دل شکستہ - قسط نمبر: 4

(Sana Waheed, Karachi)

آئی ایم سوری۔ میں آپ لوگوں کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا۔ دارین اپنے ماموں ممانی کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
تم نے اچھا نہیں کیا دارین تمہاری اس نیچر کے ساتھ کوئی بھی عورت گزارہ نہیں کرسکتی۔ اصل میں تمہیں ابیشہ سے معافی مانگنی چاہیے۔ ممانی(راحیلہ) نے خفگی سے بولا۔
اور معافی مانگنے سے کیا ہوگا۔ نہ میری نیچر بدلے گینہ ہی ابیشہ کی۔آج تک میں ابیشہ کے شک کو اسکی ایسی کمزوری سمجھتا رہا جس پر شاید اسکا کوئی اختیار نہیں لیکن اب اس نے میری ہر وہ خوش فہمی دور کردی جو مجھے اس سے تھی۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے میں اب اس رشتے کو مزید نہیں نبھا سکتا۔وہ اپنا فیصلہ سنانے آیا تھا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ مامو(ثاقب احمد) نے حیرانی سے پوچھا۔
مطلب صاف ہے ماموں میں ابیشہ کو ڈیورس دینا چاہتا ہوں۔
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے اتنی سی بات پر اتنا بڑا فیصلہ کیسے کر سکتے ہو تم؟ اور کس کے لئے کرنا چاہتے ہو یہ اس لڑکی کے لئے۔ ثاقب احمد غصے میں تھے۔
اس نے تو ہمارا بھی لحاظ نہیں کیا۔ راحیلہنے بھی غصے سے بولا۔
میں جانتا ہوں میرے پیرنٹس کی ڈیتھ کے بعد آپ نے مجھے اپنے گھر میں بہت پیار اور عزت سے رکھا (وہ راحیلہ کی بات کا مطلب سمجھ چکا تھا) اور شاید اسی لئے میں ابیشہ کی ہر بات برداشت کرتا رہا اورہربار غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی غلطی تسلیم کرتا رہالیکن اب اگر میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں تو اسکیوجہ سدرہ یا کوئی بھی دوسری عورت نہیں ہے بلکہ ابیشہ خود ہے۔ دارین نے تحمل سے جواب دیا۔
تم نے ہمیشہ دوسروں کے لئے اپنی فیملی کو نظر انداز کیا ہے دارین تم اچھا نہیں کر رہے۔ ثاقب احمد نے سمجھانے کی کوشش کی۔
میں جانتا ہوں آپ لوگ مجھے غلط سمجھتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے میں بےوقوف ہوں۔ لوگ میری دریا دلی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیںتو میں آپ کی سوچ نہیں بدل سکتا۔میں جو کرتا ہوں اس سے مجھے سکون ملتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا لوگ صاحب حیثیت ہوتے ہوئے بھی کیوں دوسرے لوگوں کو بھوکا مرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں دوسرے کے بچوں کی بہتر تعلیم کے لئے کوشش نہیں کرتے؟ کیوں غریبوں کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھی رہ جاتی ہیں؟میں اپنی دولت سر عام نہیں لٹاتا لیکن جو کچھ میری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے میں اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔میں گن کر دیتا ہوں بدلے میں میرا رب مجھے بے حساب دیتا ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو یہ فارمولا سمجھ نہیں آئے گا۔ کیونکہ آپ لوگوں کی نظر میں بینک اکاونٹس ، زیورات اور جائیداد کا تناسب ہی دولت ناپنے کا پیمانہ ہیں۔
اور تمہاری نظر میں کیا پیمانہ ہے دولت ناپنے کا؟؟؟ تم دنیا سے ہٹ کر چلو اور یہ سوچو کے باقی سب بھی تمہیں فولو کریں ۔ تمہارے اس من گڑت فارمولے پر نہ بزنس چلتے ہیں نہ گھر۔اور تمہیں کیا لگتا ہے ہم اللہ کی راہ میں کچھ نہیں نکالتے۔ ہم صدقہ خیرات یا زکوة ادا نہیں کرتے؟ ثاقب احمد نے طیش میں آکر جواب دیا۔
میری نظر میں دولت ناپنے کا پیمانہ صرف یہ ہے کہ میری ضرورتیں اچھی طرح سے پوری ہوں۔ مجھے یا میری فیملی کو اپنے کسی بھی خواہش ، شوق یا ضرورت کے لئے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور ٹرسٹ می مامو میں نے کبھی بھی ابیشہ کی کسی چیز میں کمی کرکے لوگوں کی مدد نہیں کی۔میں نے کبھی بھی دوسروں کے لئے اپنی فیملی کو اگنور نہیں کیا۔اور شاید اسی لئے میرے دل پر کوئی بوجھ نہیں ہے میں نہیں چاہتا سب مجھے فولو کریں لیکن کم از کم ایک بار مجھے سمجھنے کی کوشش ضرور کریں۔ میں صدقہ خیرات یا زکوة کی بات نہیں کر رہا میں ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے یہ سفید پوش لوگ بہت غیرت مند ہوتے ہیں جب انہیں کسی کا احسان لینا پڑتا ہے تو وہ جیتے جی مر جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی بغیر کہے مدد کرنی چاہیے۔مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کے یہ سب باتیں میری گھریلو زندگی پر اثر انداز ہوتی رہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔مزید کسی بھی بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ گھر ٹوٹنے سے نقصان صرف عورت کا نہیں ہوتا مرد کا دل بھی اتنا ہی دکھتا ہے۔ اور میں نے بہت دلبرداشتہ ہوکر یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے لفافہ نکال کر ٹیبل پر رکھا۔
یہ ابیشہ کو دے دیجئے گا۔ اور اٹھ کر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی اگر اسکے ماں باپ کو آفس میں ہوئی کسی بھی بات کا علم ہوگیا تو اسے سب کچھ چھوڑ کر گاؤں واپس جانا ہوگا اور گاؤں جانے کا مطلب تھا ایک اور شادی ۔ لیکن اسکے بعد اجمل کسی پرائیویٹ اسکول میں تو کیا سرکاری اسکول میں بھی نہ پڑھ پاتا۔ اسی لئے اس نے خود گاؤں جانے کے بجائے اپنے ماں باپ کو شہر بلوالیا تھا۔اور اب دوبارہ یہ نوبت آگئ تھی کے وہ سوچنے پر مجبور تھی۔
غلطی میری ہی تھی مجھے اجمل کی پڑھائی کے لئے اتنے بڑے خواب نہیں دیکھنے چاہئے تھے۔ آج سے پہلے ہمارے گاؤں میں کون ڈاکٹر یا انجینئر بنا ہے۔ لیکن یہ خواب میں نے اکیلے تو نہیں دیکھے تھے۔ سدرہ کے دل کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔
نہیں میںاپنے مرے ہوئے شوہر اور بیٹے کے خواب ٹوٹنے نہیں دونگی۔چاہے ساری دنیا مجھے غلط سمجھے پر اللہ تو جانتا ہے میں غلط نہیں ہوں۔چاہے کچھ بھی ہو میں گاؤں واپس نہیں جاونگی۔دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا کتنا مشکل ہے یہ میں سمجھ گئی ہوں۔ لیکن اپنی اولاد کے لئے میں یہ نوبت نہیں آنے دونگی۔ ذلت اور بدنامی سے ڈر کر میں منہ چھپاکر نہیں بھاگ سکتی۔ مجھے ثابت قدم رہنا ہوگا اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کے لئے۔تین دن بعد وہ ایک نتیجے پر پہنچ چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی آئندہ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 587 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Waheed

Read More Articles by Sana Waheed: 24 Articles with 13936 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: