میرا گلستان رہا خون میں لت پت

(Zain ul Abadeen, )

اُس موج کے ماتم میں روتی ہے بھَنور کی آنکھ
دریا سے اُٹھی ۔لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی
16دسمبر 1971اور 16دسمبر2014پاکستانی تاریخ کے دو بدنصیب دن ہیں جو میرے سرسبزوشاداب چمن کو لہولہو کر گئے بنگال کا مشرقی حصہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں شامل ہوا اور (EastPakistan)کہلایا۔پاکستان کے ان دونوں حصوں کے درمیان 1600کلومیڑکا ڈسٹین تھا ۔اتنے فاصلے کے باوجود پا ک جسم کے یہ دو پارٹ ایک روح کی مانند تھے۔ صرف اسلام کے رشتے سے ہم بھائی بھائی تھے۔ جبکہ نسلی اور لسانی طور پر بالکل مختلف تھے ۔15اگست7 194ء کو سرفریڈرک بورن مشرقی پاکستان کے پہلے گورنر بنے۔ بھارت 100سال بھی لگا رہتا مشرقِ پاکستان کوبنگہ دیش نہیں بنا سکتاتھا،اگرہمارے حکمران صادق اور امین ہوتے ۔مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے یااﷲ کی پکڑ جیسی قوم ویسے ہی ہم پرشرابی،کبابی،ضمیر فروش سیاسی بندر مسلط رہے۔ جنہوں نے دوقومی نظریے کا سودا اپنے بیہودہ خیالات کی تسکین،ملک میں فاشیزم کی فروغ، اندرونے اور بیرونے ملک اربوں ڈالر کی پراپرٹیز،اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جڑے ذاتی مفادات کیخاطردنیا کی سبسے بڑی اسلامی اور نظریاتی ریاست پاکستان کو درمیان سے کاٹ کرہمارادایاں بازو ہم سے الگ کیا۔ہمارے مشترکہ دشمن کہ اس مذموم حملے میں کل تین سہولتکارجن میں مکتی باہنی،ذوالفقارعلی بُھٹو،اورشیخ مجیب شامل تھے۔ قیام پاکستان کے وقت مشرقِ پاکستان کے تمام سکول ،کالج اوریونیورسٹیز میں اساتذہ ہندہ تھے۔ جہنونے 47 سے 71تک پورے 24سال بنگالی لوگوں کو اچھی طرح برین واش کیااور نظریہ پاکستان کے خلاف خوب زہر انکی کانوں میں بھر۔قائداعظم کی رحلت کے بعد کوئی بھی سیاسی شخصیت بنگالیوں کو اپنا ہم خیال نہ بنا سکی۔ نفررتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ جب ملک میں 1970 کے عام انتخابات ہوئے جسمیں مغربی پاکستان سے پیپلزپارٹی اور مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ کامیاب ہوئی۔ کرسی کے نشے میں دھند بُھٹو نے ادھر ہم اُدھر تم کا نعرہ لگا دیا۔گوونر راج اور شیخ مجیب کی ڈرامائی انداز میں گرفتاری جلتی ہوئی آگ پر پیٹرول چھڑکنے کے مترادف تھی۔ شیخ مجیب نے انتخابی مہم میں عوامی خدمت کے چھے پوائنت پیش کر کے جبکہ بُھٹو نے روٹی کپڑا اور مکان ،طاقت کا سر چشمہ عوام جیسے جعلی خوابوں کے ذریعے مشرقی اور مغربی پاکستانیوں کو خوب بیوقوف بنایا۔ہونا تو یہ چاہیے تھے عوامی مینڈٹ ملنے کے بعددونوں ہاتھ ملا کے کُند بن جاتے، مگر جہاں سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی بجائے سندھی اور بنگالی کا نعرہ بلند کیا گیا، جو نظریہ پاکستان سے انحراف اور ملک سے غداری تھی ۔پہلی بار حکومت کرنیکا جنون پاگل پنکی آخری حدود بھی کراس کر چکا تھا، جسنے ریاست کو ناقابل تافی نقصان پہنچا یا۔مجیب ذوالفقاراقتدار کے شکاریوں کی روزپری کانفرس اورریلیاں پورے ملک میں فسادت ہونے لگے، موقع کوغنیمت جانتے ہوئے ہمارے روایتی دشمن نے نجانے کونسی تیلی پھینکی کہ بُھٹو اور شیخ بھارتی گود میں جا گرے اپناہی گلستان کو راکھ کرنے پر تُل گئے۔قتل وغارت ،ہرتالیں اورفیکٹریاں جلائے جانامعمول کا حصہ بن چکا تھا۔ سوال کیا یہ حالات صرف 71والے سال میں پیدا ہوئے؟جواب نہیں بلکہ کئی سال پہلے کی رچی ہوئی ازلی دشمن کی عالمی سازش تھی جسمیں بھارت کے ساتھ روس کے علاوہ امریکہ اور اسرائیل بھی برابر کے شریک تھے۔اسی ملکی خانہ جنگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اور سیکورٹی کا بہانا بناتے ہوئے ہندوستان نے مغربی پاکستان کا فضائی روٹ معطل کر دیاجسسے مشرقی اور مغربی پاکستان ایکدوسرے سے بالکل جدا ہو کر رہ گئے ۔پھر بھارت نے خوب چل چلتے ہوئے اپنا ایک مسافر طیار اغوا کرکے اُس کا الزام پاکستان پہ دھرا دیااور دوسرے ہی لمہے مشرقی پاکستان پر حملہ کر دیاہندوستانی فوج کے روپ میں مکتی باہنی جسکا ذکر میں نے اُوپر سہولتکاروں میں بھی کیا ہے ان جانور نما وحشی درندوں کو بنگالی عورتوں کا ریپ کرنے کا شرمناک ٹاسک دیا گیا۔دشمن کی اس مذموم حرکت کو پایہ تکیمل تک پہنچنے میں ذوالفقار علی بُھٹو اور شیخ مجیب پیش پیش تھے اسکی وجہ پاک فوج سے بغص تھا جو ملک کو اس خطرناک صورتحال سے باہر نکلنے کا درمیانی راستہ بنا رہی تھی ۔یاد رکھیں جب اپنے ہی امیر صادق اورجعفر نکل آئیں پھر دنیا کی سپر پاور بھی ٹکرے ٹکرے ہو جاتی ہے، ادھر تو ایک غریب ملک تھاجسے آزاد ہوئے چوبیس برس ہوئے تھے اورزیادہ تر دشمن ہی تھے ایک آدھا دوست وہ بھی مطلب کی حد تک ایسے حالات میں کسی ملک کا بچ جانا کوئی معجزہ ہی ہو سکتا ہے جو خدا کو یہاں منظور نہیں تھابنگادیش تو بن گیامگر بنانے والے سہولتکاری کرنے والے سقوط ڈھاکہ کے تمام کردار رب کریم نے نشان عبرت بنا دیے۔بُھٹو کی پھانسی لے کرشیخ مجیب کے قتل تک دونوں نے خاندانوں سمیت اپنے کئے کی کی سزا۔دشمن نے ٹھیک 43سال بعد6دسمبر 2014 کوایک پھر حملہ کیا اسبار نشان آرمی پبلک سکول پشاور تھاجدھرمستقبل کے آرمی آفیسر زیر تعلم تھے۔یہاں سکول سٹاف سمیت 150چاند جیسے پیارے بچوں نے جام شہادت نوش کیا۔دو روحانی مائیں ایک جو زندہ جل گئی دوسری میڈم طاہرقاضی جنکے پاس جان بچانے کا موقع تھامگر معصوم پھلو ں کو بچاتے ہوئے افواج پاکستان کو بر وقت کال کرتے ہوئے شہید ہو گئیں۔ان دو میم نے بالکل ماں جیسی ممتا کا حق ادا کر دیاجسکی وجہ سے تقریبا 750قمتی انسانی جانیں بچ گئیں۔پاکستانی قوم کی طرف سے ان دونوں بہادرٹیچرزکوسلیوٹ۔اسی حوالے سے امجد اسلام امجد کی نظم سے چند اشعار۔
تم زندہ ہو
جب تک دنیا باقی ہے تم زندہ ہو
اے میرے وطن کے شہزادو ، تم زندہ ہو
خوشبو کی طرح اے پھولو، تم زندہ ہو
ہر ماں کی پُرنم آنکھوں میں
ہر باپ کے ٹوٹے خوابوں میں
ہر بہن کی الجھی سانسوں میں
ہر بھائی کی بکھری یادوں میں
تم زندہ ہو۔ تم زندہ ہو
 
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 100 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain ul Abadeen

Read More Articles by Zain ul Abadeen: 15 Articles with 3274 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: