بخل اور بخیل

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)
حضور نبی کریم ﷺ نے اسے بھی بخیل قرار دیا ہے جس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکرہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔
کائنات، فخر موجودات، رحمت عالمیاں، مرکز عقیدت، مصطفٰے جان رحمت ﷺکی درج ذیل حدیث پاک پڑھیں اوراسے سرمہء بصیرت بنائیں۔
“حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے کہا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اصل میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“
(ترمذی : 3546۔ وصححہ الابانی )

بخل کنجوسی کے معنوں میں ہے، بخیل اسی سے بنا ہے۔ اس کی ضد سخاوت یعنی فیاضی ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"بخیل اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے ذمہ واجب خرچے ادا نہ کرے، چنانچہ جو شخص اپنے ذمہ تمام واجب خرچےادا کر دے تو اسے بخیل نہیں کہا جائے گا، بخیل وہی ہے جو لازمی اور ضروری خرچےادا نہ کرے"
جلاء الافہام، ص: (385)
حضرت امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"بخیل وہ شخص ہے جو جہاں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں پر خرچ نہ کرے، چاہے وہ ضرورت شریعت کی روشنی میں ہو یا مروّت کی روشنی میں، تو ایسے میں اس کی مقدار معین کرنا ممکن نہیں ہوتا"
احیاء علوم الدین: (3/260)
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی ان کے موقف کی تائید کی ہے، چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ:
"بخل: یہ ہے کہ جو چیز خرچ کرنا آپ پر واجب ہو اسے خرچ نہ کریں، یا جسے خرچ کرنا مناسب ہو اسے بھی خرچ نہ کریں"
شرح ریاض الصالحین: (3/410)
ان تعریفات سے معلوم ہوا کہ بخل کہتے ہیں جس جگہ پر شرعاً یامروتاً خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں آدمی خرچ نہ کرے۔، جیسے زکوة نہ دینا، اور وسعت کے باجود مہمان کا خیال نہ رکھنا۔ یہاں قناعت کفایت شعاری کو بھی جاننا چاہیےقناعت کا مطلب ہےآدمی کو اللہ تعالی جو رزق عطا فرمائے، اس پر خوش دلی سے راضی رہے، شکوہ شکایت نہ کرے۔جبکہ کفایت شعاری کا مطلب ہے:اسراف فضول خرچی اور تعیش سے بچتے ہوئے قدر ضرورت پر اکتفا کرے۔ طالب علم کو چاہیے کہ والد صاحب اسے ماہانہ جو خرچہ دیتے ہیں، ان سے اپنی ضروریات پوری کرے ، اور طلبہ کی دیکھا داکھی ہوٹل بازی نہ کرے، اور جو پیسے بچ جائیں، وہ آئندہ ماہ استعمال میں لائے یا ضرورت کی کتابیں خریدلے، وغیرہ ۔
حضور نبی کریم ﷺ نے اسے بھی بخیل قرار دیا ہے جس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکرہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے۔
کائنات، فخر موجودات، رحمت عالمیاں، مرکز عقیدت، مصطفٰے جان رحمت ﷺکی درج ذیل حدیث پاک پڑھیں اوراسے سرمہء بصیرت بنائیں۔
“حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم نے کہا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اصل میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔“
(ترمذی : 3546۔ وصححہ الابانی )
قرآن حکیم میں اس کا ذکر 10مقامات پر واضح طور پر جب کہ 6 مقامات پر ضمناآیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ مال میں، جو اللہ نے اپنے فضل سے ان کو عطا کیاہے، بخل کرتے ہیں، وہ اس بُخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں بلکہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں، قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اور آسمانوں اور زمین کا وارث اللہ ہی ہے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ کو معلوم ہے۔‘‘ (آل عمران: 180
ایک اور مقام پر فرمایا: ترجمہ: ’’ اگر وہ تم سے تمہارا مال مانگے اور زور دے کر مانگے تو تم اس سے بخیلی کرنے لگو گے اور وہ تمہارے کیے ظاہر کر دے گا۔ خبردار تم وہ لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے بُلائے گئے ہو۔ تو تم میں سے بعض بخیلی کرنے لگتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے وہ تو دراصل اپنی جان سے بخیلی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم محتاج۔ اگر تم روگردان ہو جاؤ تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور لوگوں کو لائے گا جو پھر تم جیسے (بخیل) نہ ہوں گے۔‘‘ (محمد: 37-38(
حضور ﷺ نے فرمایا بندہ کے دل میں بخل اور ایمان جمع نہیں ہو سکتے
(سنن نسائی ،310، فصل من عمل فی سبیل اللہ علی قدمہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” بندوں پر کوئی صبح نہیں آتی، مگر اس میں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطاء فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ بخل کرنے والے کو تباہی عطا کر”۔( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1356)
ایک اور مقام پر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا "ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا”۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 207)
حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ھادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے ، پس وہ شخص سخی ہوگا، وہ اس کی ایک ٹہنی پکڑلے گا، جس کے ذریعے سے وہ جنت میں داخل ہوجائے گا، اوربخل جہنم کاایک درخت ہے جو شخص بخیل ہوگا وہ اس کی ایک شاخ پکڑلے گا، یہاں تک کہ وہ ٹہنی اسے جہنم میں داخل کر کے ہی رہے گا۔ایک اور روایت میں ہے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام’ ’ سخا‘‘ ہے سخاوت اسی سے پیدا ہوتی ہے اور دوزخ میں ایک درخت ہے جس کا نام ’’شح‘‘ہے، شح (بخل )اسی سے پیدا ہوا ہے، اس لیے شحیح(بخیل )جنت میں نہیں جائے گا۔
(شعب الایمان : بیہقی ، مشکوٰۃ ،کنزالعمال )
بخل کیا نہیں ہے؟۔
1.کسی ناجائز موقع پر خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔
۲۔ مستقبل کی کسی جائز ضرورت کے تحت حال میں خرچ کرنے سے رک جانا بخل نہیں۔
۳۔ اسراف سے بچنے کے لئے رقم خرچ نہ کرنا بخل نہیں۔
۴۔ سادہ زندگی گذارنا اور دکھاوے سے گریز کرنا بخل نہیں۔
۵۔اسراف میں مبتلا لوگوں کی کنجوسی کا طعنہ ضروری نہیں کہ بخل ہو۔
بخل کے طریقے : بخل کی اصل درحقیقت مال کو خرچ کرنے کےجائز موقع پر خرچ کرنے سے روکنا ہے۔چنانچہ بخل یا کنجوسی کا براہ راست یا بالواسطہ اثر مال کی بچت کی صورت ہی میں نمودار ہوتا ہے۔ اس تمہید کو ذہن میں رکھتے ہوئے بخل کے مختلف طریقوں کا مطالعہ کیجئے۔
۱۔کھانے پینے کے معاملے میں بخل کرنا اور کم تر درجے کا کھانا استعمال کرنا
۲۔گھٹیا معیار کے ملبوسات استعمال کرنا
۳۔سواری کے معاملے میں ًبخل کرنا
۴۔بیوی یا اولاد کی جائز ضروریات مثلاً تعلیم یا صحت پر خرچ کرتے وقت کنجوسی کرنا
۵۔ رہائش کے معاملے میں بخل کرنا
بخل کے نقصانات
بخل کے در ج ذیل نقصانات ہوتے ہیں۔
۱۔ اللہ کی ناراضگی
۱۔ پست میعار زندگی
۲۔ اپنے متعلقین کے حقوق کی ادائیگی سے گریز
۳۔ دنیا کی محبت
۴۔ مال کی محبت
۵۔ دولت کا ارتکاز
۶۔ ضرورت مندوں کے حق پر ڈاکہ
بلل (یعنی کنجوسی ) کرنے والاکبھی کامل مومن نہیں بن سکتا بلکہ کبھی بخل ایمان سے بھی روک دیتا ہے اور انسان کو کُفر کی طرف لے جاتا ہے ،جیسے قارون کو اس کے بخل نے اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔بخل کرنے والا حرص جیسی خطرناک باطنی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور اُس پر مال جمع کرنے کی دُھن سوار ہو جاتی ہے اورا س کیلئے وہ جائز ناجائز تک کی پروا کرنا چھوڑ دیتا ہےاور اس کے علاوہ بھی بہت سے دِینی ودنیاوی نقصانات ہیں۔(صراط الجنان ،۹/۳۳۳)
بخل انسان کو احسان سے روکتا ہے
اللہ ہمیں بخل سے بچنے کی توفیق دے اور تمام عالم اسلام کی خیر فرمائے آمین
اگر اس تحریر میں کہیں بھی مجھ سے غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں معافی کا طلب گار ہوں۔


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 114 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 111 Articles with 86040 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: