نوزائیدہ بچوں کا رکھیں سردیوں میں خاص خیال۔۔۔پہلی سردی بچے کے لئے ہوتی ہے خطرناک

image


بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ سردیوں میں پیدا ہونے والے بچوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے کیوں کہ پہلی سردی میں اگر وہ بغیر کسی تکلیف اور پریشانی کے نکل آئے تو ہر سردی کامیاب۔۔۔ورنہ ہر سردی میں ان کا نوزائیدہ بچوں کی طرح ہی رکھنا پڑے گا خیال۔۔۔اپنے ننھے منے کے لئے سردیوں میں چند باتوں کا خاص خیال رکھیں-

بار بار ان کا ڈائپر چیک کریں ۔۔۔کیونکہ کسی بھی قسم کے لیکج کی صورت میں یا ڈائپر بھرے ہونے کی صورت میں بھی انہیں ٹھنڈ مزید لگ سکتی ہے۔۔۔اور کیونکہ سردیوں میں جلد بہت خشک ہوتی ہے اس لئے ڈائپر ایک سائز بڑا لیں تاکہ جسم پر چست نا ہو اور اس سے خارش بھی نا ہو۔۔۔

نوزائیدہ بچوں کے جسم میں اتنا باڈی فیٹ نہیں ہوتا جو انہیں شدید سردی سے بچا سکے اس لئے انہیں اندر آستینوں والا بنیان لازمی پہنائیں اور موٹے کپڑے پہنائیں۔۔۔موٹے اتنے ہوں کہ جسم گرم رہ سکے ، لیکن اتنے گرم بھی نا ہوں کہ بچوں پر اس کا وزن اور اس کی گھٹن سوار ہوجائے۔۔۔
 

image


بچوں کو نہلانے کے لئے ہمیشہ نیم گرم پانی کا استعمال کریں اور نہانے سے پہلے ہی کمرے اور باتھ روم کو تھوڑی دیر کے لئے ہیٹر یا گرم پانی کھول کر گرمائش دے دیں تاکہ سردی کی لہر کا وہاں گزر تک نا ہو۔۔۔جب سر دھلائیں تو جسم کو تولئے سے ڈھکیں اور جب جسم دھلانا ہو تو سر کو ڈھانک دیں تولئے سے۔۔۔

بچے کا مساج کسی کریم سے نا کریں بلکہ زیتون کے تیل سے ہی استعمال کریں۔۔۔اور ہلکے ہاتھ سے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، ایڑیوں اور کمر پر لازمی کریں۔۔۔یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے بچہ کو ٹھنڈ لگ سکتی ہے۔۔۔مساج کرتے ہوئے ہلکے ہاتھ سے اس کی ناف کو صاف کرکے اس میں بھی ایک بوند ٹپکا دیں اور ہلکے ہاتھ سے ہی اسے مساج کردیں۔۔۔

بچے کو لپیٹنے کے لئے ململ کا کپڑا استعمال کریں اور موزے اور ٹوپی کا استعمال لازمی کریں۔۔۔چھوٹے بچے کیونکہ بار بار دودھ پیتے ہیں اس لئے انہیں ٹھنڈ کا خطرہ بھی ہوتا ہے جو ان کی سانس کی نالی میں بیٹھ سکتا ہے۔۔۔اپنے کمرے کو گرم رکھیں اور ایک بالٹی میں گرم پانی میں تھوڑی سی ہینگ یا وکس ڈال کر کمرہ بند کردیں اور پھر اس کمرے میں لے کر بچے کو دودھ پلائیں۔۔۔
 

image


سردیوں میں بچے کو ماں زیادہ سے زیادہ خود سے چمٹا کر رکھے اور ٹھنڈے بستر پر نا لٹائیں۔۔۔بچے کی جلد کیونکہ خشک اور حساس ہوتی ہے اس لئے لوگوں کو ہرگز پیار منہ پر نا کرنے دیں۔۔۔اور خود بھی اپنے ہاتھوں کو تیل سے گرم رکھیں۔۔۔

یاد رکھئے نوزائیدہ بچوں کی پہلی سردی ماں کا امتحان ہوتی ہے۔۔۔اگر آپ نے یہ امتحان پاس کرلیا تو پھر ہر سردی آپ کے لئے کسی حل شدہ پرچہ جات سے کم نہیں۔۔۔

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

YOU MAY ALSO LIKE: