شدت پسند

(Akram Saqib, Pasni)
دنیا بھر کے واقعات اور حالات کو جانچنے کی اور بھانپنے کی ایک ہلکی سی کوشش کریں اور حیرا ن ہوں کہ شدت پسند کتنا چالاک ہو چکا ہے۔ کتنا منظم اور مسلح ہو چکا ہے۔ یہ اتنا جابر اور ستم گر ہو چکا ہے کہ اپنے دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔
اگر عالمی حالات پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈالیں تو ہمیں انتہا پسندی اپنی انتہا کو چھوتی نرک آئے گی۔ اس میں علاقے نسل رنگ اور مذہب کی باقاعدہ تفریق بھی نظر آئے گی۔ ہر علاقے میں شدت پسند موجود ہیں اور ایسے حرکات و سکنات میں ملوث ہیں کہ مخالف گروہ کا جینا عذاب کیا ہوا۔ یہ شدت پسند اتنا چالاک اور مکار ہے کہ اپنے مخا لف کو بولنے اور اپنی صٖا ئی کا موقع تک دینے کو تیار نہیں۔ اس کی کوئی دلیل اس کی کوئی فریاد اس کی کوئی آہنگ سننے کو راضی نہیں۔ الٹا یہ اسے اور زیادہ تنگ کر رہا ہے۔

دنیا بھر کے واقعات اور حالات کو جانچنے کی اور بھانپنے کی ایک ہلکی سی کوشش کریں اور حیرا ن ہوں کہ شدت پسند کتنا چالاک ہو چکا ہے۔ کتنا منظم اور مسلح ہو چکا ہے۔ یہ اتنا جابر اور ستم گر ہو چکا ہے کہ اپنے دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ اس سے ہزار سال کا بدلہ لے رہا ہے جو اس نے اسے تمدن سکھانے اور شعور بیدار کرنے میں صرف کئے۔

چھٹی صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی تک اپنی دن رات کی محنت شاقہ سے انسانیت کو پروان چڑہایا اور کل اس عالم کو زمانہ سیاہ سے نکال کر روشن خیالی کے دور میں لا کھڑا کیا۔ جب شدت پسند اتنی سی بات پر اپنے باشعور نوجوانوں کو کھولتے ہوئے تیل میں پھینک کر جلا دیتا تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ گھوڑے کے منہ کے دانتوں کو کتابوں سے ڈھونڈنے کی بجائے گھوڑے کا منہ کھول کر ہی دیکھ لیجئے۔ یا اپنے زمانے کے مشہور سائینس دانوں کو تہہ تیغ کر دیا کہ وہ روشن خیالی اور رواداری کی بات کرتے تھے۔ وہ ان تنگ نظر شدت پسندوں کی شدت پسندی کو شدت پسندی کہنا چاہتے تھے اور اپنی سوچ کو ان کے خوف سے آزاد کرنا چاہتے تھے مگر وائے افسوس کہ زندگی سے آزاد کر دئے گئے۔ آج وہی شدت پسند ان لاچار انسانوں کے در پے ہو چکا ہے جو دن کو دن اور رات کو رات کہا کرتے تھے۔ جنہوں نے انہیں کو شعور دیا کہ تم بھی انسان ہو اور سوچ سکتے ہوں ۔ جنہوں نے یہ جان فزا شعور بخشا کہ ہر بات کسی کی لکھی کتاب سے ہی سچ ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کائنات کے مالک خالق نے انسان کو جو شعور دیا ہے اس سے بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ شدت پسند اسے ہی مانتے آئے اور اپنے دل میں وہ بغض اور عناد پالی کہ آج اس کا سر عام اظہار کر رہا ہے۔

یہ اس انسان کو انتہا پسند اور شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے رہا ہے جو ان باتوں کے ذہنی جسمانی شعوری اور لاشعوری طور پر خلاف ہے۔ اس کا مذہب ہی اسے امن کا درس دیتا ہے۔ یہ اسے شدت پسند کہتا ہے جس کی مقدس کتاب کو الہامی کتاب کو سر عام جلاتا ہے اس کی بے حرمتی کرتا ہے اور اگر وہ ایسی قبیح حرکت کی مزاحمت کرے تو شدت پسند کہلاتا ہے۔ یہ اسے شدت پسند اور دہشت گرد کہتا ہے جس کے پیارے نبی کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے اور اگر یہ اسے ایسا کرنے سے بالجبر روکے تو اسے دہشت گرد گردانتا ہے۔ یہ اتنا چالاک شدت پسند ہے کہ خود شدت پسندی کی ساری حدیں عبور کر جاتا ہے ،پہلے اسے بہلا پھسلا کر ایک راستے پر ڈال دیتا ہے اور پھر خود ہی اس راستے پر گھات لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے ہی پیدا کئے ہوئے کارندے کو شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے کے پوری دنیا کا رخ اس کی طرف موڑ لیتا ہے۔

جسے یہ شدت پسند انتہا پسند اور دہشت گرد کہہ رہا ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کا حال جاننے کی کوشش تو کریں۔ کبھی برما کے ان شدت پسندوں کو بھی دیکھیں جنہیں اس محبت مافیا نے سر عام جلا دیا گھروں سے نکال دیا اور پھر پناہ بھی نہ لینے دی ۔ انہیں روہنگیا شدت پسند کہتے ہیں۔ پھر کشمیر کے شدت پسندوں کو دیکھیں جنہیں کئی ماہ سے گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے ان کے بچوں کے لئے دوائی نہیں ان کی عورتوں کے لئے پاک دامنی نہیں اور ان کے مردوں کے لئے زندہ رہنا منع ہے۔ یہ مجبور و محصور شدت پسند ہیں اس لئے کوئی ان کا پرسان حال نہیں۔ فلسطین کے شدت پسند دیکھ لیں جن پر امن پسند گولیاں برساتے ہیں اور وہ شدت پسند غلیل سے پتھر پھینکتے ہیں۔ ان غلیل والوں کو سبق سکھانے کے لئے پوری دنیا کے امن پسندوں اور جمہوریت پسندوں کا ایک ہی راگ ہے۔

یمن کے شدت پسندوں کا ذکر کریں یا شام کے مصر کے انتہا پسند وں کی بات کریں یا لیبیا کے۔ اسی طرح پورے افریقہ میں یہ شدت پسند موجود ہیں جو اپنی جان کی امان چاہتے ہیں مگر امن پسند انہیں کسی آنے والے خطرے کے پیش نظر ختم ہی کرنا چاہتے ہیں۔ یورپ کی تو بات ہی کیا ہے وہاں تو اتنے امن پسند لوگ ہیں کہ بس ان شدت پسندوں کے نبی کی توہین کر کے اور ان شدت پسندوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کر کے چیک کرتے ہیں کہ یہ کتنے شدت پسند ہیں؟


 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 148 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 65 Articles with 24187 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: