درد_زندگی - قسط_نمبر_13

(Aiman Shah Bangash, Islamabad)

جیا پلز گھر چلو حیا جیا کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا ابھی تو کچھ چیزیں رہتی ہے نہ جو لینی ہے ۔۔۔۔۔۔جیا حیران نظرو سے حیا کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔

ٹھیک ہے پھر میں جا رہی ہوں ۔۔۔حیا جیا سے ہاتھ چھوڑا کے جانے لگی ۔۔۔۔

تبھی جیا اس کے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔۔

***
اویس مجھے آج رات تک ساری انفارمیشن چاہیے ۔۔۔۔۔شہری کے بارے میں وہ کون ہے حیا کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے ۔۔۔۔۔فل ڈیٹیل اوکے ۔۔۔۔۔۔۔

سمیر کے دماغ میں آب بھی حیا والی بات چل رہی تھی اسلئے اس نے اویس سے ساری انفارمیشن معلوم کرنے کے لئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔

***
السلام عليكم انٹی ۔۔۔۔۔!!

وعلیکم السلام شہری بیٹا ۔۔۔!!
فلک الیان نے شہری کو پیار سے جواب دیا ۔۔۔۔

انٹی حیا کہاں ہے ماما نے اس کے لئے شاپنگ کی تو وہی دینے آیا ہو ۔۔۔۔شہری ادر ادر نظریں گماتے ہوئے پوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔

بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔حیا اپنے کمرے میں ہے آپ مل لو اسے ۔۔۔۔۔۔

اوکے انٹی ۔۔۔۔۔

اہو میری گڑیا یہاں بیٹھی ہے ۔۔۔شہری حیا کے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

جس پر حیا نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔

یہ دیکھو تمہارے لئے کیا لایا ہوں ۔۔۔۔شہری اسے چیزیں دکھانے لگا ۔۔۔۔

تو حیا نیچے دیکھنے لگی ۔۔۔۔

کیا ہوا حیا کیسی نے کچھ کہا ہے کیا کیوں اداس ہو ۔۔؟
شہری اس کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے پوچنے لگا ۔۔۔۔

خود ہی غم دے کر پوچتے ہو کیوں اداس ہو ۔۔۔۔حیا اسے اپنا ہاتھ چھوڑا تے ہوئے بولی ۔۔۔۔

لکین آب وہ اپنے آنسوں نہیں روک سکی ۔۔۔۔

حیا رونا بند کرو پلز بتاؤ نہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔شہری نےایک ہاتھ سے اسے پکڑ کے اپنے قریب کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسوں صاف کرنے لگا ۔۔۔

وہ کون تھی جس سے مل کے آرہے ہو۔۔۔۔حیا اسے شک کی نظر سے دیکھتے ہوئے پوچنے لگی ۔۔۔

حیا کی بات سن کر شہری نے ہنسنے ہوئے حیا کو گلے لگا لیا ۔۔۔

یار تم نے تو جان نکل دیتی میری مجھے لگا میں نے ایسا بھی کیا کردیا ۔۔۔۔

کیا تمہارے لئے یہ چھوٹی سی بات ہے حیا اس کے سینے پے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

نہیں میری جان وہ صرف دوست ہے ۔۔۔۔تم تو میری جان ہو ہونے والی وائف میری عزت ۔۔۔۔
شہری حیا کا ہاتھ پکڑ کے آب اسے سمجھانے لگا ۔۔۔

حیا کیا تم مجھے ایسا لڑکا سمجھتی ہو ۔۔۔۔تم صرف ماما کی پسند نہیں میری بھی ہو اور جانتی ہو کیوں ۔۔۔۔

کیوں کے تم ایک عزت دار لڑکی ہو جو صرف خوبصورت ہی نہیں اس کا دل بھی اس کی طرح خوبصورت اور صاف ہے ۔۔۔

جس میں صرف میں اونگا تمہارا شوہر بن کے ۔۔۔۔۔

اور جس لڑکی سے میں ملا تھا وہ میرے آفس میں کام کرتی ہے خود ہی مجھے بلایا ۔۔۔۔بہت سخت فیملی ہے اس کی ۔۔۔۔

لکین اس کے باوجود بھی ۔۔۔
حیا خاموشی سے اس کی ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔

اور حیا انسان سب سے زیادہ پیار کس سےکرتا ہے اپنے پرنٹس سے نہ اور جو لڑکی اپنے ماما ،بابا کو دھوکہ دیتی ہے ۔۔۔ان سے چپ کے مجھسے ملنے آتی ہو ۔۔۔

ان کا بھروسہ تھوڑ کے پکچر سینڈ کرتی ہو ۔۔۔

تو تمہیں کیا لگتا ہے میں اسے شادی کرونگا کیا وہ شادی کے بعد مجھے دھوکہ نہیں دے سکتی ۔۔۔کیا وہ میرا بھروسہ نہیں تھوڑ سکتی ۔۔جو اپنی ماما ،بابا کی نہ ہو سکی وہ میری کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔

حیا گرل فرینڈ اور بویفرینڈد رشتہ صرف ایک مذاق ہے ۔۔۔
لڑکی کے لئے سب سے ضروری اس کی عزت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔

اور ہر لڑکے یہی چاہتا ہے کے اس کی وائف ایک عزت دار لڑکی ہو ۔۔۔۔

ہر لڑکا شادی کرنے سے پہلے لڑکی کی فل ڈیٹیل نکلتا ہے کے اس کا کوئی پاسٹ تو نہیں تھا ۔۔۔اس کا فیملی بک گراؤنڈ کیسا ہے بہت سی چیزیں دیکھنے پڑھتی ہے ۔۔۔۔

یہ جو آج کل چل رہا ہے نہ کے پہلی نظر میں پیار ہو گیا یہ سب جھوٹے ہوتے ہیں ۔۔۔یہی لڑکے اس بیچاری لڑکی کی پکچر آپنے دوستوں کو دیکھا کے اس کا مذاق بناتے ہیں ۔۔۔۔۔

اور جو لڑکا سچا پیار کرتا ہو وہ کبھی آپ سے پکچر نہیں مانگے گا ،کال پے بات نہیں کرے گا ، آپ سے نہیں ملے گا ۔۔۔ڈائریکٹ گھر رشتہ بیجيے گا ۔۔۔۔۔

جس طرح میں نے کیا اس کو اپنی عزت سمجھے گا جس طرح تم ہو میری عزت ۔۔۔۔

شہری آخری بات مسکراتے ہوئے بولا جس پر حیا بھی مسکرائی ۔۔۔۔

مجھے ہر وقت تم ہی یاد آتی ہو ۔۔۔۔۔

کیسی سنسان سپنے میں چھپی خواہش کی حدت میں ۔۔۔۔
کیسی مصروفیت کے موڑ پر
تنہائی کے صحراوں میں
یا پھر کیسی انجان بیماری کی شدت میں
مجھے تم یاد اتے ہو ۔۔۔۔

کیسی بچڑے ہوئے کی چشم پرنم کے نظا رے پر
کسی بیتے ہوئے دن کی تھکن کی اوٹ سے
یا پھر تمہارے ذکر میں گزری ہوئی شب کے اشارے پر
مجھے تم یاد آتی ہو
شہری حیا کو قریب کرتے ہوئے شرارتی انداز میں بول رہا تھا ۔۔۔

بس بس باتیں بنانا کوئی تم سے سیکھے ۔۔۔آب جاؤ بھی ماما کیا سوچھیں گی کب سے میرے روم میں ہو ۔۔۔۔

جو سوچے سوچنے دو اپنی وائف کے کمرے میں ہوں ۔۔۔
ظالم آب کوفی پلاؤ گی یا اسے ہی جاؤں ۔۔۔۔

اوہ سوری بھول گئی تھی ابھی بنا کے لاتی ہوں ۔۔۔۔

( ناول :- جاری ہے)

آج کی ایپیسوڈ کسی لگی اور شہری کی بات سے کون کون اگری ہے ۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 176 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aiman Shah Bangash

Read More Articles by Aiman Shah Bangash: 14 Articles with 3480 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: