فیس بک نے کِس کے کہنے پر پاکستان کی ہزاروں پوسٹس بلاک کیں؟

سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ، فیس بک نے حکومتِ پاکستان کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں ہزاروں فیس بک پیجز، پوسٹس اور دیگر مواد تک رسائی روک دی ہے۔ یہ پوسٹس مبینہ طور پر پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں بلاک کی گئی ہیں۔

فیس بک نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی درخواست پر فیس بک نے کارروائی کرتے ہوئے رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں متعدد فیس بک پیجز اور دیگر مواد بلاک کیا ہے۔
 


فیس بک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی درخواست پر انہوں نے گزشتہ سال یکم جولائی سے 31 دسمبر کے دوران چار ہزار سے زائد فیس بک پوسٹس و دیگر مواد بلاک کیا جب کہ رواں سال یکم جنوری سے 30 جون تک یہ تعداد 5,690 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں پاکستان کی حکومت نے صارفین کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے بھی 1,849 درخواستیں دی ہیں جب کہ اس سے قبل گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں فیس بک کو ملنے والی ایسی درخواستوں کی تعداد1,752 تھی۔

فیس بک انتظامیہ کے مطابق، فیس بک صرف اسی مواد کو بلاک کرتی ہے جس کی اطلاع پی ٹی اے کی جانب سے دی جاتی ہے۔ یہ مواد مبینہ طور پر مقامی قوانین کے خلاف ہوتا ہے۔ یعنی کوئی بھی ایسا مواد جو توہینِ مذہب، عدلیہ اور ملکی آزادی کے خلاف ہو۔

فیس بک کی رپورٹ پر سوشل میڈیا صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے مبینہ طور غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کی درخواستوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق کام کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کی ڈائریکٹر صدف خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا معلومات تک رسائی کے لیے ایک متبادل ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ بہت سارے معاملات جن پر مین اسٹریم میڈیا پر بحث نہیں ہوتی، وہ سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں۔

ان کے بقول، فیس بک کو مواد تک رسائی روکنے کے لیے دی گئی درخواستیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے اقدام میں اضافہ ہو رہا ہے جو آزادیٔ اظہار اور جمہوری بیانیے کو روکنے کی کوشش ہے۔

صدف خان نے کہا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا کی طرح سوشل میڈیا پر بھی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تنقیدی بات کرنے کے مواقع سکڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول، یہ بات باعث تشویش تو ضرور ہے، لیکن حیران کن نہیں۔

صدف خان نے کہا کہ پی ٹی اے اور فیس بک حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن صفحات یا پوسٹ تک رسائی کو روکا گیا ہے۔

البتہ، فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ فیس بک صفحات تک رسائی صرف اسی ملک میں روکتے ہیں جہاں کے مقامی قوانین کے تحت وہ خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
 


ادھر پی ٹی اے کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں فیس بک کے مواد تک رسائی روکنے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی اے نے صرف اسی مواد کو ہٹانے کی درخواست کی ہے جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ان کے بقول، یہ درخواستیں فیس بک کے معیار کے عین مطابق تھیں۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے وہ الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016ء کے تحت سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے یا اسے ہٹانے کے مجاز ہیں۔

پی ٹی اے نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ان قوانین کو آزادیٔ اظہار اور اختلافِ رائے کے حق کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی اے پاکستان کے آئین اور متعلقہ قوانین کے تحت آزادیٔ اظہار کے حق کی حمایت کرتی ہے۔


Partner Content: VOA
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Nov, 2019 Views: 1412

Comments

آپ کی رائے