مردوں پر ہونے والے ایسے ظلم جن پر ہم نے کبھی غور نہیں کیا

مردوں ہمارے معاشرے کی وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں عام طور پر سب کے ذہنوں میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ طاقتور ، آزاد اور مضبوط ترین لوگ ہوتے ہیں جن کو درد نہیں ہوتا اور جن کو رونا بھی نہیں آتا جب کہ یہ خیال کسی بھی طرح حقیقت پر مبنی نہیں ہے اسی سبب اگر ہم جانبداری کا چشمہ آنکھوں پر سے اتار کر دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ عورتوں کی طرح اس معاشرے میں مردوں کو بھی مختلف جگہوں پر ایسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کو ظالم نہیں بلکہ مظلوم بناتے ہیں ان میں سے ایسے ہی کچھ مظالم سے ہم پردہ اٹھائيں گے-

1: مرد کو درد نہیں ہوتا
سائنسی نقطہ نظر سے اگر مردوں کی جسمانی ساخت کا جائزہ لیا جائے تو یہ انکشاف ہو گا کہ مردوں کے اندر درد برداشت کرنے کی صلاحیت عورتوں سے کم ہوتی ہے اسی سبب اللہ تعالیٰ نے بچے کی پیدائش عورت کو سونپا ہے مگر معاشرہ بار بار مرد کو یہ باور کرواتا ہے کہ اس کو درد نہیں ہوتا جس کے سبب شدید ترین تکلیف کے باوجود بھی وہ اپنے درد کا اظہار نہیں کر سکتا-


2: مرد روتے نہیں ہیں
انسانی فطرت میں دکھ اور تکلیف کے اظہار کے لیے آنسو بہانا شامل ہے مگر معاشرہ مردوں کو جذبات سے عاری بنانے کے لیے اس کو بچپن ہی سے بار بار یہ باور کرواتا ہے کہ اس کو اپنے دکھ اور تکلیف کے اظہار کے لیے رونے کی اجازت نہیں ہے-


3: مرد سجتے سنورتے نہیں ہیں
اچھا لگنا اور اس کے لیے اہتمام کرنا یہ ہر انسان کا حق ہے مگر ہم لوگوں نے اس کام کو صرف عورتوں تک محدود کر دیا ہے- اور اگر کوئی مرد خوش لباس ہو یا اپنے لکس پر توجہ دے تو اس کو اس کا حق سمجھنے کے بجائے اس کو عورت سے تشبیہ دی جاتی ہے-


4: مردوں کے نام پر فیصلے کوئی اور کرتا ہے
عام طور پر گھروں میں تمام بنیادی فیصلے خواتین کرتی ہیں مگر ان فیصلوں پر نام مردوں کا لگا لیا جاتا ہے- مثلاً اگر بچے کو کسی بھی کام سے منع کرنا ہوتا ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ تمھارے ابو نے منع کیا ہے بعد میں ابو کو کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ کا نام لے کر منع کر دیا ہے اس بات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے باپ کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہماری ماں تو ہماری ساری بات مانتی ہیں مگر ابو بہت سخت ہیں-


5: لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے
لیڈیز فرسٹ کے اصول کے باعث سب سے زیادہ متاثر مرد ہی ہوتے ہیں اور ان کو اس حوالے سے طویل قطاروں میں گھنٹوں اپنے کاموں کے باوجود کھڑا ہونا پڑتا ہے اور ایسا ان کے ساتھ صرف اور صرف اس لیے ہوتا ہے کہ وہ مرد ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2183 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: