چوتھی نشست

(Khubaib Kunjahi, Lahore)
علم کا بہتا سمندر کمرے میں داخل ہوا۔ سنجیدگی حسن بڑھائے ہوئے تھی۔ انتہائی سادہ انداز میں یوں مخاطب ہوئے ”جی کریں شروع“۔ کلام الہی سے آغاز کیا گیا۔ آ پ نے کئی پہلووں پر بات کی۔ ساری رقم کرنا تو درکنار ہے۔ البتہ کچھ اہم باتیں رقم کر رہا ہوں۔

پی سی ایف

اسکو فطرت سمجھ لیجیے یا کہ کچھ اور۔ بہرحال چند ایک لوگ ہی آپکو متاثر کر پانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک جگہ سلمان عابد صاحب کو سنا تھا تو میں جان گیا تھا‘ علم کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ جناب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ آپ ایک بہترین کالمنگار‘ تجزیہ نگار‘ صحافی‘ مصنف اور استاد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی مصروفیات ہیں جیسے کہ ٹاک شو‘ سیمنار اور ورکشاپ وغیرہ وغیرہ۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ”پاکستان کا نیا سیاسی نظام اور مقامی حکومتوں کا کردار“ آپ کی لکھی ہوئی کتاب بہت پسند کی جاتی ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

میں جناب کو ہمیشہ سے سننے اور ملنے کی آرزو میں رہا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پی سی ایف کی جانب سے یہ چوتھی نشست سلمان عابد صاحب کیساتھ ر کھی گئی۔ میں چونکہ پی سی ایف کا ممبر ہوں‘ تو مدعو بھی تھا۔لہذا 29دسمبر‘ بروز اتوا ر‘ دن دو بجے میں مقررہ جگہ پر پہنچ گیا۔

علم کا بہتا سمندر کمرے میں داخل ہوا۔ سنجیدگی حسن بڑھائے ہوئے تھی۔ انتہائی سادہ انداز میں یوں مخاطب ہوئے ”جی کریں شروع“۔ کلام الہی سے آغاز کیا گیا۔ آ پ نے کئی پہلووں پر بات کی۔ ساری رقم کرنا تو درکنار ہے۔ البتہ کچھ اہم باتیں رقم کر رہا ہوں۔

آپ چونکہ خود ایک عملی انسان ہیں لہذا عملی انسان اورعملی زندگی کو پسند کرتے ہیں۔ انسان کو ناکامیوں سے بھاگنا نہیں چاہیے۔

ہم کرتے یوں ہیں کہ ایک بار ناکام ہونے کے بعد نیا کام شروع کر دیتے ہیں اس میں ناکام ہونے کے بعد پھر ایک نیا اور۔ اور بس ایسے ہی آگے سارے لیکن ہم اپنی ناکامیوں پر غور نہیں کرتے نا ہی ان سے کچھ سیکھتے ہیں۔ ہمیں اپنی ناکامیوں سے دور نہیں بھاگنابلکہ ناکامیوں کو دُور بھگانا ہے۔

طلبا و طالبات کا چار سال محض ڈگری کے حصول کیلیے پڑھنا‘ طلبا و طالبات کی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ہمیں دوران ڈگری ساتھ ساتھ انٹرنشپ کرنی چاہیے۔ جب آپ ڈگری کے بعد کام کیلیے جاتے ہیں تو پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ جی آپکا تجربہ؟ تو یہ تجربہ ہم کو دورانِ تعلیم ساتھ ساتھ حاصل کرنا چاہیے۔

یہ دور ڈیجیٹل دور ہے اور آپ کو ڈیجیٹل ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر اب کسی حد تک گذارا ممکن نہیں رہا۔ سوشل نیٹ ورک اچھا اور مضبوط ہونا چاہیے۔ ہم کسی بھی شعبہ سے وابستہ کیوں نا ہو۔ہمیں بنیادی طور پر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا پتا ہونا چاہیے۔

کوئی بھی بات سنے تو تحقیق لازم ہے‘ مشورہ کریں اس کے بعد کسی نتیجے پر آئیں۔ اچھا لکھنے کیلیے وسیع مطالعہ اور مبصر ہونا اشد ضروری ہے۔ انسان کو اپنی خوبیو ں اور خامیوں سے آشنا ہونا چاہیے۔ اور آہستہ آہستہ اپنی خامیوں کو خوبیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

خواب پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ خواب دیکھیں۔ خواب ضرور دیکھنے چاہیے۔جو شخص خواب نہیں دیکھتا‘ بڑا انسان نہیں بن سکتا۔
؎ میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں اور خواب دیکھتا بھی نہیں

لیکن خواہش اور حقیقت کا ملاپ ہونا نہایت اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شام کو کھانے کے پیسے نہیں‘ خواہش یہ ہے کہ مونال پر کھانا کھایا جائے۔ خواہشات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی حقیقت نہیں بھولنی چاہیے۔ خواہش اور حقیقت کاملاپ کیا ہوتا ہے‘ یہ کیسے ممکن ہے۔ آج سلمان عابد صاحب سے سیکھا ہے۔ ایسے لوگ واقعی بہت کم ہے جو واقعتا ملک وقوم کا درد رکھتے ہیں۔ دعا ہے اللہ رب العزت آپ کے علم و عمر میں برکت عطا فرمائے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 112 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khubaib Kunjahi

Read More Articles by Khubaib Kunjahi: 7 Articles with 1970 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: