انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہماری تنزلی

(Sheikh Muhammad Hashim, Karachi)
تخلیق انسانی کے وقت اللہ پاک نے فرشتوں کوحضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اس طرح نسل انسانی کو تمام مخلوق پر فضیلت حاصل ہوئی
خالق کائنات نے انسان کو صاحب تکریم کی حیثیت دے کر دُنیا میں پیدا کیا ہے غرض یہ کہ اسلام نے مکمل اور جامع انداز سے حقوق انسانی کا احاطہ کردیا ہے۔

تخلیق انسانی کے وقت اللہ پاک نے فرشتوں کوحضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اس طرح نسل انسانی کو تمام مخلوق پر فضیلت حاصل ہوئی۔پھرحضور اکرم ﷺنے انسانیت کو آفاقی تعلیمات دے کر ہر نوع کی غلامی،ظلم،جبر و استحصال سے آزاد کردیا،قران حکیم کا جملہ "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا:جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اُس نے پوری انسانیت کو زندہ کر دیا۔کس خوبصورتی سے ربُ العزت نے انسانی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔

پیارے نبی ﷺ بعثت کے وقت بھی انسان کئی طبقات میں تقسیم تھے جس کے باعث قومیں کئی تضادات کا شکار تھیں معاشرے کے طاقتورافراد کمزور طبقے کے افراد کو اپنا غلام بناتے تھے اور نسل در نسل اپنے رحم وکرم پر رکھتے تھے۔ طاقتور طبقے کا من ماناقانون کمزور طبقے کے مقدر کا فیصلہ کیا کرتا تھا۔اللہ کے پیغمبرﷺ نے بنی نوع انسان کو آفاقی تعلیم سے سرفراز کرتے ہوئے فرمایا"کائنات کے کسی بھی حصے میں یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنے جیسے انسان کی تکریم کی پامالی کرتا پھرے،خالق کائنات نے انسان کو صاحب تکریم کی حیثیت دے کر دُنیا میں پیدا کیا ہے،لہذا عربی ہو یا عجمی گورا ہو یا کالا کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں "انسانی حقوق کا بہترین درس اسلام کے پاس موجود ہے۔انسان کے بنیادی حقوق،انفرادی یا اجتماعی حقوق،خواتین و بچوں کے حقوق،اقلیتوں اور غیر مسلموں کے حقوق،سینئر شہریوں اور معذوروں کے حقوق غرض یہ کہ اسلام نے مکمل اور جامع انداز سے حقوق انسانی کا احاطہ کردیا ہے۔جدید دور میں انسانی حقوق صرف لکھنے،کہنے یا ترغیبی یا تحسینی نوعیت کی حد تک محدود ہوگئی ہے جبکہ اسلام محض ترغیب و تحسین تک اکتفاء نہیں کرتا بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

10دسمبر کو دُنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کومنانے کامقصد انسانوں کے حقوق کی قدروقیمت کو اُجاگر کرنا ہے۔10دسمبر 1948کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی منظوری دی۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے ممبران ممالک پر زور دیا کہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے۔چونکہ انسانی حقوق سے لا پرواہی اور ان کی بے حرمتی کے نتائج بھیانک اور وحشیانہ اشکال میں ظاہر ہوتے ہیں۔عام انسانوں کی بلند ترین خواہش ہوتی کہ ہر بنی نوع کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی مکمل آزادی ہو۔

اقوام متحدہ کے ممبر ملکوں سے یہ عہد لیا گیا ہے کہ ہر ملک اشتراک عمل سے اُصولاً اور عملاًانسانی حقوق اور بنیادی آزادی کا بِلا تفریق احترام کریں گے اور کروائیں گے۔تمام ممبر ان ممالک نے یہ عہد بھی کر رکھاہے کہ ہر انسان کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہوگا۔عوام کو اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوگی۔قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے۔اسی طرح رنگ،نسل،ذات پات اورلسان کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جائے گا۔کسی بھی فرد کو ظالمانہ طریقے سے نہ تو گرفتار کیا جائے گا اور نہ ہی اُس پر تشدد کیا جائے گا۔کسی بھی ملزم کو اُس وقت تک بے قصور سمجھا جائے گا جب تک کہ اُس پر مکمل طور پر جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔سماجی رکن کی حیثیت سے ہر فرد کو معاشرتی تحفظ کا حق حاصل ہے اور یہ بھی حق ہے کہ وہ ملک کے نظام و وسائل کے مطابق قومی کوشش اور بین الاقوامی تعاون سے اپنے لئے اقتصادی،معاشرتی اور ثقافتی حقوق حاصل کرے جو اُ س کی آزاد آنہ نشو نما کے لئے ضروری ہے۔ہر فرد کو کسی تفریق کے بغیر مساوی کام کے لئے مساوی معاوضے کا حق حاصل ہوگا۔ہر فرد اپنی قابلیت کی بنیاد پر معقول مشاہرے کا حق رکھتا ہے جو اس کے اور اس کے خاندان کے لئے باعزت زندگی گزارنے کا ضامن ہو۔ ہر شخص کو اپنے مفاد کے بچاؤ کے لئے انجمنیں قائم کرنے یا کسی بھی انجمن میں شامل ہونے کی آزادی حاصل ہوگی۔ ہر شخص کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا،کم سے کم ابتدائی درجے کی تعلیم مفت اور جبری ہوگی،لیاقت کی بنیادپہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگاجس میں ریاست اُس کی مدد گار ہوگی۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ہمارا مقصد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے قوانین یا انسانی حقوق کے اسلامی چارٹر (میثاق مدینہ) کا تقابلی جائزہ لینا نہیں ہے۔دونوں صورتوں میں فلاح کا رُخ اُس پگڈنڈی کی طرف ہے جس کا راستہ تعمیر و ترقی کی جانب جاتا ہے۔لیکن شائد ترقی و تعمیر کی ہمیں ضرورت نہیں۔

سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کیا وسائل سے مالامال، مسلم ممالک کا واحد ایٹمی طاقت، پاکستان میں اقوام متحدہ یا مثاق مدینہ کے قوانین کے مطابق عوام کواُن کے جائز حقوق حاصل ہیں؟تو جواب نفی میں ہوگا۔پاکستان کے طول وعرض تک کا جائزہ لیا جائے تو ہر سو ختم نہ ہونے والی نا انصافیوں کا سلسلہ نظر آئے گاایسی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ انسانیت لرز جاتی ہے، انسانی حقوق کی پامالیوں کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ یہاں غریب ومتوسط طبقے کی زندگیوں کو اجیرن بنانے والے بااثر اشرافیہ سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا مواخذہ کون کر سکتا ہے؟ یہاں کے سرد مہرے حکمرانوں سے عوام کی خیر خواہی کی کوئی توقع نہیں، انھوں نے مفادات کے تکیوں کو سینے سے لگا لیا ہے قوم کو یکجا کرنے کے بجائے تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔کس کس کا نام لیا جائے کہ سیاہ نامہ طویل الذیل ہے اس رعایت یافتہ طبقے نے جو مجنونانہ و مجرمانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال دیتے ہوئے ہم شرمندہ ہیں۔جس ملک میں انسانی حقوق کے قانون کی دھجیاں تارتار کی جارہی ہوں اورجو معاشرہ افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہو وہ صحت مند خواب دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ہم تعمیر وترقی کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہم قومی حیثیت سے افلاس و جہالت کے جس نقطے پر کھڑے ہیں وہاں سے تعمیر و ترقی کی منزل دورکہیں بہت دور تلک بھی نظر نہیں آتی،اس کے بارے میں سوچنا بھی اپنے آپ کو ہمت شکنی اور زبوں ہمتی کے آزار میں مبتلا کرنا ہےتعمیر و ترقی اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک سبزوسُرخ کی تقسیم کے بغیر قوانین کی پاسداری کو اپنا شعار نہیں بنالیتے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 510 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sheikh Muhammad Hashim

Read More Articles by Sheikh Muhammad Hashim: 77 Articles with 59833 views »
Ex Deputy Manager Of Pakistan Steel Mill & social activist
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: