آپ کا بچہ احساسِ کمتری میں مبتلا تو نہیں؟ ذمہ داری آپ پر ہے، علامات و علاج جانیے


والدین کے لیے بچے ان کی تمام تر توجہ اور محبت کا مرکز ہوتے ہیں اور وہ ہر ممکن یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی دوسرے سے پیچھے نہ رہ جائیں- اس کے ساتھ ساتھ والدین بچوں کی صحت کے حوالے سے بھی بہت حساس ہوتے ہیں اور ہر اس چیز سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو بچے کی صحت کی خرابی کا باعث بن سکتی ہو-
مگر یہی والدین بعض اوقات بچوں کے نفسیاتی مسائل و معاملات سے یہ سوچ کر بری الزمہ ہو جاتے ہیں کہ بچے ہی تو ہیں یہ کہاں محسوس کر سکتے ہیں- مگر جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق بڑوں کی طرح بچے بھی بہت نازک احساسات کے حامل ہوتے ہیں اور وہ بھی ان تمام باتوں کو بہت کم عمری ہی سے محسوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جو بڑوں کو پریشان کر دیتی ہیں- اور پے در پے ہونے والے نفسیاتی مسائل بچے کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کا احساس والدین کو بہت تاخیر سے ہوتا ہے-

احساس کمتری کی علامات
اگر آپ کا بچہ تنہائی پسند ہو جائے خود کو مظلوم سمجھے بات بات پر رونا شروع کر دے اپنے خلاف زيادتی پر بھی آواز نہ اٹھائے محفلوں میں جانے سے کترانا شروع کر دے اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدید غصے کا ردعمل ظاہر کرے- تو آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ آپ کا بچہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے -
 


احساس کمتری کی وجوہات
احساس کمتری میں مبتلا ہونے والے بچوں کی سب سے بڑی وجہ اس کے والدین خود ہوتے ہیں جو اپنے بچے کا بار بار دوسرے بچوں سے موازنہ کر کے اس کو سب سے کمتر ثابت کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کو دوسروں جیسا بننے کا مشورہ دیتے ہیں-

احساس کمتری کی دوسری وجہ بچوں کا اسکول بھی ہو سکتا ہے جہاں پر بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرتا ہے- اور ان کے بستے ، اسٹشنری ، لنچ یہاں تک کہ اس کے والدین کے ساتھ اپنے والدین کا موازنہ کرتا رہتا ہے اور ان کو خود سے بہتر سمجھ کر احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے-

احساس کمتری کی تیسری سب سے بڑی وجہ رشتے دار اور گھر کے بڑے بزرگ ہوتے ہیں جو کہ کسی ایک بچے کو اپنا لاڈلا بنا کر باقی بچوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسی پر اپنی پوری شفقت نچھاور کر دیتے ہیں-
 


احساس کمتری کا علاج
بچوں کی احساس کمتری کو دور کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے- اس کے لیے انہیں اس بات کو سب سے پہلے تسلیم کرنا چاہیے کہ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہو سکتی ہیں اسی طرح ہر بچہ ہر کام نہیں کر سکتا ہے- اس لیے بچے کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر بھی اس کی حوصلہ افزائی کریں اس کی تعریف کریں اور اس کو اس کی کامیابی کے بدلے میں انعام دیں تاکہ اس کے اندر پہلے سے بہتر کا جذبہ پیدا ہو سکے-

بچے کے اندر مثبت سوچ پیدا کریں آپ بچے کی ہر خواہش پوری نہیں کر سکتے ہیں مگر اس بچے کے اندر قناعت کا جذبہ ضرور پیدا کر سکتے ہیں- اس کو دوسروں کی چیزوں پر حسد کرنے کے بجائے خوش ہونا سکھائيں- اس طرح اس کو اس کی اپنی چیزوں کی قدر سے واقف کروائيں اور اسے ہمیشہ خود سے کمتر کو دیکھنے کا درس دیں تاکہ وہ خوش رہنا سیکھ سکے-
 

بچے کے اوپر ذمہ داری ڈالیں تاکہ وہ بیرونی دنیا میں بھی اپنے کام خود کر سکے- اس طرح اس کو خریداری کرنا سکھائيں اس طرح جب بچے اپنے ہاتھوں سے پیسے دے کر کچھ خریدیں گے تو ایک جانب انہیں پیسے کی قدر ہو سکے گی دوسری طرف انہیں بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے کا اعتماد مل سکے گا-

ہر وقت بچے کے اوپر نظر رکھنے کے بجائے اسے اپنے دوستوں کے ساتھ گھلنے ملنے کا وقت فراہم کریں اس کے ساتھ ساتھ بچے کو اس بات کا اعتماد بھی دیں کہ وہ اپنے مسائل آپ سے کہہ سکے اور پھر ان مسائل کا حل بچے کے مشورے کی روشنی میں کریں اپنے فیصلے بچے پر نافذ نہ کریں بلکہ اپنی بات کو حکمت کے ذریعے منوائیں-
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3413 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: