خالق لفظ پاکستان،نقاشِ پاکستان ۔۔۔۔۔۔چوہدری رحمت علی

(Murad Ali Shahid, Doha)

حقائق و مشاہدات کو عملِ تسوید میں لانے کے عمل کو تاریخ کہا جاتا ہے،اگر دیکھا جائے تو وقائع نگاری کا عمل اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب حضرتِ انسان نے لکھنے کے عمل سے اپنی بات دوسروں کو سمجھانا شروع کر دی تھی۔اگرچہ نقشِ حجر کو بھی تاریخ ہی خیال کیا جاتا ہے مگر اس کی اہمیت اتنی خیال نہیں کی جاتی جتنی کہ لکھی ہوئی تاریخ کی۔حالات و واقعات کو جمع کر کے ان کی تاریخ مرتب کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوتا ،کئی مشکل مراحل سے گزر کر تاریخ مرتب کی جاتی ہے اور اس سے بھی مشکل کام تاریخ کے ان اوراق میں اپنا نام درج کرانا ہوتا ہے ، بقول علامہ اقبال’’تاریخ قوموں کا حافظہ ہوتی ہے‘‘اس لئے جو بات تاریخ کے صفحات میں رقم ہو جاتی ہے وہی حقائق انسانی ذہن پر منقش ہو کر رہ جاتے ہیں۔تاریخ تحریک پاکستان کی اگر بات کی جائے توان گنت چمکتے ستاروں میں ایک درخشندہ ستارے کا نام چوہدری رحمت علی ہے،جنہیں ہم خالق لفظ پاکستان،نقاش پاکستان اور پرچم ِ پاکستان کے تخلیق کار کے طور پر جانتے ہیں۔

16 ،نومبر 1897 ؁ ہوشیار پور کے ایک گاؤں موہر کے رہائش پزیر چوہدری شاہ محمد کے گھر ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جو برصغیر کی مسلم سیاست کا ایسا چمکدار ستارہ ثابت ہوا جس کی ضو فشانی سے پاکستان آج دنیا کے نقشہ پر چمکتا دکھائی دیتا ہے۔اس بچے کا نام تھا چوہدری رحمت علی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی ،میٹرک جالندھر سے کرنے کے بعد 1915 ؁ میں اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔کالج میگزین کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور وہیں سے لکھنے لکھانے کا فن سیکھا ۔جب یونین کے عہدیدار بنے تو اسی سال صرف سترہ برس کی عمر میں بزم شبلی کی بنا ڈالی اور اس بزم کے صدر بنے۔بزم کے تاسیسی اجلاس میں ایک مقالہ از خود لکھ کے پڑھا،جس کے بارے میں وہ خود کہتے ہیں کہ’’1915؁ کا سال اس اعتبار سے ایک عہد ساز سال تھا کہ میں نے بزمِ شبلی کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی ہندوستان مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور ہم اسے مسلمان ہی رکھیں گے۔بلکہ اس میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کریں گے۔لیکن یہ بات صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم ’’ہندوستانیت‘‘ کو مکمل طور پر ترک کر دیں گے۔اور یہ کام ہم جس قدر جلد کریں گے اتنا ہی بہتر ہو گا۔اس اعلان کا فوری اثر یوں ہوا کہ ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کے وہ نوجوان جو اپنے آپ کو دانشور خیال کرتے تھے ان سے میرے تعلقات منقطع ہو گئے۔اور ہمارے راستے جدا ہو گئے‘‘

چویدری رحمت علی گریجو ایشن کے بعد صحافت کے پیشہ سے منسلک ہو ئے،ان دنوں محمد دین فوقؔ ایک اخبار ’’کشمیر گزٹ‘‘ نکالا کرتے تھے ،اس میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹڑ وابستہ ہو کر کچھ عرصہ کام کیا۔چونکہ چوہدری رحمت علی ایک آزاد منش انسان تھے اس لئے زیادہ دیر نہ بن سکی اور اخبار چھوڑ کر ایچی سن کالج میں بطور لیکچرار ملازمت اختیار کر لی۔ایک انگریز پرنسپل سے گزارہ نہ ہونے کی بنا سے وہاں سے بھی استعفیٰ دے کر نواب مزاری کے بچوں کے اتالیق مقرر ہو گئے۔ایک مقدمہ میں نواب مزاری نے انہیں اپنا مختار بنا دیا ۔چوہدری رحمت علی نے یہ مقدمہ بڑی جانفشانی سے لڑا اور جیت گئے،جس سے خوش ہو کر نواب مزاری نے ایک خطیر رقم انہیں ادا کی۔ڈاکٹر محمد جہانگیر خان جو کیمرج میں چوہدری رحمت علی کے ساتھی تھے ایک نجی محفل میں ان الفاظ میں اظہارکرتے ہیں کہ 1929 ؁ میں جب رحمت علی کیمرج پہنچے تو اس کے پاس اس وقت 80 ہزار روپے تھے جس سے ان کی زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔چوہدری رحمت علی نے اپنی ایک تنظیم پاکستان نیشنل موو منٹ بھی بنا رکھی تھی۔ترکی کی شہرہ آفاق خاتون خالدہ ادیب خانم جنہوں نے چوہدری رحمت علی سے لندن اور پیرس دو بار شرفِ ملاقات کے بعد ایک مضمون بعنوان’’پاکستان‘‘ لکھا جس میں انہوں نے تحریک کا لبِ لباب انہیں کے الفاظ میں یوں بیان کیا۔

’’اس سوال کا جواب دینے کے لئے کہ پاکستان نیشنل موومنٹ کی تخلیق کا باعث کیا ہے میں گذشتہ 80 سال کی تاریخ کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔اسلامی حکومت 1857 میں ختم ہو گئی یہاں ایک نقطہ قابل غور ہے جسے بیرونِ ہندوستان سمجھنے کی کوشش کی گئی اور وہ یہ ہے کہ پہلے پہل مسلمانوں کاوطن پاکستان یعنی وہ حصہ ملک تھاجو مشتمل تھا،پنجاب(پ)،سرحد افغانیہ(الف)،کشمیر(ک)،سندھ(س)،بلوچستان(تان)۔میں نے پاکستان کا نام اسی پانچ صوبوں کے ناموں سے حاصل کیا ۔مسلمان یہاں بارہ سو سال سے آباد چلے آ رہے ہیں،وہ الگ تمدن اور ثقافت کے علمبردار ہیں ،اس ملک اور اصلی ہندوستان کی حدِ فاصل جمنا ہے۔۔۔۔۔چوہدری رحمت علی نے پوری زندگی نظریہ پاکستان کی ترویج اور اشاعت میں صرف کر دی،انہوں نے 1933 ؁میں جب وہ کیمرج میں طالبِ علم تھے ایک پمفلٹ شائع کیا جس کا عنوان تھا ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘اس کتابچہ کی ترسیل اس قدر تھی کہ آکسفورڈ کے تمام لیٹر بکس ان سے بھر گئے ۔اور یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا،بالآخرایک دن محکمہ ڈاک کے سربراہ خود ان کے پاس آئے اور التجا کی کہ آپ کے پمفلٹ کی وجہ سے باقی پبلک کوخطوط کی ترسیل میں دقت ہوتی ہے۔لہٰذا آپ اپنی تمام ڈاک ڈائریکٹ پوسٹ آفس میں دے دیا کریں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی تجویز انگلستان کے تمام سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بننے کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں بھی پھیل گئی،یعنی چوہدری رحمت علی کے پمفلٹ کے الفاظ اصغر سودائی کے منظوم الفاظ ،ہر زبانِ خاص و عام پر ایک نعرہ بن کر گونجنے لگے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااﷲ،بٹ کے رہے گا ہندوستان بن کے رہے گا پاکستان۔علاوہ ازیں یہ بات بھی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کے لئے بنگلستان(بنگال اور آسام پر مشتمل آزاد ریاست)اور عثمانستان(ریاست دکن کا علاقہ)کی تجویز بھی دی تھی۔اگر موجودہ سیاسی و جغرافیائی حالات کا مطالعہ کریں تو چوہدری رحمت علی کی وہ تجویز زیرک سیاسی فہمی کی مضبوط دلیل نظر آتی ہے۔اور اگر ان کی اس تجویز پر عمل کر لیا جاتا تو آج ہندوستان اتنی بڑی ریاست نہ ہوتی اور نہ ہی سیاسی لحاظ سے اتنی طاقتور جمہوریہ خیال کی جاتی۔

تاریخ کی ستم ظریفی کہیے ،ان کی جذباتی طبیعت یا سیاسی حکومتوں کی نالائقی و بے توجہی کہ جس شخص نے مسلمانانِ برصغیر کے لئے لفظ پاکستان تخلیق کیا ،آج پرائے دیس میں اپنی قبر پہ اس کتبہ کے ساتھ،محو استراحت ہے۔
چوہدری رحمت علی ایم اے بار ایٹ لاء کیمرج برطانیہ

ولد چوہدری شاہ محمد گوجر عمر 54 سال
سال تاریخ وفات۔12 ،فروری1951
بانی تحریکِ پاکستان۔خالق لفظ ’’پاکستان‘‘
تحریر کنندہ حاجی محمد بخش اینڈ فیملی چک نمبر 66 ج،ب لائلپور پاکستان۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 264 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 71 Articles with 15677 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: