یقین

(Rabbia Rani, )

یقین ایک عقیدہ کی ما ند ہے ۔اس مین کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہو نا چاہیے۔حدا کی تلاش کے سفر کا آغازیقین سے ہی ہوتا ہے ۔اور یقین کیجے "یقین کے سوا سب لا حا صل ہے".
یقین کی دو صورتیں ہوسکتی ہے1
.الله کو ما ننا ۔دوسرا الله کی ماننا۔ہم مسلمان الله کو تو مانتے ہیں لیکن الله کی نہیں مانتے ۔ہم حالات سے بہت جلد گھبرا جا تے ہیں بجائے اس کے کہ ہم شکر ادا کریں اس ہستی کا جو ہمیںماں سے بھی ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے جب اتنا پیار تو ہمیں اس بات کا بھی یقین ہونا چاہیئے کہ اس نےیس سے بھی اچھا ہمارے لیے منتخب کر رکھا ہے زندگی ایک کتاب ہےاس میں ایک سنھری لفظ جو ایک انسان کو سہل اور پرسکونزندگی گزارنے کے لئے کا فی ہے وہ ہے یقینِ ۔انسان میں صرف یقین پیدا ہو جاے تو زندگی بہت پر امن ہو سکتی ہے
زرا سوچے جب آپ کوئی کا م یقین کے سا تھ کرتے تو کام کرنے کے بعد جو سکون محسوس ہوتا ھے. وہ یقین ہی ہے ۔ہقہن ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان وہ مضبوط راستہ ہے جو ہماری دعاؤں کو فرش سے عرش تک لے جا تا ہے ۔میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے تلح لمحات پا ے جب برداشت کرنا مشکل ہے لیکن جب بھی برداشت سے بھر کر کچھ ہو جاتا تو آسمان کی طرف منہ کر کے یقین سے دعا مانگی اور قبول ہوی
اور جب بھی ایسے لمحات میں دعا قبول ہوتی تو میرا یقین اور پحتہ ہو جاتا اور اس کے بعد ایک سکون ملتا کہ آپ انداز بھی نہیں لگاسکتے
میں نے لوگوں کے تلح رویو ں کو برداشت کیا ۔دکھ بھی بہت ہو تا ایک لمحہ کے لیے خود کو بہت اداس بھی محسوس کیالیکن جب سو چتی تو پھر ایک عجیب سی مسکراہٹ چہرے پہ آ جا تی کہ وہ زات خوب جانتا ہے ۔یقین ہی ہو تا یے جو ہمیں ایک نئی زندگی بخشتا ہے ایک چھوٹے سے بچے کو ہی دیکھ لیں جب کو ئ اسے اوپر کی طرف اچھالتا تو وہ خوش ہو تا اور بار بار اچھلنے پر اس کے قہقہے اور بلند ہو جا تے ہیں اور اس کے چہرے پر رونق آ جاتی ہے ۔ان قہقہوں اور رونق کے پچھے صرف اور صرف ایک راز ہو تا ہے اور وہ صرف اور صرف یقین ہے اس معصوم سے بچے کو اساس قدر یقین ہو تا ہے کہ وہ اسے گرنے نہیں دے گا ۔اگر اس معصوم بچہ کی طرح یقین کو پحتہ کر لیں تو ہم ہر لمحہ خوش و خر م رہیں بلکہ دوسر وں کے لے بھی مسکراہٹ کا با عث بنے ۔اگر یقین ہو چیزیں نا ممکن سے ممکن بن سکتی ہے اور ہقین ایک نعمت ہے جس کو یہ نعمت مل جائے وہ حوشحا ل اور پر سکون زندگی گز اریے گا ۔اس ذات سء دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس نعمت سے ما لا مال کر ے ۔جیسے ایک طالبہ علم سارا سال محنت کرتا اور اسے یقین ہو تا ہے کہ وہ کا میا ب ہو جا ے گا۔یقین سے خور اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور ہقین کا میا بی کی سیڈر ھی ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 222 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabbia Rani
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: