" />

سوچ لو. .. پھر نہ کہنا خبرنہیں تھی..

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پھر انتخابات کا مہینہ آتا ہے اور پھروہی ہوتا ہے جو ہمارے ہاں سیاست کا خاصہ ہے. دفتروں میں جانا . مخصوص لوگ نئے نعروں اور نئے چہروں کو سامنے لاتے ہیں صحافیوں کو " لارا لپہ " سنا تے ہیں اور پھر انتخاابات کے موقع پر .وہ صحافی جو کسی چھوٹے صحافی کو اپنے خاطر میں نہیں لاتے. انگریزی زبان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا خرانٹ الگ ہوتا ہے اردو والوں کیساتھ ،اسی طرح اردو زبان والوں کا خرانٹ پشتو زبان والوں کیساتھ الگ ہوتا ہے ، اپنے آپ کو الگ چیز سمجھنے والے اسی دن ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے آگے واری صدقے ہوتے ہیں کہ ووٹ کا معاملہ ہوتا ہے..اور پھر ماشاء اللہ وہی کچھ ہوتا ہے یعنی کوئی کسی کا تعلق دار ہے ، کسی کے علاقے کا ہے ، یونیورسٹی کا ساتھی ہے ، ادارے کا تعلق ہے اور پھر ووٹ گیا بھاڑ میں مخصوص لوگ پھر کابینہ میں آتے ہیں اور پھر .. وہی روٹین.. دوسروں کو میرٹ کی تلقین کرنے والے بیشتر صحافیوں بشمول مجھ سے آپ پوچھ لیں کہ کس کو ووٹ دینا ہے تو ہر کوئی کہے گا کہ یار فلاں میرا دوست ہے ، فلاں نے میرے لئے یہ کام کیا .کوئی صحافی برادری کی اوور آل بات نہیں کرے گا.

فلاں پارٹی میں چور ہے ، فلاں پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اتنا مال کمایا . یہ وہ بیانیہ ہے جو تقریبا مجھ سمیت ہر صحافی ہر آنیوالی حکومت اور پارٹی کے بارے میں کرتا ہے ساتھ میں کبھی کبھار جذبات میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں پارٹی نے اتنی حکومت کرلی ہے اب نئے لوگوں کو موقع دیا جائے تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے. لیکن کیا یہ بیانیہ دینے والے صحافی خود اس پر عملدرآمد کرتے ہیں یا نہیں..

ہر سال دسمبر کے مہینے میں ہر شہر میں واقع پریس کلب میں صحافیوں کے انتخابات ہوتے ہیں ہر دفعہ مخصوص لوگ نئے نعروں کیساتھ آتے ہیں اور دل خوش کرنیوالے باتیں کرکے صحافیوں کو چکنی چپڑی باتوں میں ڈال کر ایک سال کیلئے پریس کلب کے عہدیدار بن جاتے ہیں. پھر ان عہدیداروں کی اپنی ذہنی نشوونما پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں لیکن بیشتر سیاسی لوگوں کیساتھ تصاویر بنا کر خوش ہوتے ہیں بعض سرکاری اداروں کے سربراہوں سے ملاقات کرکے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیںکچھ من پسند افراد کو صحافت میں لے آتے ہیں تاکہ ان کا دال دلیا بھی چلتا رہے کچھ یاری دوستی میں باہر دور تک نکل جاتے ہیں کچھ بڑے عہدوں پر جانیکی خواہش رکھنے والے بہت آگے نکل جاتے ہیں.جبکہ بعض "کچھ کرنیکی خواہش رکھنے والے" بھی پریس کلب کی سیاست کا شکار ہو کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں ..

یوں سال گزر جاتا ہے آخری دنوں کی جنرل باڈی میں سب سے زیادہ صحافی چیختے ہیں. جرنلسٹ ویلفیئر فنڈز مخصوص لوگوں کو ملتا ہے اور جن کو ملتا ہے ان سے دوگنا رقم ان کے کھاتے میں لکھ دی جاتی ہیں اور پھر کبھی کبھی آئین کی پامالی کا بھی لوگوں کو خیال آتا ہے حالانکہ یہ وہ چیز ہے جس کے شقوں کے بار ے میں مجھ سمیت بیشتر صحافیوں کو پتہ بھی نہیں.. جن کو پتہ ہے انکی انگریزی زبان اچھی ہے. باقی ہماری طرح ہی ہے..کہ کہیں انگریزی زبان میں پریس کانفرنس ہو. تو اپنے سے سینئر کو کہہ دیتے ہیں کہ .. یار میں لیٹ آیا ہوں. ٹکرز اور سٹوری بھیج دینا. ویسے بھی انہوں نے کیا کہنا ہے.. خیرپریس کلب کی آخری جنرل باڈی میں سب سے زیادہ بحث جھگڑے ہوتے ہیں اور اسی جنرل باڈی میں ہر صحافی کی کوشش ہوتی ہے کہ حاضری لگائے تاکہ اس کے مخالف اور ساتھیو ں کو پتہ چل سکے کہ ہم بھی میدان میں ہیں. اسی جنرل باڈی میں آپ کسی بھی صحافی سے پوچھ لیں تو یہی کہیں گے کہ ' موجودہ کابینہ تو چور نکلی..ہم اگلی دفعہ نئے بندوں کو لائیں گے ... اس دفعہ تو اخراجات کیلئے بھی پیسے نہیں..یہی سننے کو ملتا ہے.

پھر انتخابات کا مہینہ آتا ہے اور پھروہی ہوتا ہے جو ہمارے ہاں سیاست کا خاصہ ہے. دفتروں میں جانا . مخصوص لوگ نئے نعروں اور نئے چہروں کو سامنے لاتے ہیں صحافیوں کو " لارا لپہ " سنا تے ہیں اور پھر انتخاابات کے موقع پر .وہ صحافی جو کسی چھوٹے صحافی کو اپنے خاطر میں نہیں لاتے. انگریزی زبان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا خرانٹ الگ ہوتا ہے اردو والوں کیساتھ ،اسی طرح اردو زبان والوں کا خرانٹ پشتو زبان والوں کیساتھ الگ ہوتا ہے ، اپنے آپ کو الگ چیز سمجھنے والے اسی دن ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کے آگے واری صدقے ہوتے ہیں کہ ووٹ کا معاملہ ہوتا ہے..اور پھر ماشاء اللہ وہی کچھ ہوتا ہے یعنی کوئی کسی کا تعلق دار ہے ، کسی کے علاقے کا ہے ، یونیورسٹی کا ساتھی ہے ، ادارے کا تعلق ہے اور پھر ووٹ گیا بھاڑ میں مخصوص لوگ پھر کابینہ میں آتے ہیں اور پھر .. وہی روٹین.. دوسروں کو میرٹ کی تلقین کرنے والے بیشتر صحافیوں بشمول مجھ سے آپ پوچھ لیں کہ کس کو ووٹ دینا ہے تو ہر کوئی کہے گا کہ یار فلاں میرا دوست ہے ، فلاں نے میرے لئے یہ کام کیا .کوئی صحافی برادری کی اوور آل بات نہیں کرے گا.

ویسے ایک بات جو سچ بھی ہے کہ مجھ سمیت صحافی دنیا کی ناشکری ترین مخلوق ہے یعنی جس طرح گھروں میں خواتین شوہروں کو مخاطب کرکے ہر وقت رونا روتی ہے یہی صورتحال صحافیوں کی بھی ہے شکر الحمد اللہ .. موجودہ دور کے صحافی آج سے تیس سال پہلے کے صحافیوں سے ہر حال میں بہتر ہیں تنخواہوں سے لیکرسہولیات تک. کسی زمانے میں کاغذ پرلکھ کر ایڈیٹر کو دینا پڑتا تھا آج کمپیوٹر کا دور ہے . 1997 میں موبائل فون کسی کسی کے پاس ہوتا تھا آج ہر صحافی کے پاس دو دو موبائل فون ہے اچھا کھاتے ہیں لیکن پھر بھی آپ بہت کم صحافیوں کے منہ سے اللہ کا شکر لفظ سنیں گے. ہر دفعہ یہی سننے کو ملے گا .حالات خراب ہیں. اور مزید مزید کی چکر میں صحافی اپنے آپ کوفالج زدہ ، ذہنی تنائو کا شکار کرکے مار دیتے ہیں -

خیر باتیں کہیں اور نکل گئی انتخابات کے دن پتہ چلتا ہے کہ " پیسہ چل گیا" .. ووٹ فلاں بندے نے خرید لئے. . فلاں بندوں نے جرنلسٹ ویلفیئر فنڈز سے صحافیوں کو رقم دی اور ووٹ خرید لئے ..اور پھر رات کے ایک بجے پتہ چلتا ہے. کہ ... نتیجہ آگیا ہے اور جیتنے والے ڈھول لیکر پریس کلب پہنچ جاتے ہیں اور پھر لگتا ہے کہ شادی یا مہندی کا پروگرام ہے . لگتا نہیں کہ یہ کوئی پڑھے لکھے افراد کا ادارہ ہے اور پھر .. وہی پرانے سال کا روٹین...

سال 1997 سے لیکر اب تک پشاور پریس کلب کا ممبر ہوں ان دنوں میں مخصوص لوگ خود آگے آکر سبز باغ دکھاتے تھے کہ یہ کرینگے وہ کرینگے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جو لوگ سال 1997 میں فرنٹ پر تھے آج کچھ فرنٹ سیٹ پر ہیں اور کچھ پس پردہ ر ہ کر نئے لوگوں کو شامل کرکے اپنا ایجنڈا چلاتے ہیں نئے لوگ اس طرح چھلانگیں مارتے ہیں جیسے انہوں نے دنیا فتح کرنی ہے لیکن سال گزر جاتا ہے ہے اور آخر میں لوگ ووٹ دینے سے بھی کتراتے ہیں کہ نیا کیا ہے اور نیا کیا لیکر آئے گا یہی صورتحال ہے اور پھر جس طرح لوگ پاکستان کی سیاستدانوں کو گالی دیتے ہیں یہی گالیاں کابینہ میں آنیوالے صحافیوںکو بھی سننے کو ملتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ"صحافیوں کی سربراہی کرنا ایسے ہیں جیسے گوبر کو بڑے پتیلے میں ڈال کر بازار میں لئے پھرنا. کچھ نہ ہو تو پتیلے سے بدبو تو لازمی آئیگی . لیکن یہ سمجھنے والی بات ہے . ویسے گوبر کو پتیلے میں ڈال کر بازار لے جانے والے بھی مخصوص لوگ ہوتے ہیں..خیر ہمیں کیا.. الیکشن پھر قریب ہے. سوچ لو. .. پھر نہ کہنا خبرنہیں تھی..


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 307 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 284 Articles with 145308 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: