انیسواں ادھیائے کی قدریاتی معنویت اور جمالیاتی لطافت

(Ajai Malviya, India)

جناب نند کشور وکرم معاصر اردو ادب کے محترم اور بر گزیدہ قلم کار ہیں۔ ان کا یہ قابلِ ذکر و قابلِ قدر سوانحی ناول سال 2001 میں منظرِ عام پر آیا۔ جس میں ناول نگار نے اپنی آپ بیتی بیان کی ہے۔ انیسواں ادھیائے ناول تاریخ کا ایک حصہّ ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس ناول میں مصنف کی پیدائش سے لے کر 1947 تک اور 1947 کے بعد مجبوری اور بے بسی کے عالم میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہندوستان کی طرف ہجرت اور ان کی آپ بیتی اور جگ بیتی کا احاطہ کرتا ہے۔ نند کشور وکرم کے مطابق انیسواں ادھیائے ایک تجزیاتی ناول ہے۔ اس ناول میں مصنف نے ’’میں کون ہوںِ؟‘‘،’’انجام‘‘،’’مٹّی کی خوشبو‘‘،’’پدرم سلطان نبود‘‘جرثومے کا معجزہ‘‘،’’آزادی کی راہ پر....‘‘محوِحیرت ہوں کہ.....‘‘،’’وصیت‘‘،’’خدا....ایک پہیلی‘‘،’’ریپ آف راول پنڈی‘‘،’’ہجرت ایک اذیت ناک زخم‘‘،’’امن.....ایک دیوانے کا خواب‘‘،’’چھُٹے اسیر تو.....‘‘،’’مذہب ہمیں سکھاتا‘‘،’’موت‘‘،’’ہم کو معلوم ہے....‘‘،’’دوزخ.....آگ ہی آگ‘‘اور ’’انتم ادھیائے‘‘ عنوانات کے ذریعہ ہجرت کے درد و کرب،رنج و غم کی الم ناک اور درد انگیز تصویراورزندگی کی تلخ اور بے رحم سچائی کو بڑے ہی تخلیقی بصیرت اور فنی لطافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔انیسواں ادھیائے میں ناول نگار نے بچپن کی تمام یادوں کو قید کر لیا ہے جو ملک کی تقسیم کی نذر ہو گیا تھا۔راول پنڈی کا وہ آبائی صوبہ جہاں پر نند کشور وکرم کا بچپن پروان چڑھا، پلے بڑھے اور جہاں پر اس کی چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں، آبائی گھر، پرائمری اسکول و بچپن کے دوست وغیرہ صرف نند کشور وکرم کی یادوں کا حصّہ بن کر اس ناول پیں جلوہ گر نہیں ہوتے ہیں بلکہ بھرے پُرے کردار کی شکل میں ابھرتے ہیں اور دیگر کرداروں کی طرح ہی اپنا نقوش چھوڑتے ہیں۔
شری مد بھگوت گیتا کے اٹھارہ ادھیائے کے خاتمے کے بعد نند کشور وکرم نے انیسواں ادھیائے کی تخلیق کی ہے۔ ناول نگار نے مہابھارت کو اساس بنایا ہے۔ جس میں ناول نگار نے اس بات پر زور دیا ہے کوروکشیتر کے میدان میں صرف کوروؤں اور پانڈوؤں کی جنگ نہیں ہوئی تھی بلکہ ہندوستانی تہذیب، ہندوستانی ثقافت اور ہندوستانی تمدن کا خاتمہ ہوا تھا۔ ہشتناپور کے مہاراج دھرت راشتر نابینا تھے لیکن نابینا ہوتے ہوئے بھی وہ سنجے کی معرفت کوروؤں کی تباہی اور بربادی کی داستان بڑی بے بسی اور مجبوری کے ساتھ سنتے رہے لیکن اس کے تدراک کے لیے کچھ بھی نہ کر سکے اور گاندھاری آنکھ ہوتے ہوئے بھی آنکھ میں پٹّی باندھے رہی۔ اس ناول میں نند کشور وکرم نے ملک کی تقسیم کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور سانحات کو پیش کیا ہے۔ خاص طور سے پنجاب کی دھرتی بٹوارے کے سبب ایک اور کوروکشیتر بن گئی تھی، جس میں کوروکشیتر کی طرح وہی خونریزی، وہی بربریت اور وہی درندگی کی تصویر ہر طرف دکھائی پڑتی ہے۔ جہاں پر ناول نگار صرف تنہا دیکھتا رہا، کڑھتا رہا اور خود بھی دکھ، درد، رنج و غم اور مصیبتیں جھیلتا رہا ہے۔ جس میں دھرت راشٹر کی بے بسی بھی ہے، راوی سنجے بھی ہے، ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی ہے۔ ناول کی ابتدا نند کشور وکرم نے ’’میں کون ہوں؟‘‘ کے عنوان سے کی ہے۔ جس میں انھوں نے خود کے روپ میں زندگی کو سمجھا و پرکھا اور حالات کے بدلتے ہوئے رویوں کو کامیابی سے پیش کیا ہے۔ نند کشور وکرم نے اس ناول میں اپنے دل کے درد و کرب اور بے بسی کا اظہار بڑے ہی عالمانہ جذبات و خیالات اور فکر انگیز تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
میں ہی سنجے ہوں اور میں ہی دھرت راشتر
میں ہی اس رن بھومی میں پہ ہو رہے جنگ و جدل کا چشم دید گواہ ہوں
میں ہی اس یدھ میں بار بار قتل و غارت کا شکار ہوتا رہا ہوں
اور میں ہی انسانیت کے خون سے سر تاپا لت پت ہوں
میں لاکھ چاہنے پر بھی اس کرم بھومی سے بھاگ نہیں سکتا
مجھے جنگ و جدل سے سخت نفرت ہے،
لیکن مجبوری نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے
میں نے ان ’بے نور‘ آنکھوں سے مہابھارت ہی نہیں
سینکڑوں جنگیں دیکھی اور سنی ہیں
اور شائد دو عظیم عالمی جنگوں کے بعد
مجھے تیسری اور آخری ایٹمی جنگ کے خونچکاں،
لرزہ خیز اور عبرت ناک حادثات اور واقعات سے
دو چار ہونا پڑے گا
جو اس دنیا میں شاید قیامتِ کبریٰ کا موجب ہوگی
اور شائد اس وقت کوئی سنجے بھی نہیں بچے گا
جو اس قیامت خیز جنگ کے حالات بیان کر سکے
لیکن کیا کروں؟
مجھے بار بار اس دھرتی پر جنم لینا پڑتا ہے
اور ہر بار
مجھے اپنے ہی خونچکاں واقعات و حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے
شاید یہی میرا
مقدر ہے
(انیسواں ادھیائے : ص 7 اور 8)
جس طرح مہابھارت میں سنجے ہستناپورکے مہاراج دھرت راشتر کو کوروکشیتر کے جنگ کا حال بیان کرتا ہے اسی طرح سے ناول نگار نے سنجے کے روپ میں انسانیت کے رنگا رنگ جلوؤں کی حقیقی تصویریں دکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ نند کشور وکرم نے نابینا دھرت راشتر کی طرح خاموشی سے ہر تبدیلی کو برداشت کیا ہے کیوں کہ یہی انسان کا مقدر ہے۔ چاہے رام ہوں ،عیسیٰ ہوں یاحسین ہوں دروپدی ہوں یا سیتا اور گورونانک ہوں یا گاندھی ، ان سبھی لوگوں کو انسانیت کی سر بلندی کے لیے اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا ہے۔مذہب کے نام پر انسانیت کا قتل، غربت، مہنگائی، نا انصافی، بھوک ،محرومی، چور بازاری، جھوٹ اور مکر و ریا کی حقیقی تصویر کو ناول نگار اپنی ننگی آنکھوں سے بڑی بے بسی اور مجبوری کے ساتھ دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس کو وہ اپنا مقدر تسلیم کرتے ہیں۔ اسی بنا پر ناول نگار نے بھی زندگی کے میدانِ جنگ میں اپنا محاسبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ناول کا ایک اقتباس خاطر نشیں ہوں:
میں نے رام ایسے آدرش وادی انسان کو
چودہ برس بنوں کی خاک چھانتے ہوئے
اور نا قابلِ بیاں صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے دیکھا
اور حصرت حسین اور ان کے اہل و عیال کو
پیاس سے تڑپ تڑپ کر دم توڑتے ہوئے دیکھا
یہی نہیں
میں نے امن و آشتی کے پیغامبر
حضرت عیسیٰ کو تختہء دارپر لٹکتے ہوئے
اور گورونانک ایسے صوفی سنت کو چکی پیستے ہوئے دیکھا
اور انہیں آنکھوں نے عدم تشدد کے علبردار مہاتما گاندھی کا سینہ
فرقہ واریت اور منافرت کی گولیوں سے چھلنی ہوتے ہوئے دیکھا
شاید یہی میرا مقدر ہے

ان ہی آنکھوں کے سامنے
عورت خانگی تشدد کے ساتھ ساتھ
سماجی تذلیل اور بے حرمتی کا شکار ہوتی رہی
کبھی دروپدی کے روپ میں اسے سرِدربار
عریاں ہونے کی ذلت و تضحیک برداشت کرنی پڑی
تو کبھی سیتا بن کر اسے اپنی پاک دامنی کو ثبوت دینے کی خاطر
اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا
لاکھوں افراد کا نسلی، مذہبی اور سماجی بنیاد پر قتلِ عام ہو تا رہا
لیکن میں خاموش کھڑا چپ چاپ سب کچھ دیکھتا رہا
سماجی، سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی اخلاقی گراوٹ
اقتدار اور کالی دولت کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہوڑ
انصاف کے نام پر بے قصور اور بے گناہ افراد کو تختہء دار پر لٹکایا جانا
انسان کا انسان ہی کے ذریعہ استحصال
مذہب کے نام پر معصوم اور بے گناہ انسانوں کی اندھا دھند ہلاکت
غربت، مہنگائی،ناانصافی، بھوک، محرومی
چوربازاری،جھوٹ اور مکرو ریا کا مسلسل چکر
میں ان آنکھوں سے
بے بسی اور مجبوری کے کارن
چپ چاپ دیکھتا رہا
(انیسواں ادھیائے :ص 8 ،9 اور (10
انیسواں ادھیائے ناول کی ابتدا انجام سے ہوتا ہے۔ جس میں ناول نگار نے ہندو اساطیر اور تلمیحات کو بڑے فکرانگیز اور معنی خیز طریقے سے پیش کیا ہے۔ نند کشور وکرم نے حسب ضرورت روح کے وجود ،سیرت اور ماہیت کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں اور پھر مضحکہ خیز نظریات اور عقیدوں کے متعلق اپنے عالمانہ خیالات و تاثرات کا اظہار بڑے ہی تخلیقی ہوشمندی اور نزاکت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ روح کے حوالے سے ناول نے سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے ’’روح کیا ہے؟‘‘ ۔ اس کے بعد انھوں نے اس سوال کا جواب بڑے مدلل اور فکر انگیز عالمانہ خیالات اور تاثرات کو فلسفیانہ بصیرت کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس ضمن میں ناول کا ایک فکر انگیز اور معنی خیزاقتباس خاطر نشان ہو:
ــ’’مختصر طور پر یہ کہ روح کو انسان کی زندگی کا جوہر اور انسان کی زندگی کی سرگرمیوں، احساسات اور شعور کی آماجگاہ خیال کیا جاتا ہے اور اسے انسان کو زندگی عطا کرنے کے لیے اس میں پائی جانے والی لا جسمی اور غیر مادی شے تصور کیا جاتا ہے جو کہ اس کی انفرادیت اور انسانیت کی تشکیل و تعمیر کا وسیلہ ہے۔ اکثر اسے انسان کی ذات، نفس اور شعور کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔ دینیاتِ عقلی میں اس کو فرد کے ایک جزو کے طور پر وضاحت کی گئی ہے جو کہ خدائی شے ہے۔اکثر اسے جسمانی موت کے بعد زندہ رہنے والا عنصر خیال کیا جاتا ہے۔‘‘
’’کیا سبھی مذاہب روح میں اعتقاد کرتے ہیں؟‘‘
’’دراصل روح کا تصور انسان کے اولین دور سے تعلق رکھتا ہے اور روح پرستی مذہب کی قدیم ترین شکل ہے۔ تاہم تمام مذاہب اور ثقافتوں نے تو نہیں لیکن اکثریت نے انسانی زندگی یا بقاء کے لیے کسی لاجسمی اور غیر مادی بنیادی عنصر کو تسلیم کیا ہے جو کہ روح سے مطابقت رکھتا ہے۔ بہت سوں نے تمام جانداروں میں بھی روح کے وجود کو مانا ہے ۔ حتیٰ کہ قبل از تاریخ دور میں بھی جسم کے اندر ایک مخصوص شے کے قیام کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ بہرحال مختلف فلسفوں مذاہب اور عقیدوں نے روح کی سیرت و ماہیت، اس کے جسم سے رشتے ۔ اس کی ابتدا اور فنا سے متعلق مختلف نظریات اور عقائد کو فروغ دیا ہے۔‘‘
(انیسواں ادھیائے : ص 18)
انیسواں ادھیائے ناول میں تقسیم اور ہجرت کے تاریخی اور تہذیبی منظر نامے کی پیش کش کے ساتھ ساتھ ان داخلی اور خارجی نتائج پر بھی زور دیا گیاہے،جن سے نند کشور وکرم دوچار ہوئے۔ خاص طور سے انھوں نے اپنے داخلی کوائف پر ہونے والے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔اسکول کے دن بھی ان کو خوب یاد ہیں، جب کبھی وہ اسکول تاخیر سے جاتے یا سوال غلط کرنے پر ان کو مرغہ بنایا جاتا جاتا تھا۔ مرغہ بننے کے لیے دونوں ٹانگوں کے نیچے سے ہاتھ نکال کر کان پکڑنا بڑی تکلیف دہ سزا ہوتی تھی۔ مولوی صاحب کی محبت اورشفقت بھی ان کو اکثر یاد آتی ہے۔نند کشور وکرم جب چوتھی جماعت میں طالب علم تھے تو ایک واقعہ پیش آیا۔ اس آپ بیتی میں نند کشور وکرم نے اپنے اسکول کے دنوں کی یادوں اور مولوی صاحب کو محبت اور شفقت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے کہ جب میں چوتھی جماعت میں تھا تو وظیفے کا امتحان دینے کے لیے ہمیں پنڈی جانا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ایک دن پہلے زبردست بارش ہو گئی اور نالہ کورنگ میں باڑھ آ گئی لہذا ہم پروگرام کے مطابق ایک دن پہلے پنڈی نہ پہنچ سکے۔ لیکن مولوی صاحب نے ہمت نہ ہاری اور دوسرے دن جو کہ امتحان کا دن تھا وہ ہمیں لے کر منہ اندھیرے ہی پنڈ دریاں کے بجائے ترلاہی کے راستے سے پنڈی کی جانب چل پڑے تاکہ نالہ کورنگ کی باڑھ سے واسطہ نہ پڑے اور کھنہ کے قریب بنے پل کے راستے سے پنڈی پہنچ جائیں۔ سفر کے دوران راستے میں ہمیں کئی چھوٹی چھوٹی کسیوں کو عبور کرنا پڑا جو برسات کے دنوں میں چھوٹی ندیوں کی صورت اختیار کر گئی تھیں۔ ان کسیوں کو پار کرنے کے لیے سبھی لڑکوں نے شلواریں اوپر چڑھا لی تھیں لیکن میرے لیے ممکن نہ تھا کیونکہ میں نے چھوڑی دار تنگ پاجامہ پہنا ہوا تھا لہذا اسے بار بار ُتارنا مشکل کام تھا اور پھر پنڈی پہنچنے میں بھی دیر ہو رہی تھی اس لیے ہربار جب کوئی کسی آتی تو مولوی صاحب مجھے کاندھوں پر اٹھا کر اسے پار کرا دیتے ۔
شکریہ مولوی صاحب ۔ میں آپ کی شفقت کو آج تک نہیں بھولا۔ بھلا آپ ایسے استاد اب کہاں نصیب ہوتے ہیں جو بچوں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر ندیاں پار کرائیں اور بغیر کسی لالچ اور معاوضے کے اسکول کے بعد بھی پڑھانے میں منہمک رہیں۔ آج تو استاد بچوں کو اسکولوں میں پڑھانے کے بجائے گھروں میں ٹیوشن پڑھانے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔
تب شاید ٹیوشن کا رواج نہیں تھا اور اگر تھا بھی تو بڑے شہروں تک محدود۔ گاؤں اور قصبوں میں تو ہر ایک استاد کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کا طالب علم ، اسکول شہر ضلع یا صوبے میں کوئی پوزیشن حاصل کرے۔ اسی لیے استاد بچوں کو پڑھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔‘‘
(انیسواں ادھیائے: ص 120)
نند کشور وکرم ابتدائی دور میں بڑے مذہبی انسان تھے لیکن جب وہ چوتھی جماعت میں تھے تو ان کی والدہ کی صحت خراب ہونے لگی۔ ان کو لگا کہ مہابھارت کا روزانہ پاٹھ کرنے سے ماں کی صحت اچھی ہو جائے گی۔ وہ روزانہ مہابھارت کا پاٹھ کرنے لگے لیکن مہابھارت کے پاٹھ کرنے کا ماں کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ آخر کار ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ماں کے مرنے کا ان کے دل پر شدید اثر پڑا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسی وقت سے وہ مذہبی عقائد اور پوجا پاٹھ سے دور ہوتے چلے گئے۔ مہابھارت پڑھنے سے انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ اس عظیم جنگ سے انسان پر کیا کیا تباہ کاریاں نازل ہوئیں ، انسان نے انسان کو کس طرح ذلیل و خوار کیا ہے اور ان کو لڑائی سے بے حد نفرت ہو گئی۔وہ اپنی آپ بیتی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ جب میں درجہ چہارم میں تھا تو ماں کی بیماری خطرناک صورت اختیار کر گئی اور بچنے کی امید بھی جاتی رہی۔ تاہم گھر والوں نے انھیں بچانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
قیمتی دوائیں ،ٹونے ٹوٹکے، جنتر منتر، اور نہ جانے کیا کچھ کیا گیا۔
ان دنوں گھر میں پوجا پاٹھ پر بھی زیادہ زور دیا جانے لگا تھا۔
نانی یہی سمجھتی تھیں کہ پوجا پاٹھ میں بڑی طاقت ہے لہذا وہ مجھے بھی پاٹھ کرنے کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔
اور ان کی خواہش کے مطابق میں نے بھی ماں کی صحت یابی کے لیے مہابھارت کا پاٹھ شروع کر دیا اور کئی مہینے لگا تار مہابھارت کا پاٹھ کرتا رہا لیکن اس کے باوجود ماں نہ بچ سکیں اور میرے سامنے پوجا پاٹھ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ پوجا پاٹھ سے میرا اعتماد اٹھ سا گیا۔ کیونکہ اگر پوجا پاٹھ جنتر منتر اور ٹونے ٹوٹکوں میں شکتی ہوتی تو پھر ماں ہمیں یوں روتا بلکتا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے کیوں چلی جاتیں؟
تاہم مہابھارت کے پاٹھ کے دوران مجھے کوروؤں اور پانڈوؤں کے بیچ ہونے والی جنگ کے ہولناک واقعات پڑھ کر لڑائی سے بے حد نفرت ہو گئی کیونکہ اس کے مطالعہ سے مجھ پر پوری طرح عیاں ہو گیا کہ جنگ سے انسان پر کیا کیا تباہ کاریاں نازل ہوئی ہیں اور انسان نے انسان کو کس طرح ذلیل و خوار کیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس خوں ریز جنگ میں اٹھارہ اکھشونی فوج نے شرکت کی تھی اور ایک اکھشونی فوج کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک اکھشونی فوج کے گزرنے سے اس کی گرد سے ایک کنواں مٹی سے بھر جاتا تھا اور یہ کہ اس مہا یدھ میں لاکھوں افراد لقمہء اجل ہو گئے تھے۔ یہاں تک کہ دور دور تک انسانی بستیوں کا نام و نشان مٹ گیا تھا اور کئی کئی کوس تک دیا جلتا دکھائی نہیں دیتا تھا مگر اس کے باوجود انسان نے اس جنگ سے عبرت حاصل نہیں کی اور جنگوں کا لا متناہی سلسلہ جاری رہا۔‘‘
(انیسواں ادھیائے: ص 121 اور122)
اس ناول کی شروعات سوال سے ہوتی ہے اور اختتام بھی سوال سے ہی ہوتا ہے۔ راوی زندگی بھر سوال ہی سوال کرتا رہا۔ ان گنت سوال، سیدھے سادے سوال اور پیچیدہ سوال مثلاً ’’میں کون ہوں؟‘‘،’’میں کہاں سے آیا ہوں؟‘‘ اورآخر کار ’’موت کے بعد مجھے کہاں جانا ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ کوروکشیتر کے میدانِ جنگ میں ارجن کے ذہن میں بھی طرح طرح کے سوال اٹھے تھے لیکن اس میں شری کرشن ارجن کے رتھ بان کی حیثیت سے موجود تھے اور انھوں نے ارجن کے سوالات کا مدلل جواب دے کر انھیں خاموش کر دیا تھا اور شری مد بھگوت گیتا کا اٹھارہ ادھیائے ختم ہو گیا لیکن انیسواں ادھیائے کا مصنف کوئی ہدایت نہیں دیتا ہے۔ اس کے سوال کے جو جواب ملتے ہیں وہ بھی آدھے ادھورے۔ وہ ہمیشہ صداقت اور حق کی تلاش میں رہتا ہے لیکن اس کو ناکامیابی ملتی ہے اور شک و شبہ کا سانپ اس کو بار بار ڈس جاتا ہے۔ اس کو ہر طرف موت کے بادل منڈلاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ موت کو لے کر بار بار متفکر ہو جاتا ہے۔ نند کشور وکرم نے موت کی حقیقت اور اس کی نوعیت پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور موت کی شکست کے واقعات بھی انھوں نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ یم دوت، ملک الموت، عزرائیل وغیرہ سب فرضی کردار ہیں ۔ ان کاکوئی حقیقی وجود نہیں ہے اور روح کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔ آخر وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ یہ سب مفروضہ ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے جنت اور دوزخ کی حقیقت پر بھی بھرپور روشنی ڈالی ہے۔ موت کے ضمن میں ناول نگار نے اپنے عالمانہ اور فکرانگیز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’موت کے بارے میں ایک روایت ہے کہ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کے کہنے کے مطابق جب اﷲ تعالیٰ نے آدم اور ان کی ذریت کو پیدا کیا تو فرشتوں نے عرض کیا کہ ..... اے خدا ! یہ تمام ذریت آدم زمین میں نہ سما سکے گی۔ فرمایا میں موت کو پیدا کر دوں گا۔ فرشتوں نے کہا کہ اگر موت کو پیدا کیا گیا تو ان کی زندگی نا خوشگوار ہو جائے گی۔ ارشادہوا کہ میں امید کو پیدا کروں گا۔ اور اس طرح انسان کو مارنے کے لیے ملک الموت کی تخلیق کی گئی۔
مگر موت تو ہر مذہب کے پیروکار اور لامذہب کا مقدر ہے لہذا ہر ایک نے ایک ملک الموت کی تخلیق کی۔ ہندوؤں نے اس روائتی قاصد کو یم دوت اور کال کی صورت میں پیش کیا اور ساتھ ہی اس سے متعلق کئی کتھائیں بھی اختراع کر لیں۔ کہا جاتا ہے کہ کال کو جب مذکورہ کام سونپا گیا تو وہ پریشان ہو اٹھا اور اس نے بھگوان سے پرارتھنا کی کہ اے پربھو ! آپ مجھے کیسا منحوس کام سونپ رہے ہیں؟ اس سے تو لوگ مجھے نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا کریں گے۔ اس پر بھگوان نے کال سے کہا۔ اے کال ! تو فکر نہ کر کیونکہ کوئی تجھے موردِ الزام نہیں ٹھہرائے گا۔ کوئی تمہیں موت کا باعث نہیں سمجھے گا۔ جب کسی کی موت واقع ہوگی تو بجائے تمہیں قصور وار ٹھہرانے کے بوڑھا پے، بیماری اور حادثے کو اس کی وجہ قرار دیا جائے گا۔ اور آج تک یہی ہو رہا ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ اس کا باعث کال ہے ۔ یہی کہا جاتا ہے کہ:
...... غریب کینسر کی بیماری سے مرگیا۔
......تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو کر بے چارہ چل بسا۔
......مرحوم حادثے سے راہئی ملک عدم ہو گیا۔
......غریب آخر بوڑھاپے کی وجہ سے موت سے دوچار ہو گیا۔
اسی طرح موت کے وقت اور مقام کے بارے میں بھی غیر یقینی اور بے خبری کی وجہ سے ہر مذہب نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا کہ موت کا وقت اور مقام مقرر ہے اور انسان لاکھ چاہے لیکن مرنے کے لیے وہ خود بخود اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی موت لکھی ہے۔‘‘
(انیسواں ادھیائے : ص 177 اور 178)
نند کشور وکرم نے ناول کے آخری حصے میں زندگی ،کائنات اور خُدا کے حوالے سے بڑی معنی خیز اور فکر انگیز خیالاے و تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ اس آخری حصے میں انھوں نے یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ ’’خُدا .....کون سے خُدا کو؟ مسلمان کے خُدا کو؟ عیسائی کے خُدا کو؟ یا ہندو کے ایشور کو؟ ‘‘ان سوالات کے جوابات انھوں نے بڑے ہی مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کائنات میں انسانیت اور انسان دوستی سب سے بڑا مذہب ہے نند کشور وکرم وجود رکھنے والے کسی خُدا میں اعتقاد و یقین نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ فطرت یعنی نیچر کو ہی خُدا مانتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اس دنیا کی تخلیق و تخریب کوئی خُدا نہیں بلکہ فطرت ہی انجام دیتی ہے۔ جس کے لیے بعض لوگ خُدا ، ایشور،پرماتما،سروشکتیمان اور قادر مطلق ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہی فطرت ہی ہے جو اس ساری کائنات کو چلاتی ہے اور جو تخلیق و تعمیر کا منبع بھی ہے اور فنا و تخریب کی زبردست قوت بھی ہے۔ ناول کے آخری حصہ ’’انتم ادھیائے‘‘ کا ایک اقتباس خاطر نشیں ہو:
’’میں تمہارے خُداؤں کی نسبت اس دھرتی کے انسانوں کی عبادت اور خدمت کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں اور انسان دوستی کو دنیا کا سب سے بڑا مذہب۔ ہو سکتا ہے کہ زندگی کے آخری لمحوں میں تکلیف،کرب اور پریشانی کے عالم میں میری زبان سے........ ’اے رام‘. .......’اے ایشور‘ .....یا ’اے خُدا ‘...نکل
جائے۔ مگر اے خُدا ‘‘ میں میرا اعتقاد نہ سمجھ لیا جائے جیسا کہ میں نے زندگی میں بہت سے افراد کو زندگی کے آخری ایام میں موت کی آمد کے احساس سے
خوف زدہ ہو کر اپنے مذہب اور خُدا کی پناہ میں جاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن میرے منہ سے ان الفاظ کی ادائیگی میرے بچپن کی عادات اور سنسکاروں کی دین سمجھا جائے کیونکہ میں بھی ذہنی طور پر شہید ِ اعظم بھگت سنگھ کی طرح ’’ناستک‘‘ ہوں۔‘‘
(انیسواں ادھیائے: ص 204)
نند کشور وکرم نے اپنے اس سوانحی ناول میں اپنی یادداشتیں قلمبند کی ہیں اور چونکہ وہ 17ستمبر1929 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے وہ اپنے اس شہر اور اس کے آس پاس کے علاقے خاص طور سے جس میں ان کا بچپن گزرا ہے،ان کے سحر سے آزاد نہیں ہوئے ہیں۔ اس آپ بیتی میں روایتی ناول جیسا کوئی پلاٹ نہیں ہے اور نہ ہی کردار ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ فلسفۂ حیات، اعلیٰ سماجی اقدار اور ہر طرف نظر آنے والی توہمات، بغض و ریا، مکر وفریب، تشددونفرت، ظلم و استبداد کا دور دورہ اس ناول کے تجریدی کردار ہیں اور اس کے مطالعہ سے صحت مند ، سماجی اور اخلاقی اقدار کو صحیح معنی میں تقویت ملتی ہے اور زندگی و موت کی گتھی سلجھانے کی بڑی حد تک کامیاب ترین کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ نند کشور کا اہم اور معنی خیز ناول ’’انیسواں ادھیائے ‘‘ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اس ما بعد جدید یت سے نئے عہد کی تخلیقیت تک کے تناظر میں خصوصی انسانی معنویت اور فنی قدر و قیمت کا حامل ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 93 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajai Malviya

Read More Articles by Ajai Malviya: 30 Articles with 29601 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: