ایک خط میرے سسرال کے نام۔۔۔جنہوں نے میری قدر نہیں کی!


اے میرے خوابوں کی سب سے پہلی سرزمین،
تمہیں میرے گزارے ہوئے پچیس برسوں کی اس ریاضت کا سلام جسے تمہاری خود ساختہ انا پرستی نے کبھی پنپنے نا دیا۔۔۔

میرے سسرال میں تمہیں الفاظ میں شاید کبھی نا بتا پاؤں کہ میرے لئے تم ہمیشہ سے ایک ایسے محل کی مانند تھے جس میں قید ہونے کے لئے میں اپنے آپ کو خود اپنی سلطنت سے نکالنے کے لئے راضی تھی۔۔۔میں صرف بیس برس برس کی تھی جب میری شادی ہوئی اور میں آپ کے گھر میں آئی۔۔۔بیس برس کی لڑکی خود سے دس برس عمر میں بڑے آدمی کے ساتھ اس کے فرائض کو بانٹنے، اس کی زندگی کو سنوارنے، اس کے رشتوں کو جوڑنے، اس کے گھر کے سارے کاموں کو بخوبی سر انجام دینے کی نیت سے لائی گئی۔۔۔

لیکن کاش کہ کبھی کسی نے اس بیس برس کی لڑکی کو ایک سے زائد بار غلطیوں پر ہنس کر نظر انداز کر کے بھی دیکھا ہوتا، کاش کہ اس بیس برس کی لڑکی کو اجازت ہوتی کہ وہ اپنی مرضی سے بھی سو کر اٹھے، اپنی مرضی سے بغیر بتائے اپنی ماں سے کچھ دل کی باتیں چھپ کر بھی کر سکے، وہ کبھی تو بغیر برتن دھوئے بھی کچن سے نکل سکے اور یہ اطمینان رکھے کہ اس کا کام کوئی بانٹ لے گا، کبھی تو اسے بھی یہ احساس ہو کہ اس گھر میں وہ اپنے جذبات کو کھل کر بیان کر بھی دے گی تو اسے منفی سوچ کے ترازو میں نہیں تولا جائے گا۔۔۔ماں باپ کی طرح اس کی ناراضگی، اس کی ضد ، اس کے غصہ کو ایک لمحہ کے لئے سہہ بھی لیا جائے گا۔۔۔

مجھے یاد ہے آج بھی جب بچے کی پیدائش سے پہلے مجھے بار بار یہ کہا جاتا تھا کہ یہ تو پوری دنیا کی عورتیں کرتی ہیں۔۔۔اس کو بیماری مت سمجھو، اس میں کام کرتے ہیں ۔۔۔لیکن ان نو ماہ میں کبھی اس حالت میں فرائض کو بخوبی انجام دینے والی عورت کے لئے کوئی تعریف اور احساس کے دو بول بھی نہیں بولے۔۔۔میں اس دن پہلی بار اپنے اندر گھٹ گئی۔۔۔

میرا بچہ ابھی دانت نکال رہا تھا اور میں کچن میں دعوت کے لئے کھانا تیار کر رہی تھی، میری بہن کی عیدی اس کے سسرال جا رہی تھی لیکن میں اپنی نند کے آنے والے رشتوں کے لئے ناشتے کا انتظام کر رہی تھی، میری بچپن کی سہیلی شادی کے بعد مجھ سے ملنے آنا چاہتی تھی لیکن گھر میں تناؤ ہونے کی وجہ سے میں اسے بلانے کی اہل نا تھی۔۔۔میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزری لیکن کسی کو پتہ نا چلا، میں کئی بار اپنی خواہشات کو دبا کر سسرال کی خوشیوں کو منانے لگی لیکن کسی کو پتہ نا چلا، میں ایک چھوٹے سے کمرے میں اپنے شوہر، دو بچوں، ساز و سامان کے ساتھ اپنے خوابوں کی کرچیاں سمیٹتی رہی لیکن کسی کو خبر تک نا ہوئی۔۔۔
 


میرے پیارے سسرال مجھے بہت برا لگا جب بھی میرے بچوں کی کسی بھی اخلاقی کمی کی بناء پر مجھے یہ سننے کو ملا کہ پتہ نہیں ماں نے کیسی تربیت کی ہے۔۔۔کیونکہ میری تربیت کی راہ میں رکاوٹ تو خود آپ لوگ تھے۔۔۔ساری محبت اور لاڈ آپ کو میری اولاد پر اسی وقت آتا جب میں اسے کسی بات پر ڈانٹ رہی یا سمجھا رہی ہوتی۔۔۔ایک چھوٹا سا جھوٹ ہی تو بولا ہے ، اب کیا اس کی جان لے لو گی۔۔۔ایک پینسل ہی تو لے کر آیا ہے دوست کی کوئی چوری تھوڑی کی ہے۔۔۔ایک ذرا سی ضد ہی تو کی ہے دکان پر اب کیا کوئی بات بھی نہیں مانو گی۔۔۔ایک ذرا سا جاگنا ہی تو چاہتا ہے رات میں اب کیا پی ایچ ڈی کرواؤ گی بچے سے۔۔۔یہ ایک ایک ذرا ذرا کر کے مجھے میرے بچوں سے دور لے کر جانے لگے لیکن میں اپنے ہی بچوں کو اپنے انداز سے پالنے کی مجاز نا تھی۔۔۔

ذمہ داریوں کے بوجھ تلے میری زندگی کے پچیس برس کیسے بیتے ، مجھے پتہ ہی نا چلا۔۔۔آج یونہی گزرتے ہوئے کچھ اوراق اپنی پرانی ڈائری کے پڑھے تو یاد آیا کہ میں تو ایک بہت اچھی مقررہ تھی، میں تو وہ لڑکی تھی جسے میتھس میں گولڈ میڈل ملا تھا اسکول میں اور ابو کہتے تھے کہ میری بیٹی اچھے اچھوں کا حساب ٹھیک کردے۔۔۔وہ جان ہی نا پائے کہ میں تو کبھی اپنے ہاتھ میں اپنے لئے اپنی مرضی کا نوٹ بھی نا دیکھ پائی جسے میں خود اپنے اوپر آزادی سے لٹا بھی سکوں۔۔۔اس ڈائری میں ایک جگہ میں نے بہت فخر سے لکھا تھا۔۔۔
مجھے ہرانا ناممکن ہے

میرے پیارے سسرال۔۔۔تمہیں بس یہ بتانا ہے کہ تم نے میرے پچیس سال جیت لئے۔۔۔کیونکہ اب میری زندگی میں سسرال کی خدمت کا انعام ضرور ہے لیکن اپنی ذات کے ساتھ نا انصافیوں کا ایک بوجھ بھی ہے۔۔۔جو اب مرتے دم تک میرے ساتھ رہے گا۔

ایک خاموش خدمت گزار بہو
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3322 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: