اللہ پاکستان پہ رحم کرے ! لیکن کیوں ؟

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

ُآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ کے عہدہ معیاد میں مزید تین سال کی توسیع کا معاملہ'' باہمی معاملے' کی حدود سے یوں نکلا کہ سپریم کورٹ بھی پہنچ گیا۔آرمی چیف کے معیاد عہدہ میں سپریم کورٹ سے چھ ماہ کی مشروط توسیع یوں کی گئی کہ چھ ماہ کے اندر اندرکئے گئے اقراروں کی تکمیل مطلوب ہے۔خصوصی عدالت سے سابق جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے سے ملک کا ہر طبقہ یوںتیز تیز بولنے لگا کہ جس سے ملک میں اقتدار کی حاکمیت کی کشمکش کے کئی پوشیدہ پہلو بھی عریاں ہو گئے۔

فیصلہ آنے کے ساتھ ہی عدلیہ کے ججز کے خلاف ''پر اسرار'' طورپر کردار کشی کی بھرپور مہم بھی نظر آ رہی ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے مقررہ معیادعہدہ سے ریٹائرڈ ہونے سے ایک دن پہلے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں کہا کہ ''میرے اور عدلیہ کے خلاف گھنائونی مہم شروع کر دی گئی ہے''۔مشرف کو آئینی پابندی کی خلاف ورزی پر غداری پر پھانسی کی سزا سنانے والی خصوصی عدالت کے ایک جج ، پشاور پائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف'' خفیہ عناصر'' کی طرف سے 'پی ٹی ایم' اور' ٹی ٹی پی' کے '' دہشت گردوں'' کو بڑی تعداد میں چھوڑنے کے الزامات کی بھر پور تشہیری مہم بھی جاری ہے۔

فوج کی طر ف سے پہلے پھانسی کی سزا پر سخت تنقید کی گئی اورتفصیلی فیصلہ آنے پر مزید تنقید سامنے آئی۔ابتدائی فیصلے کے بعد فوج کے ترجمان کا فوج کی طرف سے فیصلے پر غم و غصے کے اظہار کے بعد تفصیلی فیصلہ آنے پر فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بھر پور طور پر ملک و عوام کو سیاسی رہنمائی عطا کی۔فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں ملک دشمن ملکوں، قوتوں کے پاکستان کے خلاف عزائم،انڈیا کی طرف سے پاکستان کے خلاف جارحانہ تیاریوں کی صورتحال اورملک میں سیاسی کشمکش کے امور کو یوں ایک دوسرے میں پرو دیا کہ دونوں موضوعات ایک دوسرے میں ''گڈ مڈ'' ہو کر رہ گئے۔میجر جنرل آصف غفور کی یہ بات حیران کن ہے کہ ''فوج اور حکومت پچھلے چند سال سے مل کر ملک کو اس طرف لے جانا چاہتی ہے جہاں ہر قسم کے خطرات ناکام ہوجائیں اور ملک اس طرف جائے جہاں ہم جانا چاہتے ہیں۔''

مشرف کو پھانسی اور پھانسی سے پہلے مر جانے کی صورت اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے ڈی چوک پر مشرف کی لاش کو لٹکانے کی سزا کو کوئی غیرشرعی،کوئی غیر اخلاقی،کوئی وحشیانہ قرار دے رہا ہے جس میں سرکاری حامی علماء بھی شامل ہیں۔مشرف کے ایک سویلین حامی نے تو خانہ جنگی کی اصطلاح میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس سے ملک میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔سنجیدہ حلقوں مشرف کو پھانسی اور پھانسی سے پہلے مر جانے پر اس کی لاش کو ڈی چوک میں لٹکانے کے فیصلے کو اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ آئین کو کاغذ کے ٹکڑے سمجھنے والا مائینڈ سیٹ آئندہ اس طرح کے اقدام سے باز رہے اور عبرت حاصل کرے۔

ملک میں فوجی حاکمیت کے اقتدار سے مستفید ہونے والے چند سویلین حلقوں کی طرف سے مشرف کو پھانسی یا اس کی لاش اسلام آباد میں لٹکانے کی سزا پر ''شرم'' دلانے کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔ جنرل مشرف مکتبہ فکر نے ہی باقی ماندہ پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے۔وہی سوچ ،وہی اپروچ جس وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا۔ خود کو مقدس ،برتر،ناقابل مواخذہ، غیر جوابدہ قرار دینے والے سرکاری ملازم کی آئین شکنی پر باقیوں کے لئے باعث عبرت سزا پر شرم دلانے کی بات دانستگی یا نا دانستگی میں پاکستان کے خلا ف سوچ رکھنے والوں کی حمایت میں جاتی ہے۔

موجودہ کشمکش سے ملک میںطبقاتی تقسیم ،طبقاتی بالادستی کے نقصانات اور سنگین تر خطرات کی صورتحال بھی کھل کر سامنے آچکی ہے۔فوج کی عزت اور وقار کی ذمہ داری عوام اور ملک کی ہوتی ہے،لیکن جب فوج خود اپنی عزت اور وقار کے پیمانے اور حدود از خود متعین کرتے ہوئے خود ہی اس کی محافظت سنبھال لے تو یہ بری اور تکلیف دہ صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔کسی کی ملک کی فوج کے محافظ اس ملک کے عوامی کی بالادستی پر مبنی نظام ہوتی ہے ،لیکن جب فوج خود ملکی حاکمیت اپنی صوابدید بناتے ہوئے خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آجائے تو اپنی فوج کی محافظت عوام کی دائرہ اختیار سے باہر ہو جاتا ہے۔

افسران سیاست کریں گے تو تنقید تو ہوگی۔ سیاست تو کرتے ہیں لیکن تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔فوجی افسران کی طرف سے سخت سیاسی بیانات کے بعد یہ تصور کرنا کہ اس پر تنقید نہیں ہو گی، درست اور جائز نہیں ہے۔ سیاست اور تنقید لازم و ملزوم ہیں۔افواج پاکستان ملک کی مشینری کا ایک حصہ ہے ،کل جز ہے ، ملک کا کام اس جز کو چلانا ہے، اس جز کا کام ملک کو چلانا یا اس کی سمت کا تعین کرنا نہیں۔ ملکی پالیسیوں کی طرح غدار اور محب الوطن قرار دینے کا اختیار بھی فوج کا کام نہیں ہے۔فوج ہمارا طاقتور بازو ہے ، اس طاقتور بازو کو ملک کا دماغ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ قانون قدرت ہے کہ'' جو شاخ جھکنا نہیں جانتی،وہ ٹوٹ جاتی ہے''۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 198 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 586 Articles with 262685 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: