میرا تھا بابا تو میں نے توڑ دیا میں

(Mahboob Hussain, Rawalpindi)
بچوں کھیل سے میں نے ایک سبق کہ ھم سب رب کے بنائے ھوئے ھیں اور جس حال میں بھی رکھے ھمیں اسکا شکر ادا کرنا چاہیے شکوہ ہر گز نہ کریں کیونکہ بہت سی چیزیں اس نے ھمیں ھماری اوقات سے بڑھ کر ہمیں عطا کی ہیں

میرا تھا بابا تو میں نے توڑ دیا

دوستو یہ وہ الفاظ جو کچھ دن پہلے میں نے اپنی ایک پانچ سال کی بیٹی حریم فاطمہ کی زبان سے سنے اور ان الفاظ نے مجھے میری اوقات بتا دی

دوستو ہوا کچھ یوں کہ آج اتوار کا دن تھا میں اپنے مکان کی چھت پر جسے اب اپنا کہتے ہوئے بھی میری روح تک کانپ جاتی ہے ۔دھوپ کے مفت میں مزے لوٹ رہا تھا میرا سب سے چھوٹا بیٹا بھی میرے ساتھ ہی لیٹا ھوا تھا اور ھوں ھاں کر رھا تھا میں بھی اسی کی زبان میں بس بےمعنی سے جملے بول کر اسکی زبان میں ھی اسکی ھاں میں ھاں ملا رھا تھا تاکہ وہ سمجھے کے بابا میرے ساتھ باتیں کر رہا ھے اور روے نہ دوستو میرے باقی چاروں بچے ساتھ ساتھ ہی بیٹھے کھیل رھے تھے بلکہ ان کے ساتھ پڑوس کے دو اور بجے بھی تھے آج انکی کھیل میں نے بھی دیکھنے کی حد تک دلچسپی لینا شروع کر دی کیوں کہ انھوں نے کھیل ھہ بہت مزے کا شروع کیا ہوا تھا کھیل کیا تھا کہ میرے لیے اور شاید میرے قارئین کے لئے ایک سبق تھا جو میرے ہی بچوں کی وساطت سے اللہ کریم نے مجھے میری حقیقت بتلا دی کہ جو تم ھر وقت جو اپنی بیماری کو لے کر شکوہ کرتے رہتے ھو کہ میں نے ایسی تو کوئی خطا نہیں کی پھر میرے ساٹھ ایسا کیوں ھوا -

بات لمبی بوتی جا رہی ھے آتے ہیں اصل کھیل کی طرف بچوں نے آج جو کھیل کھیلنا شروع کر دیا وہ تھا مٹی سے اور اینٹ کہ ٹکڑوں سے اپنے کھلونوں سے انھوں نے بادشاہ وزیر اور ملکہ بنائی جس کے لیے ہر بچے نے اپنا اپنا کھلوناپیش کیا اور جو عوام تھی وہ اینٹوں کے ٹکڑے سے بنائے گئے اب باری تھی بادشاہ بنانے کی اس کے لیے سب بچوں نے حریم فاطمہ کے پاس جو چائنہ مٹی تھی اس سے بنانے کا فیصلہ کیا پہلے تو وہ اپنی مٹی انکو دینے پر تیار ہی نہیں تھی کہ یہ تھوڑی سی ہے اس سے بادشاہ صحیح نہیں بنے گا پر بچوں نے کہا کہ ھم اپنی چائنہ مٹی بھی اس میں شامل کر کے بنا لیتے ہیں تو حریم نے صاف انکار کر دیا کہ بادشاہ اگر بنانا ھے تو وہ صرف میری مٹی سے بنے گا اور وہ صرف میرا ھو گا باقی بچوں نے بھی حریم فاطمہ کی اس ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور ایک پتلا سا بنا دیا جو کسی طرح بھی بادشاہ کے قابل نہیں تھا پر حریم کی ضد تھی -

اللہ اللہ کر کے بادشاہ تیار ہوا اس کو اونچی جگہ پر رکھا گیا نیچے ایک خوب صورت سی گڑیا جو میں نے اپنے بھلے وقتوں میں اپنی بیٹھی ایمان کے لیے دوبئ سے لائی ھوئی تھی اسکو ملکہ بنا دیا گیا اور کچھ کھلونوں کو وزیر کے طور پر بچوں نے رکھ دیا اور ساتھ میں کچھ لکڑی کے ٹکڑوں کو فوج کے سپاہی بنا کر دیوار کے سہارے کھڑا کر دیا اور باقی اینٹ کے ٹکڑوں کو ان کے سامنے عوام کے طور پر پچوں نے بڑی محنت سے رکھا -

دوستو بچوں کا ابھی یہ کھیل شروع ہی ھوا تھا کہ حریم فاطمہ کو نہ جانے کیا ھوا لات مار کے بادشاہ سلامت کو توڑ دیا سارے کھیل کا بیڑا غرق سب بچے اس کو مارنے کو دوڑے وہ بھاگ کے میرے پاس آئی میں نے اس پوچھا کہ حریم فاطمہ تم نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جو جواب دیا اس سے بچے تو نہ مطمئن ھوئے پر وہ حریم کا جواب مجھے میری اوقات بتا گیا جواب سن لو شائد کہ ھم سب کو اپنی اوقات یاد آ جا ئے جب میں نے حریم فاطمہ سے پوچھا بیٹھا تم نے ان کا بادشاہ کیوں توڑا تو اس نے اپنی توتلی زبان میں کہا بابا میرا تھا اس لیے میں نے توڑ دیا میں نے کہا تمھارا کدھر تھا میرے سامنے انھوں نے بنایا تھا تو اس نے ایک اور بہترین جواب دیا بنایا بے شک انھوں نے بنایا تھا پر بنا تو میری چائنہ مٹی سے تھا

دوستو تحریر اگر سبق آموز لگے تو شئر کر دینا آگے شائد کہ کسی کا بھلا ہو جائے-
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 244 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mahboob Hussain
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: