ایک گمنام مجاہد آزادی

(Safdar Ali, )

سردار پلو خان کربلائی کا خاندان خاندانی نجابت ،لیاقت، شرافت،سیادت،سماجی و دینی خدمت، حمیت اور علاقائی قیادت کے حوالے سے کسی تعارف کا ہرگز محتاج نہیں۔علی پور کی تاریخ انکی خدمات کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔اور کیوں نہ ہو علاقائی تاریخ کا دامن ان کے ذکرسے چھلکتا ہے۔انکے کارنامے اس تاریخ کے سرنامے کی حیثیت رکھتے ہیں۔انکی خدمات کاسرکاری سطح پر اعتراف وہ ذیلداری بھی تھی جو نسل در نسل انکے خاندان میں منتقل ہوتی رہی۔کسی نے کہا تھا’’فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص‘‘۔مقامِ حیرت و انبساط ہے کہ اس خاندان کے افق پر ایک سے بڑھ کر ایک ستارہ ابھرا اور یوں چمکا کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوا جاتا ہے کہ کس کو اس خاندان کا حقیقی نمائندہ و ترجمان کہا جائے۔

سردارپلو خان کے گھر میں ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جواپنے باپ کا جانشین ہی نہیں خاندان کی حقیقی پہچان بھی ثابت ہوا۔تحریک پاکستان کے عظیم رہنمااور قائدِ اعظم کے جانباز سپاہی و جانثارساتھی کا نامِ نامی سردار کریم بخش حیدری تھا۔تحریکِ پاکستان میں انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔افسوس نااہل و محسن کش قوم اور متعصب مورخوں نے ان تاریخی شخصیات کو فراموش کر ڈالا ۔جو قوم اپنے ماضی کو بھلا دے انکا وہی حشر ہوتا ہے جو ہم اپنی قوم کا بچشمِ خود مشاہدہ کر رہے ہیں۔ افسوس سامراج کو ناکوں چنے چبوانے والے ’’کعبے کے بتوں ‘‘سے ہا ر گئے۔لیکن یہ ہار مجاہدوں کے گلے کا سنگھار ہے اور مفاد پرستوں کے گلے کی رسی۔میرے دادا زندہ ہوتے تو ان کے لب پر یہ شکوہ ہرگز نہ ہوتا کہ وہ حق پرست تھے مفاد پرست نہیں ۔انکی خدمات انکے ملی جذبے کے تحت تھی نہ کہ کسی عہدے کی لالچ کے سبب ۔انکا پوتا اگر یہ شکوہ کر رہا ہے تو محض ریکارڈ کی درستگی کے لئے ۔کیسا غضب ہے اورکیا عجب کہ قومی تاریخ میں ان لوگوں کے نام تو درج ہوں جن کا اعزاز محض یہ ہے کہ انہوں نے (بقول خود انکے )ایک بار قائدِ اعظم کا خطاب سنا تھا یا ان چڑھتے سورج کے پجاریوں کی کہ جو ہوا کے رخ پر اپنا رخ پھیر لیا کرتے ہیں ،لیکن ان کا ذکر ڈھونڈے سے نہ ملے جنہوں نے تن سے من دھن اس مملکتِ خدادا کے قیام ،حفاظت اور مضبوطی کے لئے کام کیا ہو۔ اس اندھیر نگری پرمجھے اپناہی ایک شعر رہ رہ کر یاد آتا ہے
جو راہی نہ تھے راہنما بن گئے
ناخن کٹا کے شہیدِ وفا بن گئے

یہ ہماری تاریخ کا بد ترین المیہ ہے کہ جن لوگوں کے دامن تحریک پاکستان کی پرزور مخالفت کے حوالے سے تار تار ہیں ،آج انہی کے سیاسی وارثین ہمیں اسلام کا سبق پڑھانے بلکہ سبق سکھانے کے درپے ہیں ۔بے ضمیری ملاحظہ ہو کہ شرمندہ ہونا تو رہا ایک طرف گاہے بگاہے یہ فرما کر اپنا خبثِ باطن ایکسپوز فرماتے رہتے ہیں کہ ان کے آباء واجداد پاکستان بنانے کے جرم میں شریک نہیں ۔طالبانی کلچر کے تمام کار پرداز اور انکے حامی سیاسی و مدرسی علماء اسی سوچ کے ناصرف حامل ہیں بلکہ پرچارک بھی ۔سچ ہی تو کہا ہے شاعر نے کہ
نیرنگی سیاستِ دوراں تو دیکھئے
منز ل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

با ت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔قارئین سے معذرت کہ وطن دشمنوں کا ’’ذکرِ بد ‘‘ہو تو قلم جذبات کے آگے سرجھکا دیا کرتا ہے۔لیکن راقم کو اس پر کوئی شرمندگی اس لئے بھی نہیں کہ گھر سے محبت ایمانی و قلبی ہی نہیں قلمی تقاضا بھی ہے۔کاش ہمارے وطن کی پہلی نسل دنیاوی بے رغبتی کی حامل زاہدانہ روش نہ اپنا تی تو آج ہمارے یہ حالات نہ ہوتے ۔موقع پرست ابنِ وقت لوگوں نے جس سے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔اور پھررہی سہی کسر بھٹو ازم نے پوری کر دی جس نے عباسی سیاست کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے اموی سیاست بھی شرما اور گہنا کر رکھ دی ۔

جو قوم اپنے ماضی کی حفاظت نہ کر پائے اس کا حال بد حال ہوتا ہے اور مستقبل ۔۔۔۔۔گمنام بلکہ۔۔۔معدوم ۔جس قوم کی تاریخ کا قافیہ بدل جائے اس کا جغرافیہ کب سلامت رہ سکتا ہے ؟ہمارابہت کچھ تو کب کا بگڑ چکا ہے اور جو باقی بچا ہے اسے ہمارے دشمن اور دوست نما دشمن(مذہبی و سیکولر طبقات انتہا پسند)بگاڑنے ہی نہیں مٹانے پر تلے ہیں ۔ ہمارا ناطہ،واسطہ اور رابطہ اپنے ماضی و محسنانِ ملت سے نہ ٹوٹتا تو وقت ہم پر یوں قیامت بن کر کبھی نہ ٹوٹتا۔افسوس اتنا کچھ گنوانے کے بعد بھی تاحال جڑ نہیں سکا۔ کیا قیامت ہے کہ اس کا احساس تک ہم میں بیدارنہیں ہو پایا۔ہمارا بے سمت میڈیا بھی اس سلسلے میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اکثر یت کا کردار گھناؤنا ہی نہیں گمراہ کن بھی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محب وطن افراد کو آگے آنے دیا جائے ۔لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب ولن کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی روش ترک کی جائے گی ۔اس طرزِ عمل نے درد مندانِ قوم کا بہت دل دکھایا اور سینہ جلایا ہے

میرے داداسردار کریم بخش حیدری کی شخصیت کا نمایاں پہلو ،قائد اعظم کا قریبی رفیق ،جانثار ساتھی اور فداکار سپاہی ہونا ہے۔اس پکے مسلم لیگی نے اپنی ساری عمر پاکستان کے استحکام کے لئے کا م کیا۔بابائے قوم کی محبت انکے نزدیک کسی فریضے سے ہرگز کم نہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب انکی رحلت ہوئی تو انہوں نے اپنے قائد کے لئے یوں فرشِ عزا بچھائی جیسے انکے اپنے خاندان کا کوئی بزرگ ،کوئی بڑا بھائی اس دنیا سے منہ موڑ گیا ہو۔ انکی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں ہرگزممکن نہیں ۔جب جب انکا ذکر کسی زبان پر آتا ہے تو مجھے انکا ایک کارنامہ فوراً سے پیشتر یاد آجاتا ہے ۔قیام پاکستان کے وقت قائدِ اعظم کے حسبِ فرمان ہندو تارکینِ وطن کو باحفاظت ان کے وطن چھوڑ آنا اور وہاں سے سادات عظام اور دیگر مسلمانوں مہاجرین کو اپنے ساتھ واپس لانا ،انکی آباد کاری کے سارے انتظامات کرنا مرحوم دادا کا ایک ایسا کارنامہ ہے جسے سن کر آج بھی دل کی کلی کھل اٹھتی ہے اور محبت نماعقیدت دریچہ دل میں کسی چراغ کی جل اٹھتی ہے

میرے بابا سردار کاظم علی حیدری کی وفات پر تعزیت کے لئے آنے والے خاندا ن کے ایک بڑے نے میرے دادا کا ذکر خیر کیااور ایک واقعہ سنایاتو وہ اس تحریر کا محرک ثابت بن گیا۔ بات کرتے کرتے انکی آواز بھراگئی تو میں نے بے اختیار انکے چہرے پر نظر کی ۔آواز کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں ۔فرمانے لگے یہ سن 65کا ذکر ہے جب ہمارے مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں پاک سرزمین پر حملہ کر دیا ۔سردارکریم بخش حیدری اس وقت نشتر ہشپتال ملتا ن میں زیرِ ِ علاج تھے ۔انکو گردوں کا عارضہ لاحق تھا اور انکی حالت انتہائی نازک تھی۔ڈاکٹروں نے نہیں لکھنے پڑھنے حتیٰ کہ بولنے تک سے منع کر رکھا تھا ۔بڑی کوشش کی گئی کہ انہیں اس کانفرنس کی بھنک نہ پڑے جو دفاع وقت کے حوالے سے انکے آبائی شہر میں منعقد ہونے کو تھی۔لیکن اتفاق یہ ہوا کہ کوئی آدمی تیمارداری کے لئے آیا تو اس کی زبانی یہ بات دادا جان کے کانوں تک جا پہنچی۔بس پھر کیا تھا اس محبِ وطن نے اسی وقت علی پور جانے کا پروگرام بنا لیا ۔انکے ساتھ ہسپتال میں موجود گھر کے افراد کو تب پتہ چلا جب انہوں نے انہیں بسترِ علالت سے کھڑے ہوئے دیکھا۔لاکھ سمجھانے پر بھی باز نہ آئے ۔یہ کہہ کر سب کو لاجواب کر دیا کہ اس پودے کواگایا اور سینچا بھی ہم نے تھا اور بچائیں گے بھی ہم ہی۔علی پور لائے گئے ۔اسٹیج پر آئے تو خطابت کے اس شہسوار کو یہ یاد ہی نہ رہاکہ انکی صحت اور جسمانی حالت اس جوش کی ہرگز متحمل نہیں ہوسکتی ۔ بیس منٹ کا یہ جوشیلہ خطاب ابھی جاری تھا کہ گردوں میں شدید دردا ٹھا۔خطاب پھر بھی جاری رہا۔جب تقریر ختم ہوئی تو ہمت جواب دے چکی تھی۔وہیں سے نشتر منتقل کیا گیالیکن جانبر نہ ہوسکے اور اگلے ہی دن یہ گمنام مجاہد اگلی دنیا کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔وہاں ،جہاں سے واپس آتے کبھی کسی کو دیکھا نہیں گیا۔

اکثرلوگوں کی شہرت انکی بدنامی کا سبب ہوتی ہے تو کچھ مردانِ خداایسے بھی ہوتے ہیں جن کی گمنانی ہی دراصل انکی نیک نامی ہوتی ہے ۔میرے دادا قومی تاریخ کے ایسے ہی گمنام مجاہد تھے ۔اللہ انکی قبر پر لاکھوں رحمتیں نازل کرے اور ابدی سعادت سے ہمکنار کرے(آمین)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 82 Print Article Print
About the Author: Safdar Ali

Read More Articles by Safdar Ali: 36 Articles with 4216 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: