درد-زندگی - قسط-نمبر-14

(Aiman Shah Bangash, Islamabad)

یہ لو ساری ڈیٹیل ۔۔۔۔شہری کی اور ایک ہفتے کے بعد حیا کی شہری کے ساتھ شادی ہے ۔۔۔۔۔
اویس سمیر کو لسٹ دیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

آہا آب ایگا نہ اصل مزا سمیر دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کے انگاریياں لیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

سمیر تو کیا کرنے والا ہے ۔۔۔۔اویس اس کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے اخیر وہ کیا کرنے والا ہے ۔۔۔لکین نہیں سمجھ پا رہا تھا ۔۔۔۔۔

بس تم دیکھتے جاؤ ۔۔۔۔سمیر اسے آنکھ مرتے ہوئے بولا ۔۔۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے کے تبھی وہاں مناہل آیی ۔۔۔
اور اویس کے گلے سے لگ کے رونے لگی ۔۔۔۔

پلز بچا لو مجھے دو دن بعد نکاح ہے میرا کزن کے ساتھ میں اسے پیار نہیں کرتی ۔۔۔۔مناہل روتے ہوئے اسے ساری باتیں بتانے لگی ۔۔۔۔

اور سمیر حیران نظروں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

پیچھے ہٹو کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔میں کیا کروں یہ تمہارا اور تمہاری فیملی کا پرسنل معملہ ہے مجھے کیوں بتا رہی ہو ۔۔۔

اویس اسے خود سے دور کرتے ہوئے غصے سے بولا ۔۔۔۔

تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے پیار کرتے تھے تم مجھ سے ۔۔۔۔مناہل اسے گریبان سے پکڑ کے بول رہی تھی اونچی آواز میں ۔۔۔۔

میں نے کبھی کہا ہے تم سے کے میں تم سے شادی کرونگا ۔۔۔سمیر آب مناہل کو ڈانٹ رہا تھا ۔۔۔

اویس س س ۔۔۔۔حیا نے غصے سے اسے پکارا تو سب کی توجہ حیا پے ہوئی ۔۔۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی اونچی آواز میں بات کرنے کی جان سے مار دونگی میں تمہیں ۔۔۔۔حیا غصے سے اویس کو بول رہی تھی لکین دیکھ سمیر کو رہی تھی ۔۔۔۔

پستول دوں میں ۔۔۔تبھی سمیر کو شرارت سوجی اور مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔

شٹ اپ ۔۔۔۔حیا نے اسے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔

اوکے مم بولے آپ۔۔۔۔ میں چپ ہوں ۔۔۔سمیر آب بھی مسکرا رہا تھا کیوں کے اسے یہ سارا منزل دیکھ کے مزا آرہا تھا ۔۔۔۔۔

لیکن اویس صرف سمیر کی وجہ سے چپ تھا تبھی حیا کی ساری باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔۔

مسٹر اویس کیا سمجھتے ہو تم خود کو کسی لڑکی کی فیلنگس کے ساتھ کھیل کے خود کو مرد سمجھتے ہو ۔۔۔۔۔

پیار یہ نہیں وہ کرتی ہے تبھی سمیر بول اٹھا۔۔۔۔

تم تو چپ ہی رہو گھٹیا اور لوفر لڑکے تم لوگوں کے جیسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔۔

یہی تربیت کی ہے تم لوگوں کے پرنٹس نے ۔۔۔۔۔
پیار کا مطلب پھلے سیکھو پھر بات کرنا مجھ سے ۔۔۔

تبھی سمیر نے غصے سے حیا کا ہاتھ پکڑا اور اسے خود سے بے حد قریب کر کے چپ رہنے کا کہا ۔۔۔آب اگر ایک اور لفظ بھی بولا تو اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔

حیا سمیر کی آنکھوں میں غصہ صاف دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔لکین اس وقت وہ اس کے سامنے کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی ۔۔۔

****

سمیر 3 سال کا تھا کے اس کے پرنٹس کی کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوئی۔۔۔

تبھی سمیر کو اس کی چچی نائلہ نے خیال رکھا نائلہ کی ایک بیٹی تھی صنم۔۔۔

لکین وہ جتنا پیار صنم سے کرتی تھی اتنا ہی سمیر سے بھی ۔۔۔

سمیر اپنے پرنٹس سے بہت پیار کرتا ہے اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔

**

چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے حیا سمیر سے کہنے لگی ۔۔۔

سمیر نے غصے میں اپنی ہاتھ کی گریفت اور بھی مضبوط کرلی ۔۔

حیا نے اپنا نازک ہاتھ چرانے کی بہت کوشش کی لکین سمیر کی گریفت بہت مضبوط تھی ۔۔۔۔

****

آیئندہ کے بعد غلطی سے بھی میرے پرنٹس کا نام تمھاری زبان پے نہ ایں سمجھی ۔۔۔۔

غصہ تو سمیر کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔

**

لونگی نام جو کر سکتے ہو کرو تم سب ہی ایک جیسے ہو ۔۔۔سمجھے تم ۔۔۔۔۔جیسے تم لوفر ویسے ہی تمہارے دوست ۔۔۔۔

سمیر نے غصے سے اپنی گریفت اور بھی مضبوط کرلی ۔۔۔۔

حیا کا ہاتھ بہت درد کر رہا تھا لکین سمیر کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

لیکن برداشت کرتے کرتے بھی اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے ۔۔۔۔۔

**

تبھی اویس اگے بڑھا چھوڑو اسے سمیر ۔۔۔۔۔

سمیر نے غصے سے حیا کا ہاتھ چھوڑا جس سے وہ ٹیبل سے جا لگی ۔۔۔۔

حیا تم ٹھیک ہو مناہل نے اگے بڑھ کے اسے سہارا دیا ۔۔۔۔۔

انسان نہیں ہو تم جنگلی ہو نفرت ہے مجھے تم سے ۔۔۔

حیا غصے میں کہ کے وہاں سے چلی گئی ۔۔۔۔۔

سمیر آر یو اوکے ۔۔۔!! اویس فکر مندی سے پوچنے لگا کیوں کے اس کو سمیر کی کمزوری پتا تھی ۔۔۔

جو کے اپنے پرنٹس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا ۔۔۔۔

اویس آب جو میں تمہیں کہونگا تم صرف وہی کروگے سمجھے ۔۔۔

یار دوست ہے تو میرا میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں اویس اسے بھروسہ دلاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

***

السلام علیکم !! حیا گھر آیی تو ماما کو دیکھ کے سلام کیا ۔۔۔۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔!!حیا پیپر کیسے ہوا فلک الیان اسے پوچنے لگی ۔۔۔۔

ماما بہت اچھا ۔۔۔حیا نہ چاھتے ہوئے بھی ماما کو مسکراتے ہوئے جواب دے رہی تھی ۔۔۔

گڈ بیٹا پہلا اچھا ہوا تو انشاءلله اور بھی اچھے ہونگے۔۔۔۔

ماما کیا اپی اور بھائی آینگے حیا نے اچانک ہی ان کا پوچھا ۔۔۔۔۔ ؟؟

نہیں بیٹا وہ لوگ دور ہے نہیں آسکتے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔چلو کھانا کھا کے سو جاؤ آرام کرو ۔۔۔۔

نہیں ماما بھوک نہیں حیا روم میں جاتے ہوئے بولی ۔۔۔

ارے بیٹا ایک ہفتے کے بعد تمہاری شادی ہے اپنا خیال رکھو ۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کا بھی نہ کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔!!

حیا نے روم میں انے کے بعد اپنی ڈائری کھولی اور لکھنا سٹارٹ کیا ۔۔۔۔

میں نے اپنی زندگی کے گزرے ہوۓ چند دنوں سے جو سیکھا ہے وہ ہے خاموش ہو جانا
کوئی دل دکھاۓ،خاموش ہو جاٶ۔۔۔۔

کوئی آپ کے بارے میں غلط بات کرے، خاموش ہو جاٶ رونے کا دل چاہے، خاموش ہو جاٶ ۔۔۔۔۔

ازیّت حدوں کو چھونے لگے، خاموش ہو جاٶ ماضی کے دکھ دن و رات کے کسی بھی پہر آپ کو رلانے آئیں، خاموش ہو جاٶ

کوئی آپ کو آپ کی برداشت کی آخری حد تک ستاۓ، تب بھی خاموش ہو جاٶ ۔۔۔

آپ کی اس خاموشی کا اجر آپ کو آپ کا رب ایسے عطا کرے گا کہ آپ کی آنکھیں تشّکر سے بھیگ جائیں گی۔

آپ کا دل ان شکر کے سجدوں میں ہی کہیں رہ جاۓ گا اور اس لمحے آپ کو احساس ہو گا کہ خاموش ہو جانا کس قدر بہتر ہے گلہ و شکوہ کرنے سے__!!!

( ناول :- جاری ہے )

آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے آب سمیر کس طرح حیا سے بدلہ لیگا؟ ۔۔۔😟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 145 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aiman Shah Bangash

Read More Articles by Aiman Shah Bangash: 14 Articles with 3420 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: