او آئی سی کے متبادل پلیٹ فارم کے خدشات اور سعودی موقف

(Mehr Iqbal Anjum, )

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی کانفرنس جس کے میزبان ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد ہیں میں پاکستان کا کوئی بھی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو ٹیلی فون پر اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور خلیج کے مسلمان ملکوں کے اس کانفرنس کے بارے میں تحفظات کی وجہ سے پاکستان نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ سعودی عرب کے دورے پر گئے تھے،وزیراعظم عمران خان نے دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلمان السعودسے ملاقات کی، ملاقات میں وزیرا عظم نے مشرق وسطی کے تنازعات اور اختلافات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی سٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے ان تعلقات کو امن ترقی اور خوشحالی کیلئے اہم پاٹنرشپ قرار دیا۔ وزیراعظم نے جی 20 کی صدرت سنبھالنے پر سعودی عرب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی برادری میں سعودی عرب کی قیادت کے کردار کی عکاس ہے۔ دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات کو اجاگر کیا۔وزیراعظم نے اس بات کا اظہار کیا کہ اعلیٰ سطح کے دورے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تصدیق ہے ۔ فروری2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد سلمان کے دورہ پاکستان سے پاکستان میں معاشی ،سرمایہ کاری،توانائی،سیکیورٹی اور ڈیفنس کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا نیا آغاز ہوا۔دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری دو طرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔سعودی پاکستان سپریم کوارڈنیشن کونسل(ایس پی ایس سی سی ) کے قیام سے متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ میں ایک مضبوط ادارہ جاتی میکنزم فراہم ہوا۔سعودی نے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کیلئے تمام ممکنہ حمایت کی پیشکش کی۔اس تناظر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سعودی ٹیم بہت جلد پاکستان میں دورے کرے گی۔

ملائشیا میں ہونے والی کانفرنس کے حوالہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس میں او آئی سی کے متبادل تنظیم تشکیل دی جائے گی، سعودی عرب نے بھی خبریں آنے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا اور اس پر اپنا واضح موقف دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس کانفرنس کو او آئی سی کے متوازی تنظیم قائم کرنے کی کوشش سمجھ رہا ہے۔سعودی عرب نے کوالالمپور سمٹ میں اپنے عدم شرکت کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دنیا کے ایک ارب 75 کروڑ مسلمانوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے ایک غلط فورم ہے۔ ایسے مسائل پر اسلامی تعاون تنظیم کے فورم ہی پر بات چیت کی جانا چاہیے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اور ان سے گفتگو میں مملکت کے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ایسے ایشوز پر صرف او آئی سی کے پلیٹ فارم ہی سے بات چیت کی جانا چاہیے۔اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن عبدالرحمن العثیمین نے کہا ہے کہ کوالالمپور کانفرنس امت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہے،او آئی سی سے باہر کسی بھی عنوان سے مشترکہ جدوجہد اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے اتحاد کی صفوں میں دراڑ ڈالنے والی کوشش ہے،او آئی سی کے پلیٹ فارم سے باہر کی ملاقاتوں سے عالمی برادری کے سامنے مسلم امہ کی پوزیشن کمزور ہوگی۔او آئی سی تمام مسلمانوں کو جمع کرنے والی تنظیم ہے۔ اس کا طریقہ کار اس کے دائرے میں کسی بھی قسم کے اجلاس کا موقع مہیا کرتا ہے۔ مشترکہ جدوجہد او آئی سی کے دائرہ کار میں ہی رہتے ہوئے کی جانی ضروری ہے۔متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے امورخارجہ انور قرقاش نے بھی کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کو کمزور نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام اسلامی دنیا کے مفاد میں نہیں ہوگا۔انور قرقاش نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کی کمزوری اسلامی دنیا اور اس کے ممالک کے مفاد میں نہیں۔اس تنظیم اور اس کے رکن ممالک کو نقصان پہنچانے کی پالیسی قلیل المیعاد ثابت ہوگی اور یہ دانش، اتفاق رائے اور دنیا کے اتحاد پر مبنی نہیں ہے۔

کانفرنس سے قبل سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ٹیلی فونک گفتگو میں ملائیشیا اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ مختلف شعبو ں میں انہیں مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مہاتیر محمد سے گفتگو کے دوران زور دیا کہ مشترکہ اسلامی جدوجہد کا پلیٹ فارم اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی )ہے۔ یہ پلیٹ فارم بے حد اہم ہے۔ یہ امت مسلمہ کی دلچسپی کے تمام اسلامی مسائل پر غورو خوض کے لیے اتحاد بین المسلمین کا ضامن ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ’ملائیشیا اسلامی تعاون تنظیم کے کردار کو اہم مانتا ہے۔ کوالالمپور کانفرنس کے انعقاد کا مقصد او آئی سی کی حیثیت کو کمزور کرنا نہیں۔ یہ بات شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران بھی واضح کرچکا ہوں۔اس بات کے حامی ہیں کہ سعودی عرب اپنا قائدانہ کردارادا کرتا رہے۔ کوالالمپور کانفرنس مسلم دنیا کے مسائل کے حل میں اپنا سا حصہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔شاہ سلمان کی رائے ہے کہ اس قسم کے مسائل پر دو، تین ممالک کا جمع ہوجانا ٹھیک نہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن پر او آئی سی کے اجلاس میں بحث کی جانی ضروری ہے۔ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملائیشیا اسلامی تعاون تنظیم کی جگہ لینے کے حوالے سے بہت چھوٹا ہے، اس کی اتنی حیثیت نہیں ،وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ او آئی سی ایسا پلیٹ فارم ہے جس سے اسلامی دنیا کے 57 ممالک جڑے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کے دورہ ملائشیا کے منسوخ ہونے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلے کا حصہ نہیں بننا چاہتا بلکہ حل کا حصہ بننا چاہتا ہے اور مسلم دنیا کو اکھٹا کرنا چاہتا ہے۔ عربی اور عجمی کے ایشو سے نکل کر امت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے ترکی اور ملائشیا سے اچھے تعلقات ہیں تاہم فیصلہ ملک اور امہ کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے اور جب ہمارے ڈالر کے ذخائر ختم ہو گئے تو بحران کے حل میں مدد دے کر ملک کو تقویت دی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات حال ہی میں سعودی عرب میں او آئی سی کی گولڈن جوبلی تقریبات میں بھی شریک تھیں۔وہاں بھی ان کا کہنا تھا کہ پاکستان او آئی سی کا بانی ممبر ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اس فورم سے توقعات رکھتے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ او آئی سی کے مقابل ملائشیامیں ایک نیا پلیٹ فارم بننے کا تاثر وہ طاقتیں پیدا کررہی ہیں جو امہ کو تقسیم کرناچاہتی ہیں۔ کوالا لمپور میں او آئی سی کے متوازی تنظیم کھڑی نہیں کی جارہی۔ کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ مسلم ممالک آپس میں سائنسی ، فنی اور تعلیمی تعاون نہ کرسکیں اور اس وجہ سے ایسے بے جا تاثرا ت قائم کئے جارہے ہیں۔ ایسے تاثرات کو ختم کرنا ہر ذی شعور دانشور کا کام ہے ، یہ تاثر ات درست نہیں ہیں۔ پاکستان او آئی سی کا بانی رکن ہے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ملائشیاکے ساتھ بھی بہت خوشگوار تعلقات ہیں۔ ہمارا فرض بنتاہے کہ مسلم ممالک میں جہاں بھی شکوک شبہات ہوں وہاں کر دار ادا کریں ، سعود ی عرب کے ساتھ ہماری کوئی غلط فہمی نہیں ہے اورماضی کی جوغلط فہمیاں تھیں ،تحریک انصاف کی حکومت آنے پر ان کا خاتمہ کیاگیا۔ایک بات تو واضح ہو گئی کہ مشکل ترین حالات میں پاکستان اور سعودی عرب یکجان ہیں، ملائشیا میں ہونیوالی کانفرنس میں سعودی عرب اور پاکستان دونوں ممالک نہیں گئے حالانکہ پاکستان اگر چاہتا تو جا سکتا تھا لیکن پاکستان نے اپنے دوست برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا ہمیشہ کی طرح ساتھ دیا اور دے بھی کیوں نہ،سعودی عرب پاکستان کا محسن ہے ۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 172 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 93 Articles with 22912 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: