جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے، محاورہ غلط ثابت ہوگیا!


یہ تو آپ نے پڑھا اور سنا ہو گا کہ اچھی صحت کے لیے اچھی نیند ضروری ہے۔ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اچھی نیند کا تعلق اس درجہ حرارت سے ہے جو انسان کا قدرتی تھرمو سٹیٹ ارد گرد کے ماحول کی مناسبت سے ایڈجسٹ کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں پرسکون نیند آپ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے شعبہ دماغی امراض کے پروفیسر فلپ گیرمن کہتے ہیں کہ نیند انسان پر وہی اثرات مرتب کرتی ہے جو کارکردگی بڑھانے والی دوا کے ہوتے ہیں۔

گیرمن بہتر نیند سے متعلق ایک کمپنی ایٹ سلیپ کی سائنسی مشاورتی کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ کمپنی پرسکون اور خوشگوار نیند کے لیے جدید میٹرس تیار کرتی ہے۔ یہ میٹرس سونے والے کے درجہ حرارت کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت خوشگوار اور پرسکون نیند میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نیند کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ آپ کتنے گھنٹے سوئے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بارہ گھنٹے سونے کے بعد بھی خود کو تھکا تھکا محسوس کریں کیونکہ بے آرام نیند چاہے وہ کتنی طویل ہی کیوں نہ ہو، آپ کو ہشاش بشاش نہیں کر سکتی۔ نیند کے دوران پیش آنے والی کوئی معمولی سی بے آرامی بھی گھنٹوں کی نیند کا اثر زائل کر سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کی ایک حالیہ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ نیند کے معمول میں تبدیلی کے بھی نیند کے معیار اور اس کی مقدار پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، یعنی معمول آپ سے کم سوتے ہیں اور جب بیدار ہوتے ہیں تو تازہ دم نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں کام کے دوران آپ دباؤ اور پریشانی محسوس کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس سلسلے میں ایک اور تجربہ کیا اور ایک رات بہتر نیند نہ لینے والوں کو اگلے روز جلد سونے کا کہا تاکہ وہ اپنی نیند کی کمی پوری کر لیں۔ لیکن اس کا نتیجہ مزید خراب نکلا۔ وہ نہ صرف یہ کہ ڈھب سے سو نہیں سکے، بلکہ اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئے تو پہلے سے زیادہ تھکے ہوئے تھے۔ گویا ضرورت سے زیادہ سونا فائدہ مند نہیں ہوتا۔
 


یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا کے معمر افراد پر تحقیق کے شعبے کی پروفیسر سومی لی کی ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ اگر رات کو آپ کی نیند اچھی ہو تو اگلے روز اپنے کام پر آپ کی کارکردگی بہتر ہو گی اور آپ آسانی سے مسائل پر قابو پانے کے قابل ہوں گے۔

سٹین فورڈ یونیورسٹی میں بیالوجی کے پروفیسر کریگ ہیلر کہتے ہیں کہ سونے کا درجہ حرارت سے گہرا تعلق ہے اور درجہ حرارت میں معمولی کمی بیشی سے نیند کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ماحول کا درجہ حرارت ہمارے جسم سے کم ہو تو گہری نیند آتی ہے اور سونے کے دوران آنکھ بھی کم ہی کھلتی ہے۔ بہتر نیند لینے والے لوگ اگلے روز اپنی ذمہ داریاں زیادہ خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں۔

پروفیسر ہیلر کہتے ہیں کہ ہمارے جسم کا درجہ حرارت ایک قدرتی تھرموسٹیٹ کنٹرول کرتا ہے۔ جو ہمارے دماغ کے اندر ہوتا ہے۔ یہ تھرمو سٹیٹ ہماری جلد کے درجہ حرارت پر نظر رکھتا ہے اور وہ خود کو اس کے مطابق سیٹ کرتا ہے۔ نسبتاً ٹھنڈے ماحول میں آپ کا تھومو سٹیٹ نیند کے لیے جسم کو راحت بخش درجہ حرارت پر ایڈجسٹ کر لیتا ہے جس سے آپ پرسکون نیند لے سکتے ہیں۔

میٹرس بنانے والی اکثر کمپنیاں درجہ حرارت پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں اور ہوادار میٹرس بنا رہی ہیں، تاکہ جسم کی گرمی سے اس کا درجہ حرارت بڑھنے نہ پائے اور اس پر آرام دہ نیند آ سکے۔

آخری اور اہم بات یہ ہے کہ بڑی کامیابی بڑا خواب دیکھنے سے آتی ہے اور بڑا خواب تب آتا ہے جب آپ کی نیند پرسکون اور آرام دہ ہو۔


Partner Content: VOA
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 835 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: