بابا سات سلام

(Safder Hydri, )

عمر یہی کوئی نو دس برس کی رہی ہو گی ۔ مئی کی ایک تپتی ہوئی دوپہر میں گلی کی نکڑ پر چیتھڑوں میں ملبوس ایک شکستہ دیوار کے سہارے یوں ٹیک لگائے کھڑا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل لگتا تھا کہ کس نے کسے سہارہ دے رکھا ہے؟

چوٹی سے ایڑی تک پسینے میں بھیگا وہ لڑکا شاید کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا

کملائے ہوئے زرد چہرے پر نظر پڑتے ہی معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ شش و پنج کا شکار ہے ۔ شاید کسی نتیجے تک پہنچنے میں دشواری کا اسے سامنا تھا ۔
مگر پیٹ کو حالات کی سنگینی کی بھلا کیا فکر؟ ۔ چہرے پر لکھی بھوک کی تحریر تو شاید کوئی نابینا بھی پڑھ لیتا ۔ کئی پہروں سے خوراک پر پہرہ تھا ۔ سو حالت ایسی تھی کہ اب گرا کہ تب۔ دیوار کی طرح وہ بھی اپنے حالات سے لڑتے لڑتے عاجز آ گیا تھا ۔ اب پتہ نہیں دونوں میں کوئی پہلے شکست قبول کرنے والا تھا۔ بھوک اس کی کئی برس کی ساتھی تھی لیکن آج کل تو حد ہی ہو گئی تھی ۔ اس نے کل صبح ناشتے میں ایک روٹی کھائی تھی جس پر اس کی ماں نے سرخ مرچیں ڈال دی تھیں ۔ وہ گھی کا تقاضا کرتے کرتے رہ گیا ۔ سوتیلے باپ کی تیز نظروں سے گھبرا کر وہ جلدی جلدی ایک روٹی نگل گیا ۔ مرچوں نے پیٹ کی آگ کچھ اور بڑھائی تو بے ساختہ اس کا ہاتھ دوسری روٹی کی طرف بڑھا تھا - اور پھر زناٹے دار تھپڑ نے اس کے اسی ہاتھ کو اس کی گال تک پہنچا دیا تھا۔ ڈبڈبائی آنکھوں سے باپ کی طرف دیکھا ہی تھا کہ دوسرے گال پہ ایک اور تھپڑ پڑا اور پھر تو جیسے تھپڑوں کی بارش ہونے لگی ۔ چند ہی لمحوں میں باپ نے روئی کی دھنک کر رکھ دیا ۔ بدقت تمام وہ وہاں سے بھاگا تھا اور پھر دروازے سے ٹکرا کر گلی میں آن گرا تھا ۔
باپ کی " شفقت " سے یہ چوٹ ہی بھلی تھی ۔شام تک اسے" باپ" کے گھر جانے کی ہمت نہ ہو پائی تھی ۔رات کو گھر میں گھسا تو سوتیلی ماں استقبال کے لیے گویا تیار بیٹھی تھی ۔ شوہر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے بھی خوب ہاتھ سینکے ۔ وہ چند لمحے بھی ٹھہر نہ پایا اور روٹی کی بجائے مار کھا کے گھر سے واک آؤٹ کر گیا ۔ رات اس نے دور پار کے کسی چچا کے ہاں گزاری ۔ روٹی کا پوچھا گیا تو جانے کیا سوچ کر کہہ دیا کھا لی ہے ۔ جلدی سے ننگی چارپائی پر پڑ رہا اور صبح سویرے منہ اندھیرے ناشتہ کیے بنا گھر سے باہر نکل آیا۔ اور تب سے اب تک کسی آوارہ کتے کی طرح ادھر سے ادھر چکراتا پھر رہا تھا ۔ ٹانگوں نے دہائی دی تو دیوار کے سہارہ لگ کر کھڑا ہو گیا ۔ اب وہ تھا اور پہروں کی بھوک ۔وہ ایک دوراہے پہ کھڑا تھا ۔چند قدم آگے ماں کا گھر تھا اور چند قدم پیچھے باپ کا ۔گویا آگے کنواں پیچھے کھائی ۔

" اب تک تو ماں نے کھانا کھا بھی لیا ہوگا اور اب تو وہ لوگ قیلولے کو لیٹ بھی گئے ہوں گے " ۔اس نے سوچا۔
یہی مناسب وقت ہے چوروں کی طرح گھر میں گھس کر بچی کھچی روٹی پر حملہ آور ہونے کا۔ یہ سوچا ہی تھا کہ آپ ہی آپ اس کے قدم گھر کی طرف اٹھنے لگے۔ لیکن اچانک باپ کی سرخ سرخ ابلی ہوئی آنکھیں تصور کی سلیٹ پر ابھریں تو زمین نے گویا اس کے دونوں قدم جکڑ لیے ۔

" کیا کل کی خاطر تواضح بھول گئے " اس کے اندر ایک سسکتی ہوئی سرگوشی گونجی تھی۔وہ ٹھٹھک کر رک گیا ۔ وہ بت کی طرح ساکت و صامت تھا کہ یکایک جانے کیا جی میں آئی کہ یکایک سر پٹ دوڑ پڑا ۔
کب اس نے گلیاں عبور کیں ؟
کب مین روڈ پہ آیا ؟
کیسے اس کا رخ شہر کے مضافاتی علاقے کی طرف ہو گیا ؟
اور کب وہ شہر سے خاصا دور نکل آیا ؟ اسے کچھ خبر نہ تھی ۔ وہ تو بس سر پٹ دوڑا چلا جاتا تھا۔
دوڑتے دوڑتے بدن میں جان نہ رہی تو ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل زمین پر آ رہا۔۔ اپنے چہرے کو ہتھیلیوں اوٹ میں چھپا نہ لیتا تو کچلا جاتا ۔ اور ہاتھ بھی کون سا اس نے خود سے آگے کیے تھے ۔ وہ تو قدرتی طور پر اس کی مدد کو آگے آئے تھے ۔
ہتھیلیوں پر گہری چوٹ آئی تھی لیکن وہ اپنے حواسوں میں ہی کب تھا کہ خود کو ٹٹولتا ؟ جانے کتنی دیر دھوپ میں سڑک پر پڑا سانسوں کی تیز گونج سنتا رہا ۔ دل تو آج لگتا تھا اس کی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ جب سانس کچھ بحال ہوئی اور تھوڑی توانائی وجود میں جاگی تو بدقت تمام اٹھا اور سائے کی تلاش میں ادھر سے ادھر اسکی نگاہیں بھٹکنے لگیں۔ پکی اینٹوں کی سولنگ کے اس پار نشیب میں اسے جال کا ایک قدیم درخت دکھائی دیا جوِ اونچے ٹیلے پر فاتحانہ انداز سے اپنا وجود پھیلائے کھڑا تھا ۔ بے اختیار اس کے قدم اس جانب اٹھ گئے ۔ دو قدم اٹھائے تھے کہ ٹانگوں نے صدائے احتجاج بلند کی ۔ گرنے سے خوب مجروع ہوئی تھیں ۔ لنگڑاتا ہوا جیسے تیسے جال کی آغوش میں پہنچ کر زمین پر ڈھے سا گیا۔ بھوک کا عزاب کیا کم تھا کہ درد بھی اس کا ساتھی بن کر آ گیا تھا ۔ بوجھ لگنے والی زندگی اب کسی عذاب سے بڑھ کر محسوس ہو رہی تھی ۔ اس کا جی چاہا کاش اسے نیند آ جائے اور وہ ایسا سوئے کی کبھی آنکھ نہ کھلے ۔

جوڑ جوڑ ہل گیا تھا۔ سائے کی ٹھنڈک نے اس کے کچھ اوسان بحال کیے تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔ جال کی سمت نگاہ دوڑائی تو کچھ آگے اندر کی طرف ایک قبر دکھائی دی ۔ ایک سبز کپڑا اس پر پڑا تھا اور اس پر کسی نے اس خیال سے جگہ جگہ مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے رکھ دیے تھے کہ غلاف ہوا سے اڑ نہ جائے ۔
شاید کسی بزرگ کا مزار تھا ۔کسی غیر معروف گمنام بزرگ کا مزار ۔
جبھی تو اس ویرانے میں ایک سبز سا غلاف ہی کچھ امتیاز پیدا کر رہا تھا ۔ہاں قبر کے پاس ہی ایک لکڑی کا بکس ضرور موجود تھا ۔ خستہ سی اس صندوقچی کا سبز رنگ اڑ سا گیا تھا اور اب وہ ایک نئی لک دے رہا تھا ۔صندوقچی پر ایک بڑا سا زنگ آلود تالا پڑا تھا ۔ بزرگ کی مزار کے اوپر جال کی جھکی ٹھہنیوں پر مختلف رنگوں کے کپڑے کی دھجیاں سی بندھی تھیں ۔ شاید عقیدت مندوں نے منتیں مانگی ہو گی ۔ وہ بے اختیار اٹھا اور بزرگ کی قبر کے سرہانے آ بیٹھا ۔ اسے خود ہر حیرت ہو رہی تھی کہ اسے اس ویرانے سے ڈر کیوں نہ لک گ رہا تھا۔ اتنا بہادر وہ کب سے ہو گیا تھا کہ قبرستان میں بھی مطمئن سا تھا ۔ ایسا اطمینان تو اسے اپنے گھر میں بھی کبھی محسوس نہ ہوا تھا۔ گھر کی یاد کیا آئی جی بھر آیا۔ آنکھوں کے کنارے بھیگ سے گئے ۔ ساتھ ہی بھوک بھی یاد آئی اور درد کی ٹیسیں بھی جو وہ وقتی طور پر بھلا بیٹھا تھا ۔ پھر اس کا سر جھکتا چلاگیا ۔ اور بزرگ کی قبر کے عین اس مقام پر ٹک سا گیا جہاں ان کا سینہ ہو سکتا تھا ۔ سر کا لگنا تھا کہ آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں ۔ اتنے بہت سے آنسو اس کی آنکھ میں آئے کہاں سے تھے ؟۔ وہ تو بے تحاشا پٹنے پر بھی کبھی اتنا رویا نہیں تھا ۔پھر بے اختیار اس کے لب ہلنے لگے

۔ بابا ۔۔۔ بابا ۔۔۔ بابا جی ۔۔۔۔ آپ تو نیک لوگ ہو آپ تو ضرور میرے درد کو سمجھو گے ۔ میری ماں کو تو مجھ پر کبھی ترس نہیں آیا ۔ میرا باپ بھی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔ میں یتیم ہوں بابا جی ۔ ماں باپ زندہ ہیں پھر بھی یتیم ہوں ۔ مجھے کہیں جگہ نہیں ملتی ۔ کہیں سکون نہیں ملتا ۔ روٹی کے نام پر دھکے ملتے ہیں ۔ مار پڑتی ہے ۔ میرا یہاں کوئی نہیں کوئی بھی نہیں ۔ شاید میرا رب بھی میرا نہیں ۔ اگر ہے تو اسے میں نظر کیوں نہیں آتا ؟ ۔ اسے پکارتا ہوں تو میری کیوں نہیں سنتا ؟ ۔ کل سے بھوکا ہوں ۔ بار بار اسے پکارا ہے مگر اس نے میری ایک نہیں سنی ۔ نئی امی بھی مارتی ہے اور نئے ابو بھی ۔ میں کہاں جاؤں ؟ بابا کہتے ہیں جو مر جائے اپنے رب کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔ آپ بھی تو مر گئے ہیں اپنے رب کا پاس پہنچ گئے ہیں ۔ آپ ہی میری سفارش کر دیں کہ مجھے اگر روٹی نہیں دے سکتا تو مجھے بھی اپنے پاس بلوا لے۔ میں تنگ آ گیا ہوں اس زندگی سے ۔ مجھے نہیں جینا ۔ مجھے مرنا ہے ۔ ہاں بابا جی آپ اسے کہیں مجھے موت دے دے ۔ ابھی اور اسی وقت مجھے ایسا سلا دے کی پھر کبھی نہ آٹھوں ۔ بابا جی آپ تو اللہ والے ہیں آپ کی وہ بہت سنتا ہے ۔ اسے کہیں کھلا پلا نہیں سکتا تو مار تو سکتا ہے ناں ۔مجھے مار دے ۔مجھے یہاں سے نکالے ۔ میں روز
روز کی مار سے تھک گیا ہوں بابا جی ۔ اسے کہیں
مجھے مار دے
مجھے مار دے
مجھے مار دے ".
جانے وہ اور کیا کچھ کہتا رہا۔ بولتے بولتے گلہ خشک ہو گیا اور آنسو بھی ۔پھر جانے کب اس پر غشی طاری ہوئی اور وہ بے ہوش ہو گیا ۔ بے ہوشی کافی طویل تھی ۔ جب کراہتے ہوئے اس کی آنکھ کھلی تو اندھیرا خاصا پھیل چکا تھا اور شاید مغرب کی ازان اس کی سماعت سے ٹکرائی تھی ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔ کچھ دیر تو اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ یہاں پہنچا کیسے ؟- اندھیرے سے گھبرا کر وہ اٹھا ہی تھا کہ اس کی نظریں قبر کے غلاف پر گویا جم کر رہ گئیں ۔ جس جگہ اس کا کبھی سر دھرا تھا وہاں کھجوروں کا ایک ڈھیر لگا تھا ۔ تازہ تازہ ہیلی ہیلی خوشبودار کھجوریں ۔ وہ حیرت سے اچھل پڑا ۔ ارے یہ کھجوریں یہاں کیسے آئیں ؟ اور وہ بھی اس موسم میں کہ درختوں پر ابھی کچے پھل ہی ہر سو دکھتے ہیں ۔ پھر اسے کچھ یاد آیا تو اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کے رب نے اس کی سن لی ہے اور اس کے کھانے کا بندوبست بھی کر دیا تھا۔ وہ نہال ہو گیا۔ اندر سے جیسے آواز آئی" اب تجھے کبھی بھوکا سونا نہیں پڑے گا " ۔
وہ پھر بیٹھ گیا اور بے تابی سے اس کے ہاتھ کھجور کی طرف بڑھ گئے ۔ اتنی مزیدار کھجوریں تو اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں کھائی تھیں ۔ ایک چوتھائی حصہ کھایا ہوگا کہ پیٹ بھر گیا ۔بچی ہوئی ساری کھجوریں سمیٹ کر اپنے کھیسے میں بھر لیں ۔
وہاں سے جانے کا ارادہ کیا تو کچھ سوچ کر رک گیا ۔ نگاہیں مسلسل قبر کو گھور رہی تھیں ۔ مجھے بابا جی کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے ۔ اگر وہ میری سفارش نہ کرتے تو میں تو بھوک سے مر گیا ہوتا ۔ لیکن میں بابا جی کا شکریہ ادا کروں کیسے ؟ اچانک وہ اچھل پڑا ۔" ارے کہیں یہ "بابا سات سلام" تو نہیں ہیں " ۔
اب اس کی آنکھیں اندھیرے میں کچھ کھوج رہی تھیں ۔ اسے ٹیلے کے آخری سرے پر کچھ قبروں کے ہیولے سے دکھائی دیے تو بے اختیار اس کا سر ہلنے لگا ۔ اب اسے یقین ہو گیا تھا کہ یہ بابا سات سلام ہی ہیں۔

بابا کا نام پہلی بار اس نے اپنے مدرسے کے ساتھیوں سے سنا تھا ۔ مدرسے کے کچھ شریر " طالب " اسی راستے سے گزرتے ہوئے نہر پر نہانے جاتے تھے ۔ کبھی وہ سرکاری واپڈوں پر بھی نہایا کرتے ۔ نہر کچھ دور تھی لیکن واپڈے مزار سے کچھ زیادہ دور نہ تھے ۔ مدرسے میں جمعہ والے دن دس بجے چھٹی مل جایا کرتی تھی ۔ چلبلے شرارتی لڑکے ٹولیاں بنا کر نہانے نکل جاتے ۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا اور دیکھتے ہی دیکھتے شام ہو جاتی ۔ اب وہ جلدی جلدی بھاگتے دوڑتے گھر کا رخ کرتے اور جب بابا سات سلام کے مزار کے قریب پہنچتے تو سولنگ پر کھڑے ہو کر سارے لڑکے باجماعت سات سلام کرتے ۔ جانے انہوں نے یہ طریقہ کس سے سیکھا یا سنا تھا لیکن تھا تیر بہدف ۔ جب گھر پہنچتے تو مار سے بچ جاتے ۔ ایک دو تین ۔۔۔یہ ٹوٹکا بارہا کامیاب رہا ۔ پھر تو گویا یہ طریقہ سب کو پسند آ گیا ۔ کبھی کسی کو سبق یاد نہ ہوتا تو قاری صاحب کی مار سے بچنے کے لیے مدرسے میں آنے سے قبل وہ مزار کا چکر لگاتے ' سات سلام کرتے اور مار سے اکثر بچ جاتے ۔ یہی نہیں پھر تو اپنی روز مرہ کی پریشانی کے حل کے لیے بھی سلامی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ یہ اور بات کہ عبد الرشید نے کبھی ادھر کا رخ نہیں کیا تھا ۔ اس کا خاندان سخت گیر نظریات کا حامل تھا ۔ وہ مزاروں پر جانا غیر شرعی فعل گردانتے تھے۔ اگر یہ تربیت اسکے خون میں رچ بس نہ گئی ہوتی تو بھی کسی دن سلامی دینے پہنچ جاتا ۔ شومئی قسمت ایک دن قاری صاحب نے بچوں کو یہ حرکت کرتے دیکھ لیا ۔ پھر کیا تھا پوری جماعت باجماعت مرغے بن گئے ۔ کسی میں ہمت نہ تھی کہ کوئی طالب کوئی جواز گھڑتا ۔ وہ بھی دبکے ہوئے مرغے بنے ٹھہرے تھے جنہوں نے اس مزار کو خواب میں کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ قاری صاحب پورے جلال میں تھے ۔ سب کی سٹی گم تھی ۔ پھر ایک انہونی ہو گئی ۔ایک سہما ہوا مرغا بول اٹھا ۔اور اس نے اسی حالت میں سارا ماجرا کہہ سنایا اور مجرمین کے نام بھی پوری تفصیل سے بیان کر دیے ۔ساتھ میں اللہ پاک کی قسم کھاتے ہوئے یہ بھی کہہ ڈالا کہ وہ اگر کبھی بزرگ کی قبر پر گیا ہو تو اللہ اسے کبھی معاف نہ کرے اور جہنم سے سب سے گہرے گھڑے میں اوندھے منہ گرائے ۔ قاری صاحب نے وعدہ معاف گواہ بننے پر شیدے اور کچھ اور بے گناہوں کو معاف کر دیا ۔اب وہ دم سادھے مجرمین کو پٹتا دیکھ اور دل ہی دل میں شکر کا کلمہ پڑھ رہے تھے کہ ان سے آج تک ایسا کوئی جرم سرزد نہیں ہوا۔
" آخر تمہیں سوجھی کیا تھی ۔ اور کیا سوچ کر تم لوگ ایسی الٹی سیدھی حرکتیں کرتے پھرتے ہو ۔ تمہاری کھوپڑیوں عقل نامی چیز سے خالی ہیں کیا ؟. کسی دن نہر میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے تو سوچا ہے کیا ہو گا ۔ تمہارے والدین تو جیتے جی مر جائیں گے ۔ اور قرآن کی تعلیم سے محروم رہے تو جاہل بن کر زندگی گزارو گے اور ہر سعادت تم سے چھن جائے گی۔ اب تم لوگ بتاؤ مجھے کہ بابا جی تمہارے ساتھ دوستی کر رہا یا دشمنی ۔ کیا بابا نہیں چاہتا کہ تم قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرو۔ کیا وہ چاہتا ہے کہ کسی روز تم لوگ ڈوب مرو ۔ ارے احمقو میں بابا جی کا دشمن تو نہیں ہوں ۔ میں دل سے مانتا ہوں کہ وہ اللہ والے ہیں ۔ تو کیا انہیں یہ مقام کسی بزرگ کو سلامیاں دینے سے ملا ہے ۔ اللہ اللہ کرتے رہے ہیں تمام عمر ۔ تعلیم حاصل کی ۔ قدم قدم پر اپنے بڑوں کا ادب کرتے تھے ۔ ساری عمر دکھی انسانوں کے کام آتے رہے ۔ تب کہیں جا کر انہیں یہ رتبہ ملا ہے کہ ان کی مزار پر رب سے دعا کی جائے تو بگڑے کام سنور جاتے ہیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں جو تم لوگوں نے اپنا رکھا ہے ۔ اگر تم کچھ بننا چاہتے ہو ۔ مر کر بھی زندہ رہنا چاہتے ہو تو ان جیسے کام کرو ۔ خبردار آئندہ میں تمھیں ایسی حرکتیں کرتا نہ دیکھوں ".
وہ وہاں کبھی نہیں گیا تھا لیکن ایک حسین اتفاق اسے بابا جی کے پاس کھینچ لایا تھا ۔ ان سے منسوب ساری باتیں اس کے دل نے مان لی تھیں۔ وہ اچانک جھکا اور اس نے بزرگ کے سینے پر بوسہ دے دیا واپس مڑنے سے پہلے اس کا ہاتھ ماتھے کی طرف بڑھ گیا اور اس نے پہلی سلامی پیش کر دی ۔
آگے کی کہانی بہت سادا ہے ۔ اسے اسی دن اپنے دور پار کے اسی چچا کے ہاں پناہ مل گئی جہاں اس نے پچھلی رات گزاری تھی ۔ اسے ٹھکانا بھی مل گیا تھا اور کھانا بھی ۔
اس واقعے کو پچاس سے زیادہ برس ہو گئے ہیں۔ عبد الرشید آج دادا اور نانا بن چکا ہے ۔ پتہ نہیں یہ کجھوروں کا اثر تھا یا بابا جی کی دعائیں کا کہ وہ دن ہے اور آج کا دن ۔ اسے کبھی شدید بھوک محسوس نہیں ہوئی نہ ہی وہ کبھی ایک بھی دن بھوکا سویا ہے ۔ سال چھ ماہ بعد جب اس کا دل کسی بات پر پریشان ہوتا ہے یا بابا کی یاد میں مچلتا ہے تو خود بخود اس کے قدم مزار کی طرف اٹھ جاتے ہیں ۔ وہ جب مزار کے سامنے پہنچتا ہے تو بے اختیار اس کے قدم سولنگ پر رک جاتے ہیں ۔ شاید اس کے مسلکی نظریات اس کے قدموں کی زنجیر بن جاتے ہیں ۔ لیکن وہ دل کا کیا کرے جو اسے وہاں کھینچ لے جاتا ہے ۔ جب وہ وہاں پہنچتا ہے تو وہ اسی دور میں واپس پہنچ جاتا ہے جب وہ نو دس برس کا بچہ تھا اور رو رو کر بابا جی کو حال دل سنا رہا تھا۔ اس پر رقت طاری ہو جاتی ہے سر اور دل احترام سے جھک جاتے ہیں ' آنکھوں کے گوشے نمی سے بھیگ جاتے ہیں اور اس کا ہاتھ بے ساختہ ماتھے کی طرف اٹھ جاتا ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safder Hydri

Read More Articles by Safder Hydri: 75 Articles with 23796 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2019 Views: 385

Comments

آپ کی رائے