محبت کے آنسو

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

آج کچھ اداسی سی چھا گئ ۔ لیکن مایوسی کے جھکڑ چلنے سے پہلے حامد رحمت کی امید کے تنے سے سہارا لے کر کھڑا ہو گیا اور اس پھل دار درخت کا سہارا لیتے اور سیکھتے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں پھل دیتا ہے اور سایہ دیتا رہتا ہے ۔ کوئ اسے چاہے نا چاہے وہ پھل دیتا رہتا ہے۔
اسی درخت کو اپنا پیر مان کر اس نے سوچا کہ سانولی اپنی بہن کی محبت میں اس کے کہنے پر ناگن بن کر باتوں کا زہر اگلے بھی تو وہ اس کا خیال رکھتا رہے گا اور پیار کرتا رہے گا۔
حامد یہ جان چکا تھا کی سانولی اس سے شدید محبت کرتی ہے مگر وہ اپنی گھریلو مجبوریوں اور برادری میں بھرم رکھنے اور اپنا گھر قائم رکھنے پر مجبور ہے ، اور اس میں سانولی کا ساتھ دینا چاہیے اور اسے کچھ نہیں چاہیے سواے سانولی کے پیار اور اس پکار کی جو اس کے دل سے آتی ہے ۔
صرف سانولی ہی نہیں وہ خود بھی اس کے پیار میں اک مجبور ہے اور کرنا اس نے ضرور ہے اور اس میں ایک سرور ہے لیکن ساتھ محبوب کا غرور ہے ۔

اک رکاوٹ ضرور ہے کہ شائد عورت پر زہنی پیار کا غلبہ زیادہ ہوتا ہے اور مرد پر جسمانی پیار کا ملبہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ دونوں کی روح محبت سے سرشار ہوتی ہیں ۔
پیار یکطرفہ نہیں ہو سکتا اور ہو جاے تو چل نہیں سکتا اور چل جاے تو پل نہیں سکتا ۔

اگر عورت مرد کے جسمانی قرب کو کبھی کبھی برداشت کر لے اور مرد عورت کے زہنی پیار کو بھی اہمیت دے تو شائد مسئلہ حل ہو جاے۔
حامد کے پیار میں کئ سال سے رکاوٹیں آے جا رہی ہیں ، تھکاوٹیں چھاے جا رہی ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے سے دور نہیں ہو پا رہے ہیں ۔
وہ اس بات پر عمل کر کے بھی دلوں کی قربت کم نا کر سکے

اب بھی دلکش ہے ترا حُسن مگر کیا کیجئے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نا مانگ

حامد کو اندازہ ہو رہا تھا کہ جہاں شدید پیار ہو وہاں نفرت کے بھوت بھی چمٹتے ہیں ، راستے نا دور ہوتے ہیں نا سمٹتے ہیں ۔ دل نرم بھی ہوتا ہے اور انسان غصہ سے گرم بھی ہوتا ہے۔ عزت بھی ملتی ہے اور رسوائیاں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔

کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

حامد کے کان میں کوئ کہے جا رہا ہے لیکن وہ محبت کے آنسوؤں میں بہے جا رہا ہے۔ کوئ کہہ رہا ہے۔

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں

دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا

گم تھا تیرے ہی دھیان میں تری آس تیرے گمان میں

صبا کہہ گئی مرے کان میں مرے ساتھ آ اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشک غم ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم

تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 127 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 213 Articles with 59186 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: