میرا گناہ کیا تھا؟

(RIAZ HUSSAIN, Chichawatni)
ماں کا تنگ آکر اپنے بیٹے کے قاتل کو خود قتل کرنا, دارالامان جیسے ادارے میں بے سرو ساماں بیٹیاں امرا کے بستر کی رونق بنای جانے لگے تو پھر پیچھے کیا رہ گیا... اس سے بڑھ کرسندھ میں دل ہلا دینے والا درد ناک قسم کا جرگہ فیصکہ پوری انسانیت کا قاتل ثابت ہوا اورریاست مدینہ اور ادارے خاموش..

سنگ اٹھانے والو.... سنگ اٹھانے سے اپنے گریبانوں میں جھانکا تو ہوتا..
دین اسلام نے دنیا کی ہدایت آقا دو عالم صلی اللہ وآلہ وسلم ختم النبین مکمل کردی اسوہ حسنہ ہمارے لیے ہدایت اور رہنمای..
سندھ آج بھی دایرہ اسلام سے پہلے کے ادوار میں زندگی بسر کر رہے ہیں.. بنی.
, کاروکاری تیزی سے گھناونا جرم آے روز ہو رہا ہے...بلکہ اثرورسوخ اور وڈیرہ شاہی کے لیے قانون راخیل بن چکا ہے... جس کی بدولت آج پاکستا ن میں انصاف عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا... ماں کا تنگ آکر اپنے بیٹے کے قاتل کو خود قتل کرنا, دارالامان جیسے ادارے میں بے سرو ساماں بیٹیاں امرا کے بستر کی رونق بنای جانے لگے تو پھر پیچھے کیا رہ گیا... اس سے بڑھ کرسندھ میں دل ہلا دینے والا درد ناک قسم کا جرگہ فیصکہ پوری انسانیت کا قاتل ثابت ہوا اورریاست مدینہ اور ادارے خاموش..

جب سندھ میں غیرت کے نام پر معصوم گل سمان رند سنگسار ہورہی تھی، پتھر لگنے سے جسم زخمی اور ہڈیاں ٹوٹ رہی تھیں تو معصوم بچی نے کتنی دردناک چیخیں نکالی ہوگی، کتنی روئی ہوگی، بچاؤ بچاؤ کے کتنے درخواستیں کی ہوں گی، رحم کی کتنی اپیلیں کی ہوں گی، درد کے مارے کتنی تڑپی ہوگی اور خون میں لت پت گل سمان رند نے بچنے کیلئے کتنے ہاتھ پاؤں چلائے ہوں گے اور مرنے سے پہلے کتنا درد برداشت کیا ہوگا؟؟؟
جرم فقط اتنا تھا کہ قریبی عزیزوں نے تیرہ سالہ گل سمان رند کا رشتہ مانگا۔ ماں نے جواب دیا کہ گل سمان کی عمر کم ھے لہذا فلحال رشتہ نہیں دے سکتی ہوں۔ چند ماہ بعد عزیزوں نے گل سمان پر کاری کا الزام لگایا اور جرگہ نے سنگسار کا فیصلہ سنایا اور سماج کے انسان نما درندوں نے جرگہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے پتھر مار مار کر قتل کیا اور بطور ثواب قبر کو بھی پھانسی دی۔
یہ سانحہ پاکستان میں انسان اور انسانیت کا قتل ھے۔ حکومت اور عدلیہ ایسے سانحات رکوانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایسی سانحات رکوانے کی بجائے پارلیمان تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں کمزوروں خصوصاً خواتین پر ظلم و ستم جرم تصور نہیں ہوتا۔ سزا اور انصاف کا نظام ختم ھے۔ کسی ادارے سے مظلوموں اور کمزوروں کو انصاف کی امید نہیں ھے۔ بس باری باری ھے کہ کب کس کی باری ھے؟؟؟؟؟ اللہ کریم ریاست مدینہ کی تعریف و مفہوم سمجھنے اور اداروں کو بھی ماں کا رول ادا کرنا چاہیے... اللہ کریم ہم سب پر اپنا کرم فرماے آمینممیراممممممم
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 99 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: RIAZ HUSSAIN

Read More Articles by RIAZ HUSSAIN: 72 Articles with 32066 views »
Controller: Joint Forces Public School- Chichawatni. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: