محبت ایک سزا (حصہ سوئم)

(Faisal Bhatti, Lahore)
افضل بیگ کو لگ رہا تھا سب کچھ اتنا ہی آسان ہے جتنا وہ سمجھ رہا ہے۔ اسے لگتا تھا محبت وہ کنجی ہے جو ہر تالے کو کھولتی چلی جائے گی۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ زندگی کے بساط پر محبت کے مہرے کے ہاتھوں اسے مات ہونے والی ہے۔ حنا آپ ایک احسان کرے گئی میری زندگی پر آپ میری دوست بن جائے ہو سکتا ہے کل یہ دوستی محبت میں بدل جائے اور ہم ایک ہو جایئں ۔ میری بات سن کر حنا مسکرائی ، افضل صاحب اُس راستے پر کیوں چلنا چاہتے ہو جس پر کانٹے ہی کانٹے ہیں پھول نہیں ہے ۔ میرے دا جی چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتے ، کیونکہ میری منگنی اپنے چچا ذاد کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ اور ہمارے ہاں منگ نہیں چھوڑی جاتی اس لیے میری طرف سے سوری ۔ آپ کے لیے کاتب تقدیر نے کہیں کوئی بہت اچھی لڑکی لکھی ہو گی۔ وہ جانے کو پلٹ چکی تھی چند قدم ہی چلی ہو گی افضل اس کے آگے آن کھڑا ہوا ، میرا ہر رستہ تم سے شروع ہو کر تم پر ہی ختم ہوتا ہے ۔ اور پھر وہ رکا نہیں واپس بھابی کی طرف چل پڑا، جو حیرت سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

دن کے گیارہ بجے تھے وہ اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھی ، سر ویسے کچھ بھاری ہو رہا تھا ٹیبل پر چائے کا کپ رکھا تھا اتنے میں فون کی گھنٹی بجی حنا نے فون اُٹھایا آگے سے افضل بیگ کی آواز تھی ۔
جی کون حنا نے کہا ۔
تیرے مشورے کے خلوص پر مجھے ترک عشق قبول ہے ، مگر یاد رکھنا ہم نیشن میری زندگی کا سوال ہے ۔ افضل بیگ نے اپنا شعر مکمل کیا اور فون بند کر دیا۔
حنا اُسی وقت ردا کا نمبر ملایا اور اُس سے خوب لڑائی کی کہ میرا نمبر افضل کو کیوں دیا ہے ۔ اُس کے بعد افضل بیگ کی کوئی کال نہ آئی لیکن حنا کا دل ساری دنیا سے ہی ناراض رہنا چاہتا تھا جانے کیوں اور کیا تھا وہ جاننے ، ماننے اور نہ ماننے کی غلام گردش کے بیچ گھوم رہی تھی ۔ کچھ دنوں بعد اُس کا شاپنگ مال جانے کا اتفاق ہوا ۔کپڑے خرید کر جب وہ دکان سے باہر نکلی اُس کی نظر افضل پر پڑی ، بڑی ہوئی داڑھی ملگجا سا شلوار قمیض ، گلے میں پڑی برائون شال ، ایک لمحے کے لیے پہچان نہ پائی اسے یقین نہیں آ رہا تھا یہ وہی شخص ہے جو گذشتہ ایک سال سے ویل ڈریسڈ مین آف دی ائیر کا ایوراڈ جیت رہا تھا ۔ افضل کی نظریں ٹکرائی ، حنا اُس کی طرف گئی ۔
یہ تم نے اپنا کیا حال بنایا ہوا ہے حنا نے افضل کی طرف دیکھ کر سوال کیا ۔
حنا ایک بار اپنے فیصلے پر نظر ثانی تو کرو ۔ پلیز ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ، میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا ۔ لہجے میں بے بسی کا عنصر نمایاں تھا ۔ میں جانتا ہوں اس منگنی میں تمہاری رضا شامل نہیں ہے ۔ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ تم ایک بار مجھے اپنے دا جی سے ملنے دو ، میں انہیں منا لوں گا ۔ اک اک لفظ میں التجا کا عکس نمایاں تھا۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 229 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Bhatti

Read More Articles by Faisal Bhatti: 10 Articles with 2472 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: