قاتل پتنگ بازی،ذمہ دارکون؟

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

پتنگ بازی دنیا کے کئی ممالک میں کی جاتی ہے،یقینی طورپر مختلف ملکوں میں پتنگ بازی کے اندازبھی مختلف ہوں گے،کہاجاتاہے کہ پتنگ بازی کا کھیل چین سے شروع ہوا،پھرجاپان سمیت دنیا بھر کے لوگوں میں مقبول ہوتا گیا،پاکستان کے طول وعرض میں بھی شائد ہی کوئی علاقہ ایسا ہوجہاں پتنگ بازی نہ کی جاتی ہو،پاکستان میں پتنگ بازی کو موسم سرما کے آخر اور بہار کی آمد پر خاص تہوار کی صورت میں منایا جاتا تھا جسے بسنت کہتے ہیں،بسنت پاکستان کا مقبول تہوار تھا اور لوگ اسے بہت جوش و خروش سے مناتے تھے یہاں تک کہ بیرون ملک سے بھی لوگ بسنت منانے لاہورآیاکرتے تھے،پابندی لگنے سے قبل ایک وقت ایسابھی تھاجب صوبہ پنجاب میں پتنگ سازی چھوٹی صنعت کی شکل اختیار کر گئی تھی،ن لیگ کے دوراقتدارمیں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے پنجاب میں پتنگ بازی پرسخت پابندی عائدکرکے کافی حدتک اس قاتل کھیل کی روک تھام کیے رکھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آتے ہی ایک صوبائی وزیرکے بسنت کاتہوارمنانے اورپتنگ بازی پرپابندی میں نرمی لانے کے متعلق غیرذمہ دارانہ بیان نے ایک بارپھرپتنگ بازی اورپتنگ سازی کوہوادے دی،محترم صوبائی وزیرکواندازہ بھی نہیں ہوگاکہ اُن کے ایک غیرذمہ دارانہ بیان کی وجہ سے شروع ہونے والی پتنگ بازی کے غیرمحفوظ شغل نے کتنی ماؤں کی گوداجاڑدی،کتنی بہنوں سے اُن کے بھائی چھین لئے،کتنے معصوموں کے سرسے باپ کاسایہ چھین لیا،کتنی ہستی بستی دلہنوں کی خوشیاں قتل کرکے انہیں بیوی سے بیوہ بنادیا، پچھلے دنوں مغل پورہ کے علاقے میں 35 سالہ موٹرسائیکل سوار گلے پر ڈور پھرنے سے موقع پرجان کی بازی ہارگیاتھاجس کے بعدوزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فوری نوٹس لیا ‘ جس کے نتیجہ میں ڈی آئی جی آپریشن نے متعلقہ ایس ایچ اوکو معطل کرکے لائن حاضر کردیاتھاپھربھی پتنگ بازی کی روک تھام نہ ہوسکی اور چند روزبعد پھر ایک بچہ قاتل ڈور پھرنے سے شدید زخمی ہوگیا،کچھ دن پہلے پیارابھانجاشاہدعلی نوشاہی ایڈووکیٹ دفترسے گھرواپس آتے ہوئے قاتل ڈورکی زد میں آکرزخمی ہوکرگھرپہنچاتویقین جانیں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کے ساتھ اختلافات کے باجوداُن کیلئے دل سے دعانکلی اوراﷲ تعالیٰ معاف فرمائے موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب اورخاص طورپرصوبائی وزیرفیاض الحسن چوہان کیلئے دل سے جونکلااسے بیان کرناممکن نہیں،یہ بات کون نہیں جانتاکہ پولیس صرف غریب پتنگ بازوں کو گرفتارکرتی ہے جبکہ صاحب حیثیت پتنگ بازوں پرہاتھ نہیں ڈالتی،پابندی کے باجودپتنگ سازوں اورفروخت کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی بجائے پتنگ سازوں، قاتل ڈور تیار کرنیوالوں اورفروخت کرنے والوں کے ساتھ سازباز کرکے انہیں مزید شہریوں کے گلے کاٹنے والی قاتل ڈور،پتنگوں کی تیاری اورفروخت کی کھلی چھٹی دے دیتی ہے،جب تک پتنگ اور ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کیخلاف موثر کارروائی کرکے انہیں عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا تب تک اس خونی کھیل کو روکنا ممکن نہیں،محترم صوبائی وزیرکی غیرذمہ داری صرف ایک صوبائی وزیرپرہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ وزیراعظم عمران خان اورپھروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارپربھی عائد ہوتی ہے،وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد بھی شہرلاہورمیں رات دن پتنگ سازی،فروخت اورپتنگ بازی جاری وساری ہے جس کے سبب روزانہ بہت سارے لوگ قاتل ڈورکی زدمیں آکر،بچے چھتوں سے گرکریاکٹی پتنگ لوٹتے ہوئے حادثات کاشکارہوکرزخمی اوراکثرجان بحق ہوجاتے ہیں،لہٰذامحترم صوبائی وزیراوراُن کے سربراہ بروزقیامت اﷲ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دہی کی تیاری کریں جہاں نہ کوئی دنیاوی عہدہ کام آئے گا نہ کوئی جج یاوکیل کام آسکے گااورہرصورت انصاف کاسامناکرناپڑے گا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 158 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 607 Articles with 250522 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: