کلیوں کا کچلا جانا معمول کا کام

(Shamoom, Karachi)

جرم جب عام ہو جائے تو جرم نہیں رہتا وہ ایک معمول کا کام بن جاتا ہے یہی حال اس وقت پاکستان میں معصوم کلیوں کو کچلنے والے جنسی درندوں کا ہے جن کو نہ کوئی روکنے والا پکڑنے والا اور سزا دینے والا ہے اور اسی بے لگامی کے سبب وہ اپنے حوس کے لیے اپنے آس پاس چمن میں موجود کلیوں کو روزمرہ کی بنیاد پر روندے جارہے ہیں اور اب تو ہماری حالت بھی یہ ہے پی ٹی وی ایک بار میں ایسی خبر سن لے ایسے محسوس کرتے ہیں کدھر سے اب تو یہ روزانہ ہی کی بات ہے۔ بچے جو چمن میں گل ہوتے ہیں گھروں میں رونق جن کے ہونے سے ہے۔ ماں باپ کی کلیجے کی ٹھنڈک ہوتے ہیں اور خدا کی رحمت و نعمت ہوتے ہیں۔جن کو ایک چوٹ بھی لگے تو ماں کی آنکھیں بھر جاتی ہیں باپ کا دل دہل جاتا ہے یہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے بچوں کے لئے محسوس کرتا ہوگا تو یاد رکھیے یہ چین کے متعلق خبریں ہم ٹی وی اخباروں میں روزمرہ کی بنیادوں پر سن رہے ہیں وہ بھی کسی کے بچے ہونگے کسی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہونگے کسی کے چمن کا پھول ہوں گے۔ہم کیسے ان معصوموں سے متعلق خبروں کو نظر انداز کر سکتے ابھی کچھ دن قبل میری نظر ایک خبر پر پڑی جس میں 14 سال کی بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی نہ صرف زیادتی بلکہ ثبوت ختم کرنے کے لیے اس کو قتل کر دیا گیا -

یہ ایک کوئی خبر نہیں بلکہ ہر روز ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنیے یا دیکھنے کو ملتی ہے اب یہ جرم بہت عام ہو گیا ہے ایک روز پہلے پنجاب کے علاقے میں ایک بچی نے خودکشی کی جب تفتیش ہوئی تو پتہ چلا کہ اس کے ساتھی زیادتی کی گئی اور اس نے اس کو چھپانے کے لئے خودکشی کی حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق سال 2019 کے دوران ملک بھر میں 3832بچے تشدد کا نشانہ بنے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 10 سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے جنسی تشدد ہونے والے بچوں کی عمر 11 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہے یہ تمام تر معاشرتی برائیاں صرف اور صرف مذہب سے دوری ہے جس کی وجہ سے بلاخوف و قطر اس واقعات کی رونمائی ہو رہی ہے.

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے افراد ان معصوم کلیوں کے روندے جانے کی ویڈیو بنا کر ڈارک ویب پر فروخت کرتے ہیں جو کہ ان وحشی درندوں کا معاشی حب ہے۔حال ہی میں پنجاب میں ایک پڑھے لکھے وحشی درندے کو گرفتار کیا گیا جو کہ اس سے قبل دوسرے ممالک میں ایسے ہی شرمناک حرکتوں کے باعث نکالا جاچکا ہے لیکن یہ وحشی درندہ پاکستان میں کھلے عام کارروائیاں کر رہا تھا اور بچوں کے ساتھ شرم نہیں آتی کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر فروخت کرتا یہ صرف ایک چیز نہیں اس طرح کے اکثر کیسس میں یہی دیکھنے کو ملتا ہے کس سے پیسے کمانے کے لیے ان معصوم کلیوں کو آئندہ جاتا ہے یا پھر اس طرح کی اکثر کیسز میں قریبی رشتے دار ملوث ہوتے ہیں جو کہ پرانی دشمنی کی بنیاد پر یا پھر اپنی ہوس مٹانے کے لیے ایسا گھناؤنا جرم سرزد کرتے ہیں ۔ اس طرح کے جرم کا اتنی آسانی سے سرد ہو جانا معاشرے میں انصاف نام کی کوئی چڑیا نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے علاوہ معاشرے میں اصلاح کی بھی ضرورت ہے جس میں بچوں کو ایسی تربیت دی جائے کہ وہ بڑے ہو کر بھی اس قسم کی غلطی سرزد نہ کر سکے۔اس قسم کی روک تھام کے لیے سخت سے سخت ترین سزا کا بھی قانون بننا چاہیےبلکہ ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایسے مجرموں کو سرعام سزا دینی چاہیے تاکہ لوگوں کو دیکھ کر عبرت حاصل ہو اور کبھی ایسا قدم اٹھانے کی کوشش بھی نہ کریں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 231 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shamoom

Read More Articles by Shamoom: 4 Articles with 817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: