تبدیلی تاحال نظر نہیں آئی

(Roqiya Ghazal, Lahore)

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ کو کام کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے ۔سپریم کورٹ نے جناب آرمی چیف کو اضافے کی منظوری دیتے ہوئے حکم دیا کہ چھ ماہ کے اندر پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے تاکہ مدت ملازمت میں توسیع قانونی طور پر عمل میں لائی جا سکے اس طرح حکومتوں کی مسلسل نا اہلی کیوجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی کہا ہے کہ حکومت کو مشورہ دونگا کہ آرمی چیف کے عہدے کو تماشا نہ بنائیں کیونکہ یہ ایک حساس اور پاکستان کے عزت و وقار کا معاملہ ہے بلاشبہ عجلت اور نادانی میں موجودہ وزیراعظم کی طرف سے کئے گئے دستخط نے پاکستان کے سب سے بڑے اور دفاعی ادارے کے سربراہ کے وقار کو داؤ پر لگایا اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے کیونکہ عوام افواج پاکستان سے دلی لگاؤ اور اُس کے سربراہان سے بے لوث محبت رکھتے ہیں ۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فوجی جوان ہر وقت سینہ سپر جبکہ اکثر سیاسی شعبدہ باز لوٹ مار اور موقع پرستی میں مست مئے پندار رہتے ہیں۔
تاہم عدالت عظمی میں اس توسیع کو لیکر جو بحث و مباحثہ چلا اس سے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ حکومتی مشیران کی کم فہمی کی گونج پر مہر ثبت ہوگئی اور عوام کے سامنے میرٹ کے دعووں اور منصفوں کی مجبوریوں کی قلعی کھل گئی کہ منصف فیصلے ثبوتوں اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں کرتے ہیں اگر ثبوت اور گواہ ہی درست نہ ہوں تو فیصلے پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا بلکہ اصل قصوروار ثبوت اور گواہ پیش کرنے والے ہوتے ہیں مگر جب جب اور جہاں جہاں عدلیہ کے فیصلے’’ سچا انصاف‘‘ نہیں ہوتے وہاں عوام الناس بھی افسوس ضرور کرتے ہیں ۔ عوامی رائے کے مطابق جناب وزیراعظم کی تقریر کے بعد اعلیٰ عدلیہ کا یہ ایکشن بہت ضروری تھا کیونکہ بہتر برس سے عوام الناس کو الجھانے والے لیڈران خود بری الزمہ ہو جاتے ہیں اور سارا ملبہ اداروں پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ اداروں میں بیٹھے لوگ بھی تو اسی معاشرے کے فرد ہیں۔تبدیلی سرکار کی اس خوبی سے کسے انکار ہے کہ وہ اپنے ہی بیانات اور اصلاحات کے ہاتھوں پریشان رہتے ہیں پھر بھی اپنی روش نہیں بدلتے شاید وہ یہ نہیں مانتے کہ کاغذ کی ناؤ بھی ہمیشہ نہیں چلتی ۔۔حیرت ہے کہ پوری کابینہ میں ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جسے متوقع نتائج کا ادارک ہو جبکہ سیاست دوسرے کے ذہن میں بیٹھ کر سوچنے اور دور رس نتائج پر نگاہ رکھنے کا نام ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سبھی تو ابھی سیکھ رہے ہیں اورانکے سیکھنے کا عمل اس قدر دلچسپ ہے کہ جس وزیر کو نا اہلی پر ہٹایا جاتا ہے اسے کچھ ماہ بعد ہی دوبارہ لگا لیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تبدیلی سرکار کا ہر فیصلہ اور بیانیہ سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگ پر تابڑ توڑ حملے کر دئیے جوکہ غیر ضروری اور غلط وقت پر تھے کیونکہ ابھی تک اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری کرپشن واویلے کی رسہ کشی میں واضح طور پر حاصل حصول سوائے اس کے کہ سبھی یک بعد دیگرے ملک سے باہر جا رہے ہیں اور لندن سیاسی مرکز بنتا جا رہا ہے ۔ایسے میں افہام و تفہیم اور عدالتوں سے رجوع کرنے کی ضرورت تھی مگر سیاسی فہم بھی اﷲ کی عطا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فواد چوہدری نے اگلے روز ہی بیان داغ دیا کہ’’ سپریم کورٹ کے فیصلے میں سقم ہیں، آپ پارلیمینٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ آپ کسی ایشو پر قانون سازی کریں کیونکہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کا ماتحت ادارہ نہیں ہے، اصل سپرمیسی عوام کی ہے اور عوام کی نمائندہ پارلیمان ہے‘‘ ۔جہاں تک بات ہے قانون سازی کی توفوادچوہدری کو پتہ ہونا چاہیے کہ اعلی عدلیہ نے حکومت کو ایک راستہ دکھایا ہے کیونکہ حکمران جو کرتے آرہے ہیں وہی یہ حکمران کرنے جا رہے تھے لیکن وہ آئین میں شامل نہیں ہے تو یہی کہا گیا ہے کہ قانون بنا لیں اور جائز طریقے سے کام کریں ۔مسئلہ یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کی اپنی صفوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور وزیروں کے بیانات ہی ایک دوسرے سے نہیں ملتے تو اپوزیشن ایسے کیسے ساتھ بیٹھے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کی فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ اور بے سروپا بیانات دیکر اپنے دلوں کو دلاسا دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر قانون سازی مقررہ وقت پر نہیں ہوتی تو نوٹیفکیشن معطل ہو جائے گا اسی لیے چیف آف آرمی سٹاف کی ملازمت میں پارلیمنٹ کے ذریعے توسیع کے حوالے سے شرائط کے اتفاق رائے سے طے ہونے کی امید کم ہو گئی ہے لیکن اپیل میں کیا ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد کیا ہوگا یہ کہنا ممکن نہیں البتہ جو ہو رہا ہے وہ تماشا گری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔اس پرعہدے داران کہتے ہیں کہ ملکی حالات کسی تماشے یا غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے تو کیا یہ صرف لفاظی ہے کیونکہ حالات تو اندھیر نگری چوپٹ راج کا نقشہ بیان کر رہے ہیں ۔

سابق ڈی جی ایف آئی اے اپنے عہدے سے مستعفی کیوں ہوگئے اورنئے ڈائریکٹر جنرل پانامہ کیس جے آئی ٹی کے شہرت یافتہ سربراہ واجد ضیاء کا اس عہدے کو سنبھالنا بھی کیا محض اتفاق ہے؟ اچانک وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو ایف آئی اے پر نظر رکھنے کا کام کیوں سونپ دیا گیا اور انھوں نے پہلا کام شہباز شریف کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کیوں کر دی؟شہزاد اکبر 18 سوالات شہباز شریف سے کرنے کی بجائے اٹھارہ مقدمے دائر کر کے عدالت میں کیوں نہیں لے کر گئے ؟ اگر ثبوت نہیں ہیں تو عوام الناس کو الجھانے کا کیا مقصد ہے ؟ کیا حکومتی ترجیحات سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہی ہیں ؟ نیب متحرک ہے مگر حکومت ابھی تک اپنے کسی الزام کو کلئیر کٹ ثابت نہیں کر سکی اور نہ ہی کوئی ایسی خاص ریکوری ہوئی جس کے نعرے انصافین ووٹ مانگتے ہوئے لگاتے تھے لہذااگر غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو تفتیشی اداروں کی نا اہلیت یا بد دیانتی کے دھندلکے ہیں اسی لیے اب کرپشن جنگ واضح طور پر انتقامی جنگ محسوس ہونے لگی ہے کیونکہ پانامہ کیس سے لیکر آشیانہ کیس تک نیب عدالت کے سامنے کوئی ثبوت پیش نہیں کئے جا سکے بلکہ الٹا درخواست واپس لینے کی نوبت آگئی ہے ۔عجیب صورتحال بنی ہوئی ہے کہ پورا نظام گرتا نظر آرہا ہے ۔عہدوں کی بندر بانٹ ،تبادلوں کی گونج ، سیاسی و عسکری تقرریاں ،میرٹ کی دھجیاں بس یہی ہیں تبدیلی سرکار کی تبدیلیاں ۔۔عوام کو بھی یقین ہو چکا ہے کہ ان کے ساتھ تبدیلی اور ریاست مدینہ کے نام پر ایک بار پھر ڈرامہ ہو چکا ہے کہ ان کی ہر فریاد ایوان کی بے حس دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے ۔عوام کیا کسی کو کسی کی فکر نہیں اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ ہے اور رائے عامہ کو پر امن طور پر منظم کرنے میں بھی کوئی ایسی قابل ذکر شخصیت سرگرم نظر نہیں آتی بلکہ میڈیائی باوے بھی حکومت مخالف بیانیے داغتے رہتے ہیں جو کہ تبدیلی سرکار کی بہت بڑی ناکامی ہے کہ میڈیا کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی ایسا ترجمان نہیں لگایا جا سکا جس کا قد واقعی اونچا ہوتا بلکہ حکومتی میرٹ کو دیکھ کر بے ساختہ شعر یاد آجا تا ہے :سر اس لیے اونچا ہے کہ قد اس کا بڑا ہے ۔۔قد اس لیے اونچا ہے کہ لاشوں پہ کھڑا ہے ۔۔!

بہرحال سیاسی اکھاڑ پچھاڑ تو سیاست کا حسن بنتی جا رہی ہے مگر اب مائنس ون کی ہلکی سی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے اور لگتا ہے کہ بڑی تبدیلی ہونے جا رہی ہے یعنی کسی کا آنا یاجانا ٹھہر گیا ہے دانشوران قیافے لگا رہے ہیں اور فالیں نکال رہے ہیں ۔۔اس سارے کھیل میں کوئی فواد چوہدری سے یہ پوچھے کہ عوام کی سپرمیسی کہاں ہے ؟ جمہوریت کہاں ہے ؟ تبدیلی کہاں ہے ؟ ریاست مدینہ کہاں ہے ؟ حکومت کہاں ہے ؟ عوام تو سسک رہے ہیں کہ مہنگائی ، کساد بازاری اور بے روزگاری نے ہلکان کر دیا ہے ۔اس پر پنجاب میں ڈینگی ، سندھ میں آوارہ کتوں ، ڈینگی ،ٹڈوں اور پشاور میں چوہوں نے عوام النا س کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں ۔ اس پر قیامت یہ کہ ان کے متعلقہ زندگی بچانے والی ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں اور جہاں دستیاب ہیں وہاں قیمت خرید کو تین گنا کر کے عوامی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے ۔صرف ٹماٹر نہیں تمام سبزیاں ہی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں ۔پانی ختم ہونے کا خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے اور سموگ نے بھی انسانی صحت کو خطرے میں ڈال رکھا ہے اور حکمرانوں کے حالات یہ ہیں کہ ملکی مسائل اور عوامی فریاد کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں کہ دعوے اسلامی انقلاب کے اور ترجیحات جمہوری بھی نہیں ہیں۔

اس سے کسی انکار ہے کہ ہر دو یا تین سال بعد حکومت کے خلاف عوامی احتجاج برپا کرنے سے آئین ، قانون اور جمہوریت کو تقویت نہیں پہنچ سکتی مگر حکمران جب آئینی اور قانونی راستہ چھوڑ کر مسلسل عوامی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں تو عدم اعتماد کی فضا کا پیدا ہونا کوئی بڑی بات نہیں اور یہ المیہ ہے کہ درد کے درماں کا وعدہ کرنے والے ہی عوامی درد کی وجہ بن چکے ہیں ۔لبوں پر وعدے ہیں ، ہاتھوں میں کاسے ہیں اور ترجیحات صریحاً تخریبی اور تشہیری ہیں ۔۔!ہر سطح پر میرٹ کی بجائے من پسندی اور ہٹ دھرمی ہے ۔کوئی کچھ ڈیلیور نہیں کرنا چاہتا ۔ ہمارے سیاست دان یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ملک عوام سے بنتے ہیں اور عوام کی خوشحالی کسی ریاست کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے اور عوام تب خوشحال ہونگے جب ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے گا ۔آپ خوشحالی کی نمائش کر رہے ہیں جبکہ حقیقی خوشحالی لوگوں کو صحت ، تعلیم ، روزگار ،انصاف جیسی بنیادی سہولیات دینے سے آئے گی جبکہ یہاں ووٹ لینے والوں کے حالات بدل جاتے ہیں اور دینے والے کچرے کے ڈھیر سے روٹیاں چنتے رہتے ہیں۔آج عوام یہی تو پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیسا انصاف ہے اور آپ کیسے انصاف کے داعی ہیں کہ’’ دودھ کی نہر شہنشاہ اپنے محل میں لے جائے ۔۔تیشۂ خوں سے پہاڑوں کا گلہ میں کا ٹوں ‘‘ وزیراعظم کہتے ہیں سندھ میں گڈ گورننس کی کمی ہے حالانکہ سندھ ہی نہیں پورے پاکستان میں گڈ گورننس کا فقدان ہے اور کوئی ایسی تبدیلی تاحال نہیں آئی جس سے عوامی حالات میں سدھار آسکے ۔تو خدارا ! ہمیں دلکش اور پر فریب وعدوں کے تار عنکبوت میں مت الجھائیے اور آپ کے بقول جو کرپٹ مافیا ہیں ان میں سے آدھے لندن میں اجلاس سجا ئے اور آدھے گھیراؤ کئے بیٹھے ہیں انھیں چھوڑ کر بلکہ ساتھ ملا کرعوامی خوشحالی اور آسانی کے لیے ٹھوس اقدامات کیجئے جوکہ دنیا اور روز حشر میں آپ کی نجات کا سبب بن سکے کیونکہ اقتدار خدا کی طرف سے آتا ہے اور مقتدر انسان خدا کے حضور مزید جھک جاتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی کوتاہی یا نا انصافی سرزد نہ ہو جائے جو دنیا و آخرت میں ذلت کا سبب بنے۔ یہ تو طے ہے کہ وہ کبھی لے کر آزماتا ہے اور کبھی دیکر آزماتا ہے کہ تیرا دشمن تیرا کردار بھی ہو سکتا ہے ۔۔آپ اقتدار چاہتے تھے تو آپ مقتدر ہیں ۔۔! اب با شعور عوام کا سوال ہے کہ :تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار میرے پاس قلم ۔۔بول سر ظلم کا تو کاٹے گا یا میں کاٹوں !!!

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 424 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Roqiya Ghazal

Read More Articles by Roqiya Ghazal: 107 Articles with 41010 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: