اردو یا پاکستانی

(Akram Saqib, Pasni)

اسے لازمی طور پر بے وقت کی راگنی کہا جائے گا یا عجیب و غریب خیال۔ مگر یہ راگنی اور یہ خیال ہماری اصل آزادی کے لئے لازم ہے۔ آج اگر ہماری قوم منتشر ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اسے اپنا جنون اپنا جیون نہیں بنایا۔ آج بھی اگر ہم اس مقصد کو لے کر چلنا شروع کر دیں تو بہت ہی تھوڑے دنوں میں ہم نہ صرف معاشی بلکہ انسانی ترقی میں بھی پیش پیش ہوں گے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان ممالک نے اپنی جان سے بھی اسے زیادہ عزیز رکھا۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے مستقل ممالک جن کے پاس بے انتہا پاور ہےجسے ویٹو پاور کہا جاتا ہے میں فرانس، چین ،امریکہ روس اور برطانیہ شامل ہیں۔ان ممالک نے کوئی دوسری زبان نہ اپنائی نہ استعمال کی۔ بلکہ اپنی اپنی زبان میں ہی کمال حاصل کیا۔ فرانس میں آج بھی انگریزی نہ بولنے کے برابر ہے۔ اسی طرح چین اور روس میں خاص مقاصد کے لئے تو انگریزی لکھی پڑھی جاتی ہے لیکن وہاں عوام الناس اس سے قطعی بے بہرہ ہیں۔ وہاں کے سائینسدان علما مذہبی سکالرز سب اپنی ہی زبان میں تحقیق کا کام کرتے ہیں۔

جرمنی کو دیکھیں تو بھی یہی بات نظر آتی ہے ۔ جاپان جو دنیا کی مضبوط ترین معیشت ہے جاپانی زبان کو ہی اپنا کر ترقی کی۔ یہاں تک کہ جن علاقوں یا ممالک کی زبان انگریزی تھی انہوں نے بھی اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا ہے۔ اسے ایک میڈیم کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اس پر فخر نہیں کرتے نہ کرنے دیتے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا میں جو انگریزی رائج ہے وہ آسٹریلین ہے۔ اسی طرح دوسرے ممالک ہیں جنہوں نے انگریزی کو انگریزوں کی زبان کے طور پر نہیں بلکہ اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور مقامی سطح پر رائج کیا۔

اس کے علاوہ جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ ہر ملک نے اپنی زبان کو اپنے ملک کے نام سے منسوب کیا ہوا ہے۔ ہمارے ارد گرد جتنے بھی ممالک ہیں وہ اپنے ملک کے نام سے اپنی زبان کو جانتے اور پہچانتے ہیں ۔ ہندوستان میں ہندی بولی جاتی ہے۔ نیپال میں نیپالی بنگلہ دیش میں بنگلہ یا بنگالی ،عرب ممالک میں عربی رائج ہے۔ ایک ہم ہیں کہ آج بھی آزادی حاصل کرنے کو تیار نہیں۔ آج بھی انگریزی ہی ہماری فنکشنل اور اصل زبان ہے۔ اس وجہ سے مقامی سطح پر مقامی بولیاں بھی اپنا اثر کھو رہی ہیں ۔ اس کا ایک حل میرے نزدیک یہ ہے کہ اردو کو پاکستانی کا نام دیا جائے۔ اسے اردو کی بجائے پاکستانی زبان لکھا اور پکارا جائے۔ اس سے لسانیت اور صوبایئت کے عفریت سے بھی جان جھوٹے گی اور ہماری پاکستانی شناخت کو بھی نئی پہچان ملے گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 116 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 62 Articles with 22972 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: