
Yes
By: Szhnaqvi, Lahore on Nov, 27 2019
Reply Reply
0 Like
You are absolutely Right I like to cook at home.
By: Muhammad Aslam, Wah cantt on Nov, 26 2019
Reply Reply
0 Like
Hum hamesha ghar pe hi khana banate hain aur sehat ke asool par hi khana banati hoo bazar Ka khana mutlub bimarion ko ghar pe Lana.logon ko kuch bhi samjha lo lekin..,
By: Sabiha, Lahore on Nov, 15 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
When we think about a home, the idea of a place comes into mind where all family members can enjoy the company of each other while enjoying home-made foods.