جوئیں اور خواتین

(سید شازل شاہ گیلانی, Peshawar)

یہ بڑا ہی نازک موضوع ہے , اس پر قلم اٹھانے کے لیے بڑے
دل گردے کی ضرورت ہے....
عورتوں اور جوؤں کا بڑا ہی دیرینہ تعلق ہے...
جہاں عورتیں ہوں وہاں تو جوئیں پائی ہی جاتی ہیں اور جہاں جوئیں ہوں وہاں بھی عورتوں کی موجودگی بعید از قیاس نہیں ...
ویسے عورتوں سے زیادہ لڑکیاں کہنا مناسب ہو گا...
کیونکہ عورتیں تو جوؤں کی اتنی عادی ہو چکی ہوتی ہیں , کہ اگر ان کو کوئی جوؤں کا طعنہ بھی دے تو وہ برا نہیں مناتیں...
کبھی نہ کبھی آپ نے بھی سلکی اور ریشمی بالوں میں...
موتیے کے پھولوں کی لڑیوں کی طرح جوئیں لٹکتی دیکھی ہوں گی ...
بلکہ بھٹکتی دیکھی ہوں گی...
کچھ عورتوں کا جوؤں کے معاملے میں ایک خاموش معاہدہ طے پایا ہوتا ہے...
عورتیں مطلب لڑکیاں دوسری لڑکیوں کے سر میں جوں دیکھ کر خاموشی سے اس پر نظر جما کر بیٹھی رہیں گی , پر بولیں گی کچھ نہیں.....
یا پھر بہانے سے اس کے سر پر ہاتھ مار کر اس معصوم مخلوق کو دوبارہ بالوں کے جنگل میں غائب ہونے پر مجبور کر دیں گی... ۔ آخر انسان انسان کا دارو ہوتا ہے ۔
ایسی عورت کے سامنے جب کوئی صاحب _ جوں اپنے سر میں ہونے والی خارش کی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ کیا کروں باجی بہت خشکی ہے سر میں...
تو وہ ایک منٹ ضائع کیے بنا ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتی ہے , ہاں بہن مجھے بھی ایسے ہی خارش ہوتی ہے سکری بہت ہے ناں سر میں ...
بعض لمبے ناخن والی عورتیں جب بھی اپنے گھنے جنگل میں کڑچھا ماریں , کبھی وار خالی نہیں جاتا...
ایک آدھ ہرن کا شکار تو پکا ہے جناب...
اور تو اور کچھ شکار پکڑ کر بھری محفل میں چپکے سے ناخن پر رکھ کر ........ چٹ.....
شکار کی باقیات دائیں بائیں بیٹھی کسی نا پسندیدہ خاتون کے کپڑوں پر دفن کر دیں گی ۔
جو لڑکیاں اندھیرے میں شکار کرتی ہیں وہ قتل کے لیے ٹچ موبائل کی سکرین پر ہی چٹ کر لیتی ہیں...
بعض عورتیں جنہیں کبھی جوؤں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہو وہ ہمیشہ دوسروں کو شرمندہ کرتی نظر آتی ہیں...
اکثر جان بوجھ کر بالوں میں ہاتھ پھیر کر چیک کرتی ہیں...
اگر کبھی کسی کی جوں نظر آ جائے تو بیس لوگوں میں بھی آرام سے مالکہ کے ہاتھ پر رکھ دیں گی...
اور کہیں گی بہن , یہ لو اپنی امانت....
ہوسٹل میں رہنے والی کچھ لڑکیوں کی تحقیق سے پتا چلا ....
کہ جہاں اور بہت ساری چیزوں کا لین دین چلتا ہے وہیں سب سے زیادہ لی اور دی جانے والی چیز جوئیں ہیں....
کچھ بےچارے شادی شدہ مرد حضرات بھی اس پریشانی کے عالم میں نظر آتے ہیں...
کہ کہیں کسی خوبصورت لڑکی نے ان کے کپڑوں پر
ان کی بیگم کا بھیجا ہوا
باڈی_گارڈ رینگتا ہوا
دیکھ لیا تو سارے خواب چوپٹ....
عام طور پر سبھی متاثرہ خواتین جوؤں کا الزام بچوں اور ماسیوں پر لگادیتی ہیں...
اور خود بڑی صفائی سے بری الذمہ ہوجاتی ہیں...
اس پوسٹ کو میرا تجربہ نہیں تجزیہ سمجھا جائے
"شکریہ ".......
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 304 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سید شازل شاہ گیلانی

Read More Articles by سید شازل شاہ گیلانی: 3 Articles with 2056 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: