شہداۓ دسمبر

(Oniza, Karachi)

اسکول گٸےمیرے بچے کبھی نا لوٹ نے کے لیے۔۔۔۔۔

6 دسمبر ایسی تاریخ جو ننھے پھولوں کے خون سے لکھی ہے ۔۔۔۔

میں نے یہ سارے واقعات فرضی بیان کیے ہے وہ دن اس سے بھی زیادہ دکھی اور خوفناک تھا اور آج تک ہے اس ایک خبر نے ہر ایک آنکھ کو اشکبار کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے جلدی کرۓ آپکو پتہ ہے نا کے آج سنی کے اسکول کا پہلا دن ہے اور ہم دونوں ساتھ جارہے ہیں اسے چھوڑنے میں نہیں چاہتی کے ہم لیٹ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سن رہے ہے ناں۔۔۔۔

ہاں بھٸ پتہ ہے مجھے میں بھی اتنا ہی ایکساٸیٹڈ ہو جتنی تم ہو بس پانچ منٹ دے دو مجھے میں ابھی تیار ہو کر آتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا سنو یہ تو بتاتی جاٶ ہمارا شہزارہ کیا کر رہا ہے تیار ہوا یا نہیں ؟؟

ارے وہ تو کب سے تیار ہے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے تو بالکل بھی تنگ نہیں کیا اس نے اتنے مزے سے بیگ پہنے بیٹھا ہیکہ مجھے تو بے حد پیار آرہا ہے سنی پر آپ بھی آجاۓ اور خود ہی دیکھ لے ۔۔
۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔ ہاں بس آیا تم چلو!!!!

ارے میلا پیالا بیٹا وہ جانتے بوجھتے سنی سے توتلے انداز میں بولی تو وہ جواباً اپنی خوبصورت اور نازکی ماٸل چھوٹے چھوٹے لبوں کو ہلاتے بولا۔۔۔۔۔

مما پاپا تا اے؟ (مما پاپا کہاں ہے؟)

بس بیٹا پاپا آرہے ہے آپ جلدی سے اپنا ناشتہ فنش Finish کرٶ۔۔۔۔۔۔

وہ اسے اپنی گود میں بیٹھاۓ اپنے ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اسکے چھوٹے سے منہ میں ڈالنے لگی ۔۔۔

ارے واہ بھٸی ہمارا شہزادہ تو تیار ہے اسکول جانے کے لیے ۔
(سنی کے بابا سنی کا ماتھا چومتے بولے)

بابا یہ دیھتھے میلا سپل مین والا بیگ (بابا یہ دیکھے میرا سپر مین والا بیگ)

ارے واہ یہ تو بڑا ہی پیارا ہے سپر مین بھی ہے اس پر واٶ۔۔۔۔۔۔

اچھا تو چلے سلیم صاحب کہیں ہم لیٹ نا ہوجاۓ۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں چلو بھٸی۔۔۔۔۔

_______
ماں______

ماں میرا جیومیٹری بکس کہاں ہےماں؟
(ہمیشہ کی طرح سامنے رکھے جیومیٹری بکس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہزاد پکارا تھا)

ارے بیٹا وہی دیکھوں وہی کہیں رکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔

نہیں مل رہا نہ ماں ۔۔۔۔۔۔۔ کہاں رکھ دیا ہے آپ نے؟؟
مجھے نہیں پتہ اب مجھے ڈھونڈ کر دے؟

ارے بیٹا تم کچن میں کیوں آگٸے وہی دیکھوں مل جاٸیگا۔۔۔(وہ ناشتہ بناتے اسکی جانب دیکھتے بولی)

نہیں ماں میں نے سب جگہ دیکھ لیا ہے نہیں مل رہا مجھے پتہ نہیں آپ میری چیزیں اٹھا اٹھا کر کہاں رکھ دیتی ہے۔۔۔۔(وہ منہ بسورے بولا)

اچھا چلو میں دیکھتی ہو یہی ہوگا کہاں جاٸیگا تمہارا جیومیٹری بکس ؟

اف اوہ یہ کیا حال بنا دیا ہے کمرے کا شہزاد کب بڑے ہوگے تم؟(وہ خفا خفا سی بولی)

یہ دیکھوں یہ کیا ہے ؟؟

ارے واہ مل گیا ۔۔۔(وہ جیومیٹری بکس کو ہاتھ میں لیتے خوشی خوشی اسے بیگ میں ڈالتے بولا)

تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی پڑا تھا یہ اور تم نے پورے کمرے کا ستیاناس کر دیا حد ہے بیٹا (وہ خفا خفا سی بولی)

ارے ماں کوٸی بات نہیں آپ صاف کر دیجیے گا نہ (وہ اپنے اسی روایتی اور لا ابالی انداز میں بولا)

اب جلدی جلدی سب بند کرٶ اور ناشتے کی میز پر پہنچوں لیٹ نہیں ہوناچاہیے سمجھے ؟

جی ماں بس ابھی آیا۔۔۔۔۔
____________

اوکے ٹیچرز اب آپ سب اپنی اپنی کلاس رومز میں جاٸیے میٹنگ از اوور۔۔۔۔۔

یس میم ۔۔۔۔۔۔۔۔(وہ سب یکجاں ہوۓ بولی اور اپنی اپنی کلاس کی سمت بڑھی)

ہر طرف اک پر سکون فضا چاہی تھی بچے اپنی کلاسز میں موجود اپنی مستیوں میں مصروف حال تھے کے ایک خبر گیر نے یہ خبر پہنچاٸی کے ٹیچر کی آمد بس ہونے ہی والی ہے یہ سننا تھا کے سب دُم دُبا کر اپنی اپنی سیٹوں پر جابیٹھے اور انہیں دیکھتے اب کوٸی کہہ نہیں سکتا تھا کے آیا یہ وہی بچے ہیں یا کوٸی اور ان کی معصومانہ مسکراہٹ کے پیچھے کس قدر بدماشی چھپی تھی یہ کہنا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔۔

ہر طرف پرسکون ماحول چھایا تھا کے اچانک فاٸرنگ کی آتی زوردار آواز نے ہر جانب ایک ہلچل مچا دی تھی سب ادھر سے ادھر بھاگنے لگے اک کہرام مچ چکا تھا بچوں کی رونے کی آوازیں دل کو دہلا رہی تھی ہر چیز سمجھ سے بالاتر تھی ناجانے اگلے لمحے کیا ہونے والا تھا کوٸی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔

میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میڈم ۔۔۔۔۔۔۔۔ چوکیدار بھاگتا دوڑتا میڈیم کو پکارتا انکے کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کے وہ بولی

چوہدری یہ سب کیا ہورہا ہے یہ کیسی شورطکی آوازیں ہے؟؟

میڈیم وہ کچھ دہشت گردوں نٕے اسکول پر حملہ کر دیا ہے انکے پاس بہت سارا اسلحہ ہے میڈم ۔۔۔۔۔

کیا کہہ رہے ہوں ؟؟ حملہ دہشتگرد ؟؟ اب کو ایڈیٹوریم کی سمت جانے کا بولو اور سنو دروازے کو اچھے سے لاک کر دینا کچھ بھی ہوجاۓ باہر نہیں آنا چاہیے کوٸی بھی جلدی کرٶ جلدی (وہ چلاٸی تھی)

چلو بچوں جلدی کرٶ جلدی جلدی مس آپ کمرے کو اندر سے اچھے سے لاک لگا لو ہم باہر جاتا ہے بچوں کو باہر مت آنے دینا اور خود بھی مت آنا میڈم باہر ابھی باہر بہت سہ بچہ ہے ہم کو انہیں بھی خیر خیریت سے یہاں پہنچانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔۔۔ میں میڈم بات کررہی ہو ہمارے اسکول پر حملہ ہوگیا ہے جلدی کرۓ کچھ کرۓ سر بچوں کی جان خطرے میں ہے سر ۔۔۔۔۔

آپ فکر مت کرۓ میڈم ہم ابھی اپنی فوج بھیج رہے ہیں وہاں آپ ڈرے نہیں بس بہادر بنے پلیززز۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر دوسری جانب سے فون کو رکھ دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔

اک دم سے فاٸرنگ کی آتی آواز میں تیزی ہو چلی تھی کتنے ہی بچے زخمی اور درد میں کراہتے کلاسوں میں پڑے ٹھنڈی زمین پر پڑۓ تھے ۔۔۔۔۔۔دہشتگرد اب اسکول کے اندرونے حصے میں داخل ہو چکے تھے اور انکے کاندھوں پر لٹکتی بندوقیں اور زمین پر بلبلاتے بچوں کو دیکھ کر انکے لبوں پہ وہ حیوانیت بھری مسکراہٹ اس بات کا چیخ چیخ کر ثبوت دے رہی تھی کے واقعی میں کچھ انسان حیوانیت کے پر لے درجے سے بھی نیچلے درجے پر گر چکے ہیں اور انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔۔۔۔۔۔

ابھ اس بھگدڑ میں اپنی جان کو بچاتے سب بھاگے جارہے تھے کے اچانک شہزاد کی نظر ننھے سنی پر پڑی جو سہم کر ایک کونے میں چھپے بیٹھا تھا شہزاد اسکو اٹھا کر میڈم کی کمرے کی جانب بھاگا اور میڈم کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنے جیسے کتنے ہی بچوں کو وہاں دیکھ اسکی جان میں جان آٸی تھی۔۔۔۔۔

میڈم ہمیں بچا لے میم پلیزززز میں مرنا نہیں چاہتا میم میرے ماں باپ مر جاٸینگے میم پلیزز بچالے ہمیں پلیز وہ روتے گڑگڑاتے انکے قدموں میں جا گرا یہ سب منظر دیکھ میڈم کی آنکھوں سے بھی آنسو ٹپک کر انکے گالوں پہ آ ٹہرے تھے وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن لب کسی بھی جنبش سے قطعی انکاری تھے کے اچانک ننھا سنی بولا۔۔۔۔

وہ میلا سپل مین والا بید بھاٸی میلا بید وہی رہ دیا میلا بید (وہ میرا سپر مین والا بیگ بھاٸی وہی ہ گیا میرا بیگ) وہ رونے لگا تھا وہ نہیں جانتا تھا کے اسکا بیگ اب تک ناجانے کتنی ہی بندقوں کی نظر ہوچکا ہوگا۔۔۔۔۔
اچانک کمرے میں کے دروازے کو پیٹنے کی آوازیں سناٸی دینے لگی سب بچے سہم کر اک جانب چھپے بیٹھے تھے کے اچانک دروازہ توڑ دیا گیا اور دہشتگرد جوق در جوق کمرے میں داخل ہو چلے تھے میڈم نے سب بچوں کو کہیں نا کہیں چھپا دیا تھا اور خود سنی کو گود میں لیے ایک جانب چھپی بیٹھی تھی کے اچانک ایک دہشتگرد نے انکا تعاقب پاتے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور بیچارا سنی اپنے اسکول کے پہلے دن ہی اس جہان فانی سے رخصت ہوچلا تھا یہ دیکھتے شہزاد سے رہا نہ گیا اور اسنے انکی جان بچانے کی خاطر ایک دہشتگرد کے سر پر زور دار چوٹ ماری ہی تھی کے اچانک ایک گولی اسکے سینے سے آر پار ہوگٸی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پر چلتی خبر نے ماں باپ کو جیتے جی مار دیا تھا پر بھی وہ اک امید لگاۓ بیٹھے تھے اک امید جو زندہ رہنے کے لیے کافی تھی
سنی کے بابا میرا سنی
میرا شہزاد میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف ایک آہ و بکا چھایا تھا کے پاک فوج کی جانب سے آتے اس ایک اعلان نے سب کی جان میں جان ڈال دی تھی کے تمام دہشتگردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے اب اسکول سیف ہے اور بچے بھی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کیا خبر کس کس ماں کی گود اجڑ چکی تھی کتنوں کے لال اپنے سرخ خون میں لپٹے لہو لہان اس جہاں سے کوچ کر چکے تھے

سنی کا سپر مین والا بیگ اب بھی اسکی ماں کے سرہانے لگا ہے آج بھی وہ اسکو سینے سے لگاۓ بیٹھی ہے۔۔۔۔۔۔
شہریار کی وہ جیومیٹری بکس اس میں موجود قلم کی سیاہی آج تک اسکی ماں سوکھنے نہیں دیتی آج بھی اسکی آواز کانوں میں گونجتی ہے آج بھی وہ ماں اپنے کچن سے بھاگتے اپنے لال کےکمرے میں اسے ڈھونڈتی پھرتی ہے ۔۔۔۔۔

پر وہ پھول اب شاخوں سے ٹوٹ کر بکھر چکے ہے کے جنکی خوشبوں سے یہ پورا گلستان مہکتا ہے ۔۔۔۔۔

از عنیزہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Oniza

Read More Articles by Oniza: 4 Articles with 1209 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Dec, 2019 Views: 387

Comments

آپ کی رائے