درد زندگی قسط نمبر :- 2

(Aiman Shah Bangash, Islamabad)

سر ہادی !! ان کی تین کلاسز لیتے تھے ۔۔۔پہلی فزکس ،دوسری میتھ ،اور تیسری بریک کے بعد انگلش کی کلاس لیتے تھے ۔۔۔۔

سر ہادی بریک کے بعد کلاس میں آئے تو دیکھا کے انعم اور حیا کلاس میں مواجود نہیں تھیں ۔۔۔
یہ حیا اور انعم کہاں ہیں ۔۔۔۔
سر نے غصے میں پوچھا تو اچانک ایک طالب علم ۔۔۔عزیز بولا کے سر وہ دونوں چھت پہ دھوپ کا مزا لے رہیں ہیں وہ شرارتی انداز میں بولا ۔۔۔۔

سر چیئر سے اٹھ کے حیا اور انعم کو بولانے کے لئے ان کے پیچھے چھت پہ چلے گئے ۔۔۔۔

سر کو دیکھ کے حیا اور انعم چیئر سے اٹھ گیں ۔۔۔
حیا کی دل کی دھڑکن تیز ہونے لگ گئ ۔۔۔۔
سر ہادی نے انعم سے پوچھا کلاس میں کیوں نہیں آئی انعم آہستہ سے بولی سر میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔

سر نے پھر یہی سوال حیا سے پوچھا تو حیا نظریں جھکا کے بولی ۔۔۔

سہ۔۔سہ۔۔سہ ۔۔سر وہ انعم کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی

سر حیا کی طرف دیکھتے ہوئے بولے کیا تم ڈاکٹر ہو ۔۔؟

حیا اچانک بولی ۔۔ن ۔ن ۔نو سر ۔۔۔۔

حیا کلاس میں چلو حیا کو حکم دے کے سر کلاس کی جانب روانہ ہوا ۔۔۔

حیا انعم سے ہاتھ چھڑا کر سر کے پیچھے کلاس میں چلنے لگی ۔۔۔پیپرز شروع ہونے والے تھے ۔۔۔۔اس لئے سر ہر روز ٹیسٹ دیتے تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر نے سب سے ٹیسٹ لیا اور کلاس میں ہی چیک کیا سب کا ٹیسٹ اچھا تھا ۔۔۔۔صرف ایک لڑکے عزیز کے علاوہ

سر نے عزیز سے پوچھا ٹیسٹ کیوں نہیں یاد ۔۔؟

تو عزیز شرارتی انداز میں بولا سر وہ میں نے جان بوجھ کے یاد نہیں کیا ۔۔۔۔

سر نے حیران ہو کے پوچھا کیوں ؟؟

سر وہ میں انگلش کے ٹیسٹ میں فیل ہو کہ انگریزوں کو انکی اوقات دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔

عزیز کی بات سن کے حیا بے ساختہ ہنس پڑی ۔۔۔۔۔

سر غصے سے بولے ایناف آل۔۔۔
سر نے عزیز کو تین دفعہ ٹیسٹ لکھنے کے لئے کہا ۔۔۔

اس کے بعد حیا کی طرف بڑھے ۔۔۔حیا آپ کی کل کی اسائیمنٹ رہتی تھی وہ اس کلاس کے بعد آ کر مجھے دے دینا ۔۔۔

اوکے سر!! حیا دانتوں میں ہونٹ چبا کر بولی۔۔۔
کلاس کے بعد حیا سر کے پاس آئی آسائیمنٹ دینے۔۔۔۔تو سر نے پوچھا کمپلیٹ کی ہے نا ۔۔۔۔۔

گراؤنڈ میں لڑکے فوٹ بال کھیل رہے تھے ۔۔۔حیا انکی طرف دیکھ کے بولی جی سر ۔۔۔

سر نے غصے میں حیا سے کہا حیا میری آنکھوں میں دیکھ کے جواب دو ۔۔۔

حیا سر کی بات سن کے چپ ہوگیی کچھ دیر کے بعد ہمت کر کے بولی ۔۔۔

س ۔س ۔سر کیا مطلب ؟؟
سر حیا کی طرف دیکھ کے بولے مطلب جب مجھ سے بات کر رہی ہو تو تمہارا سارا سارا دیھان میری طرف ہونا چاہیے۔۔۔

سر نے حیا سے اسایمنٹ لیتے ہوئے کہا ۔۔۔

حیا معصوم چہرے کے ساتھ بولی سر اب میں جاؤں ۔۔

سر حیا کی معصوم شکل دیکھ کے مسکرا کے بولے یس !!

حیا گھر آئی تو ماما جانی کو سلام کر کے ھگ کیا ۔۔۔

آج حیا کا کزن جو کے حیا کے ماموں کا بیٹا تھا وہ آیا ہوا تھا ۔۔۔

حیا اسکوں دیکھ کے شرارتی انداز میں بولی واہ ۔۔۔
آج تو برے برے لوگ ائے ہوئے ہے یہ بول کے اس نے پری آپی کو سلام کر کے کس کیا پھر فاطمہ کو ۔۔۔

حیا کی بات سن کے سب ہنس پڑھے۔۔۔۔

اتنے میں ماما کی آواز آئی کے چلو حیا جلدی سے فریش ہو کے کھانا کھانے کے لئے آجاو ہم سب کو بھوک لگی ہے تمہارا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔

حیا اوکے ماما بس تھوڑی دیر میں آئی ۔۔۔یہ بول کے حیا روم میں چلی گیی ۔۔۔

حیا فریش ہو کے آئی علی بھی کالج سے آچکا تھا سب نے مل کے کھانا کھایا۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد سب روم میں آ گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی اور شہری میچ دیکھنے لگے حیا برتن دھونے لگی ۔۔۔۔

ہیلو ڈیر !!
حیا جو پوری طرح برتن دھونے میں مصروف تھی ۔۔۔بری طرح چونکی ۔۔۔۔

اففففف خدآیا !! کیسی دن ہارٹ اٹیک آجائیگا ۔۔۔۔مجھے آپ کی ان حرکتوں کی وجہ سے ۔۔سانس برابر کرتے ہوئے بولی ۔۔۔

اسے کیسے ہارٹ اٹیک آجائےگا تم فضول فضول بکواس مت کیا کرو ۔۔۔۔

اچھا اور آپ جو مجھے ہر وقت ڈراتے رہتے ہیں بندا آنے سے پہلے بتا دیتا ہے۔۔۔
برتن دھوتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

اچھا تو آئندہ پہلے تمہیں انفارم کرونگا کے میں شہزادی تم سے مخاطب ہونے لگا ہوں۔۔۔۔

دونوں بازوں سینے کے گرد لپیٹتے ہوئے حیا کی طرف دیکھ کے بولا ۔۔۔

گڈ آئیڈیا !! ویسے اس وقت آپ یہاں کیا کر رہے ہے ۔۔۔آپ تو بھیا کے ساتھ میچ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

علی کے ساتھ میچ دیکھنے میں مزا نہیں آیا تو سوچا تمہاری درشن کرلوں ۔۔۔۔

شہری حیا کو چھیڑتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا ۔۔۔

حیا بری بری آنکھیں نکال کے غصے سے شہری کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

بری بری آنکھوں سے پنک سمپل سی ڈریس میں لاپرواہی سے دوپٹا لیے وہ شہری کے دل کی دھڑکن بڑھا رہی تھی ۔۔۔۔
آپ کے ڈرامے کرنے کی عادات کب جاےگی۔۔؟
حیا شہری کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

تو شہری نے بھی اسے چھیڑتے ہوئے کہا جب تم میرے ڈراموں میں ہیرون بن کے اوگی ۔۔۔

وہ شہری کی بات سن کے بس اسکو گورتے ہوئے رہ گیی ۔۔۔

اتنے میں علی بھی آ گیا ۔۔۔

شہری تو ادر ہے آجا میچ شروع ہونے والا بے ۔۔۔

علی اور شہری میچ دیکھنے لگ گئے ۔۔۔
علیان آید بھی آفس سے گھر آ گئے ۔۔۔۔سب نے مل کے رات کا کھانا کھایا شہری بھی واپس گھر چلا گیا ۔۔۔

حیا بھی آج جلدی سو گیی تھی ۔۔۔۔۔

(ناول :- جاری ہے )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aiman Shah Bangash

Read More Articles by Aiman Shah Bangash: 14 Articles with 6384 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Nov, 2019 Views: 584

Comments

آپ کی رائے