الوداع 2019ء مرحبا 2020ء، گزشتہ سال کے اہم واقعات

(Dr Rais Samdani, Karachi)


2019ء رخصت ہوا ، سال نو 2020ء کا آغاز ہوچکا۔ جانے والے ماہ و سال کو اﷲ حافظ اور آنے والے مہمان کو مرحبا ، خیر سے آئے، برکتیں اور خوشیاں لائے، پریشانیوں سے محفوظ رکھے، بیماروں کو شفاء ملے، بے روزگاروں کو روزگار، مشکل میں گرفتاروں کی مشکل ہو دور۔ مسلمان کی حیثیت سے ہمارا نیا سال یعنی اولین مہینہ تو محرم الحرام ہے جب کہ آخری مہینہ ذولحجۂ کا مہینہ ہے۔ یعنی ہماری ابتدا قربانی اور انتہا قربانی ہے۔

بد قسمتی سے پاکستان قائم تو ہوا اسلام کے نام پر لیکن بہت سے معاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں ہوتا ان میں سے ایک ماہ و سال بھی ہیں۔ یہاں انگریزی مہینوں اور تاریخوں کے مطابق زندگی کے معاملات پرعمل ہوتا ہے۔ بمشکل تمام جمعہ کی چھٹی بھٹو صاحب نے کردی تھی لیکن حکومتوں نے کچھ اور تو نہ کیا اس اسلامی کام کو دوبارہ جمعہ کے بجائے اتوار مقرر کردیا دلیل یہ دی گئی تھی کہ پوری دنیا اتوار کو بند اور جمعہ کو جاگ رہی ہوتی ہے تو ہم جمعہ کو کیسے سوجائیں ۔ ملک کا نقصان ہوتا ہے ، دنیا جاگ رہی ہوتی ہے بھلا پاکستانی قوم اس دن کیسے سوتی رہے وغیرہ وغیرہ ۔ سعودی عرب سمیت کئی اسلامی ممالک میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی منطق اپنی الگ ہی ہے۔ اسلامی سال اور اول مہینے کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے اسے کوئی کم نہیں کرسکتا ، بے شمار کام ہم چاند دیکھ کر ہی کرتے ہیں حج کا دن مقررہے، قربانی کا دن متعین، رمضان کے روزے رکھتے ہیں چاند دیکھ کر، عید مناتے ہیں چاند دیکھ کر، اسی طرح بہت سے کام چاند دیکھ کر ہی کر رہے ہوتے ہیں لیکن زیادہ کام انگریزی مہینوں اور دنوں کے اعتبار سے ہورہے ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات اجرت محنت کشوں کو تنخواہ ملتی ہے انگریزی مہینے کے اعتبار سے ، چھٹی کے معاملے ہماری قوم خود کفیل ہے یعنی اسلامی تہوار ہو تب چھٹی انگریزی مہینوں میں کوئی تہوار ہو تب چھٹی ،اس لیے ہماری زندگی میں انگریزی ماہ و سال کا عمل دخل زیادہ ہے۔گزرے سال کے لیے دعائے خیر اور نئے آنے والے کو خوش آمدید۔

سال جو بیت گیا اس کا مختصر سا جائزہ ضروری ہے ، ویسے بھی 2019 ء بہت سی باتوں کے حوالے سے ہمیشہ یادرکھا جائے گا، پاکستان کی تاریخ خاص طور پر سیاسی و معاشی تاریخ اس سال کے اہم واقعات کے بغیر ادھوری رہے گی۔کپتان کی حکومت کو 2019ء میں بے پناہ سیاسی اور معاشی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کی معیشت جو ڈوب چکی تھی اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تحریک انصاف کی حکومت کے لیے سب سے بڑ ا چیلنج تھا، مکمل پہلا بجٹ بھی حکومت نے اسی سال میں پیش کیا، معیشت کو استحکام دینے کے لیے حکومت نے جس ٹیم کا انتخاب کیا تھا وہ حکومت کے اقدامات سے لگتا تھا کہ کامیاب ٹیم نہیں تھی، کپتان نے حکومت بنانے سے قبل جس شخص کا نام اس وزارت مالیات کے لیے میڈیا میں اعلان کیا یعنی اسد عمر ملک کی معاشی کشتی کو معاشی بھنور سے نکالنے میں کامیاب نہ ہوسکے، چنانچہ ان کی جگہ باہر سے ماہرین کو معیشت کی بہتری کا ٹاسک دیا گیا، جس پر اپوزیشن نے سخت تنقید کی لیکن کہا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ کسی حد تک کامیاب رہا اور ملک اس خطر ناک معاشی بحران سے نکل آیا، فوری طور پر بعض اسلامی ممالک نے پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھٹرا کرنے میں مالی معاونت کی، عالمی اداروں نے بھی پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے قرض دینے آمادگی ظاہر کی اور قرض دئے گئے، اس پر بھی اپوزیشن نے عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور بنانا بھی چاہیے تھا، اس لیے کہ عمران خان تو پاکستانی قوم کو قرض کے بوجھ سے آزاد کرانے کا وعدہ کرتے رہے تھے۔ لیکن یہ بھی پاکستان کی مجبوری تھی، پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا تو اس سے جو مشکلات اور پریشانیاں ملک و قوم کو اٹھانا پڑتیں ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ دسمبرنے جہاں ستم ڈھائے وہاں پاکستان کی معاشی مشکلات کو کنٹرول کرنے، بہتری لانے کی نوید بھی سنائی، وزیر اعظم عمران خان نے بھی 2019ء کو ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کا سال قرار دیا جب کہ آنے والے سال میں ترقی اور خوشحالی کی نوید دی۔ بین القوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’’موڈیز‘‘Moody'sنے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورت حال کو منفی ریٹنگ سے نکال کر مستحکم قرار دیا ہے، موڈیز کا کہنا ہے کہ ملکی زر مبادلہ کے ذخائز میں بتدریج اضافہ اور خسارے میں کمی ہورہی ے۔ موڈیز انوسٹیز سروس کے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی اور غیر محفوظ قرضوں کی درجہ بندی ’’پی تھری‘‘ کردی گئی ہے اور آؤڈلک کو منفی سے مستحکم کر لیا گیا ہے‘‘۔

 2019 ء شریف خاندان کے لیے بہت بھاری رہا، میاں نواز شریف اور چھوٹے میاں صاحب مرکز اور پنجاب کی حکومت سے تو پہلے ہی ہاتھ دھو بیٹھے تھے، یہی نہیں بلکہ دونوں میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو جیل جانا پڑا، بڑے میاں صاحب کی بیماری کے حوالے سے 2019 تاریخ میں یاد گار رہے گا، جیل میں بیمار ہونا، پلیٹی لیٹس Plateletsکم ہورہے تھے ،ایک نارمل انسان کے پلیٹی لیٹس اگر 150,000 سے کم ہوجائیں تو وہ اسے Thrombocytopenia کا مریض کہا جاتا ہے،میاں صاحب کی سی بی سی کی رپورٹس جو جاری کی جارہی تھیں ان کے مطابق ان کے پلیٹی لیٹس تواس سے کہیں کم آرہے تھے،انہیں دل کی بیماری اور بلڈ پریشر کا عارضہ بھی ہے ، وغیرہ وغیرہ پھر عدالت اور حکومت کی جانب سے انہیں علاج کے لیے لندن جانے دینا، پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے کہ کسی قیدی کو ملک سے باہر علاج کی غرض سے حکومت پھر عدالت اجازت دے۔ لیکن ایسا ہوا، میاں صاحب لندن میں علاج کرارہے ہیں جب کہ چھوٹے میاں صاحب نے قائد حزب اختلاف ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا اور وہ بھی اپنے بیمار بھائی کی خدمت کرنے لندن ساتھ چلے گئے، ابتدائی طور پر چار ہفتوں کی اجازت دی گئی لیکن اس مدت میں اضافہ واضح نظر آرہا ہے۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی نے 2019 ء میں عملی سیاست میں بھر پور حصہ لیا، عوامی جلسوں سے دھواں دھار تقرریں کی، عمران خان کو خو ب خوب لتاڑا، لیکن تمام تدبیریں دم توڑ گئیں جب وہ بھی جیل چلی گئیں، پھر ان کی بھی ضمانت ہوگئی لیکن انہوں نے آزاد ہوکر چپ سادھ لی ہے، احتساب اور جیل جانے کے حوالے سے یہ سال بہت سوں کو بہت یاد ہی نہیں آئے گا بلکہ خون کے آنسو رلائے گا۔نون لیگ کی دوسری سطح کی لیڈر شپ چند کو چھوڑ کر سب جیل گئے ، اب رفتہ رفتہ ان کی ضمانتیں ہورہی ہیں۔ شاعر عبید اﷲ علیم کا شعر ۔
آنکھ سے دورسہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا
 


پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات کے نتیجے میں سندھ تک محدود ہوچکی ،سابق صدر آصف علی زرداری ، سید خورشید شاہ و دیگر کا جیل چلے جانا ، پھر ضمانت ہوجانا ، دیگر لیڈروں کے گرد نیب کا گھیرا تنگ ہورہا ہے، یہاں تک کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کے لیے بھی کہا جاتا رہا کہ وہ نیب کے شکنجے میں آنے والے ہیں۔ بلاول کی سیاست عروج پر ہے، وہ سخت الفاظ اور سخت جملے عمران خان کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جوابی کاروائی کا مقابلہ بھی انہیں کرنا پڑتا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، کنٹینر پر کئی دن براجمان رہے ، بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے مولانا کے دھرنے میں اس جوش اور جذبے سے حصہ نہیں لیا، بات تھی دوڑ میں آگے نکل جانے کی، یعنی ان کی مثال’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ‘والی تھی، لیکن مولانا نے دھرنے کی ناکامی کو بھانپتے ہوئے اپنے پلان بی اور پھر اس کی ناکامی کے کو دیکھتے ہوئے پلان سی پر عمل کا اعلان کیا۔ مولانا کو اس دھرنے فائدہ ہوا یا نہیں لیکن فائدہ اٹھانے والے اس سے مستفید ہوگئے۔

ستمبر 2019ء نے ستم ڈھایا، بھارت نے اپنے دستور کی شق 370 کو ختم کر کے کشمیر میں کشمیریوں پر شب خون مارا ۔ بھارتی دستور کا یہ آرٹیکل کشمیرکی بھارتی آئین میں جو ایک خصوصی حیثیت تھی وہ ختم ہوگئی۔ اس آرٹیکل کی تنسیخ سے کوئی بھی غیر کشمیری وہاں جائیداخرید سکتا ہے، رہائش اختیار کرسکتا ہے، سرکاری محکموں میں ملازمت حاصل کرسکتا ہے۔مودی کو بیٹھے بیٹھائے کشمیر میں آگ لگانے کی سوجی، اور آگ لگ گئی، کشمیری بھپر گئے، پاکستان نے بھی دنیا میں اس کا واویلا شرورع کیا، مودی نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیریوں پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑنا شر وع کردئے، کشمیری لیڈروں کو گرفتار کر لیا، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر قید کردیا۔پوری وادی میں کرفیو فافذ کردیا گیا، پوری کشمیر وادی قید کانہ بنا ڈالی ۔ اس صورت حال کو سو دن سے زیادہ ہوگئے۔ عمران خان نے 27 ستمبر 2019ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے74 ویں اجلاس سے تاریخی خطاب کرکے اسلاموفوبیا، دہشت گردی ، امریکہ افغانستان جنگ ، نائن الیون، کشمیر میں بھارت کا ظلم و بربریت کو بڑے مہذب، شائستگی اور بے خطر ہوکر اقوام عالم کے سامنے رکھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی حکمرانوں کی تقاریر کا تقابل کریں تو عمران خان کی تقریر کئی اعتبار سے تعریفی تھی۔ موضوعات کے اعتبار، الفاظ اور جملوں کے انتخاب کے اعتبارسے، باڈی لینگویج کے اعتبار سے، دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف سمجھانے کے اعتبار سے ، بہادری اور دلیرانا تقریر کو مثبت اور مناسب کہا جائے گا۔ اختلاف اپنی جگہ ، اختلاف کی گنجائش تو ہر چیز میں ہوا کرتی ہے، کوئی بھی انسان مکمل نہیں، بہتری کی گنجائش ہر چیز میں ہواکرتی ہے۔

2019ء میں دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی، خود کش حملوں میں بہت کمی ہوئی۔پختونخواہ میں صورت حال بہتر ، بلوچستان میں ابتری برقرار رہی ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء میں دنیا بھر میں 49صحافیوں کا قتل ہوا۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے متعدد کیسیز ہوئے، موبائل اسنیچنگ ، ڈاکہ ، لوٹ مار کے واقعات بھی بڑی تعداد میں سامنے آئے۔ امریکی ڈالر کے اوپن مارکیٹ میں اضافہ ہوا ، ڈالر کی اس بڑھتی ہوئی قدر پاکستان میں مہنگائی کا باعث بنی اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ افواج پاکستان کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ عدالت میں پہنچا، عدالت نے چھ ماہ کی توسیع کے ساتھ معاملے کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کی ہدایت کی۔ اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس بھی اسی سال اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوگئے۔ 2019ء وکیلوں اور ڈاکٹروں کے ٹکراؤ اور لاہور میں وکیلوں کی جانب سے اسپتال پر چھڑائی کے حوالے سے بھی یاد آئے گا، کیا ہوا، کیسے ہوا، کیوں ہوا، جو کچھ بھی ہوا وکیلوں کے لیے ان کے پیشے کے لیے برا ہوا،غلطی جس کسی کی بھی تھی پر وکیلوں کاعمل ہر اعتبار سے غیر مناسب تھا۔ مزاح گو شاعر خالد عزیز نے اس کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ۔
شہر لاہور میں وکلا کی یہ وکلا گردی
شرم سے ہم نے تو آنکھوں کو جھکا رکھا ہے
 


سال 2019ء میں کئی شخصیات ہم سے جدا ہوگئیں ان میں علماء ،اساتذہ، سیاستداں، صحافی، اداکار، لکھاری ، مصور، ماہر امور خانہ داری اور دیگر شامل ہیں۔دینی شخصیات میں تبلیغی جماعت کے رہنما حاجی عبدالوہات ،مو لانا حمد اﷲ، محمد احمد بہاولپوری ، مولانا اظہار الحق، علامہ عباس کمیلی، مولانا اسفند یار خان، مولانا عبد الحمید وٹھ ، محمد طلحہ کاندھلوی(بھارت)۔سیاسی و سماجی شخصیات میں ملک حاکمین خان،کشمیر کے یوسف لچ، سکندر پروین گل، پیر سید غلام شاہ جیلانی، چودھری محمد انور بھنڈر، رانا محمد افضل،ایم ایم عثمانی، جسٹس دیدار حسین شاہ، شاہد حیات، وکیل فاروقی اور بیگم جنرل حمید گل،ادریس بختیار، ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک، خالدہ حسین، یونس ریاض۔اساتذہ ، شاعر وادیبوں میں ڈاکٹر جمیل جالبی، حمایت علی شاعر، عارف شفیق ، دل دل پاکستان کے شاعر نثار ناسک، لیاقت علی عاصم،پروفیسر انعام باری، اعجاز رحمانی ، معراج رسول، عبدا لرشید، آفاق صدیقی، پروفیسر عقیل رضوی (الہٰ آباد)، بھارت کے ہی شاہد ماہلی، لندن میں باقر نقوی، بلوچ شاعر و ادیب واحد بخش بادپا، سندھ کے شاعر و ادیب ضمیر کھرل، ڈاکٹر انور سجاد، الیاس وارثی، انیل دتہ، پروفیسر وقارالدین، ڈاکٹر رشیدہ حجاب، معراج رسول،نعت خواہ راشد اعظم، پشتو شاعر افگار بخاری شوبیز اور اداکاروں میں عابد علی، ذہین طاہرہ، شہناز بیگم (بنگلہ دیش)، روہی بانو، علی اعجاز ، اشرف راہی، گلاب چانڈیو، ذین العابدین، ظفر اقبال مرزا، دیگر میں مرید عباس، نادیہ فیصل، ابولاحسنات،سید امتیاز راشد،انور کاظمی ، کرکٹر محمد خواجہ، عبدالقادر، شیف فاطمہ علی، سائیکل چیمپین صبیحہ، امپائر عبدالحمید ی، ریاض الدین، نسیم شاہ، موسیقار نیاز احمد اور مصور جمیل نقش شامل ہیں۔ اﷲ پاک سب کی مغفرت فرمائیں، آمین۔

علمی وادبی سرگرمیوں اور مواد کی تخلیق کی بات کی جائے تو رخصت ہونے والے سال میں ادبی سرگرمیاں بڑی تعداد میں ہوئیں۔ کراچی اور لاہور کو ان سرگرمیوں میں سر فہرست کہا جاسکتا ہے۔ لاہور میں فیض میلہ اور کراچی میں بارہویں عالمی اردو کانفرنس اور عالمی کتاب میلے نے علمی و ادبی ماحول کو گرمادیا۔ کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی نے کئی ادبی پروگرام منعقد کیے، آرٹس کونسل، ہماری ویب رائیٹرز کلب، سلسلہ ادبی فورم اور دیگر نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد میں اپنا حصہ ڈالا، کے ایم سے آفیسرز کلب میں کئی ادبی پروگرام ہوئے، انجمن ترقی اردو، انجمن ترقی پسند مصنفین اور دیگر ادبی ادارں نے پروگرام منعقد کیے، نثری ادب کی اشاعت کے حوالے سے ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اپنے مضمون ’’نثر کی برکھا برستی رہی ‘‘ روزنامہ جنگ (19دسمبر)میں لکھا کہ ’’اردو ادب 2019ء میں بھی پوری آب وتاب سے دمکتا رہا، نئی کتابیں شائع ہوتی رہیں ۔ پرانی کتابوں کے نئے ایدیشن بھی منظر عام پر آئے، ادبی رسالے شائع ہوتے رہے، ادبی کانفرنسیں منعقد ہوتی رہیں، میلے سجے اور ان میں حسب سابق کتابیں کثیر تعداد میں فروخت ہوئیں‘‘۔ شعری مجموعوں کے حوالے سے ڈاکٹر رخسانہ صبا نے اپنے مضمون ’’غزل کے استعارے ‘‘ ’’آگہی کی منزل پر‘‘( روزنامہ جنگ 30دسمبر)میں شعری مجموعوں کا جائزہ خوبصورت انداز مین پیش کیا ہے۔ 2019 ء رخصت ہورہا ہے بعض کے لیے اچھے اور بعض کو منفی حالا ت سے دوچار کیا، لیکن اسے اب روکنے والا کوئی نہیں اس نے سابقہ سالوں کی مانند چلے ہی جانا ہے، شاعر اسلم انصاری نے اس کیفیت کو اپنے ایک شعر میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔
جانے والے کو کہا ں روک سکا ہے کوئی
تم چلے ہوتو کوئی روکنے والا بھی نہیں

علمی، ادبی اور تصنیفی سرگرمیوں کے اعتبار سے 2019 ء میرے لیے مثبت رہا، ادبی پروگراموں میں شرکت ہوئی، ان میں اظہار خیال بھی کرتا رہا۔ تصنیفا ت و تالیفات اور کالم نگاری کے اعتبار سے بھی اس سال نے میرے دامن میں متعدد مضامین ، کالم اور دو تصانیف کا اضافہ کیا۔ میرے تمام مضامین و کالم اردو کی ویب ’’ہماری ویب‘‘ پر آن لائن ہوتے ہیں۔ آج جب اس فہرست کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ 2019 ء میں پہلا مضمون 16فروری کو ہماری ویب پر پوسٹ ہوا جو جرمنی میں مقیم شاعر ، افسانہ نگار انور ظہیر رہبر کے افسانوں کا مجموعہ ’’عکس ِآغاز‘‘ کا پیش لفظ تھا۔ اس کے بعد لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ جاری رہتے ہوئے پیش نظر مضمون ’’الوداع2019 ء مرحبا 2020ء‘‘ اس سال کا 102مضمون ہے۔ اس تعداد میں کتابوں پر اظہار خیال، شخصیات، سیاسی و سماجی موضوعات پر کالم شامل ہیں۔ دو تصانیف پہلی ’’وہ جو اب ہم میں نہیں‘‘ اور دوسری میری مضامین کا مجموعہ جسے مرتضی شریف نے ’’ڈاکٹر رئیس احمد صمدنی کے نثری مضامین‘‘ کے عنوان سے مرتب کیا شائع ہوا۔ معروف شاعر احمد فراز کا ایک شعر۔
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کسی برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

اب نہیں معلوم کہ رخصت ہونے والا سال کس کے لیے اچھا اور کس کس کے لیے اچھا نہیں رہا، اﷲ کے نظام کے تحت وقت کا دھارا اسی طرح بہتا رہے گا، ایک دن ختم ہوتاہے دوسرادن شروع ہوجاتاہے، اسی طرح دن، ماہ و سال آئیں گے اور جاتے رہیں گے، دنیا اسی طرح قائم و آباد رہے گی، شخصیات بھی انہی کی مانند اپنا اپنا کردار ادا کرکے رخصت ہوجائیں گی اور ہورہی رہیں۔ ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے اور اچھے کے لیے عملی جدوجہد بھی۔2019ء اب رخصت ہوا، 2020 ء جو 12ماہ یعنی365دن ہمارا مہمان رہے گا۔ اگر اس نے سابقہ مہمانوں کی پیروی کی، ان کی طرف دیکھتا رہا تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ماضی میں ہوتا رہا ، دعا ہے کہ یہ سابقہ مہمانوں سے مختلف ہو، اس کے ارادے نیک اور سوچ مثبت ہو، یہ نیکیوں کا پرستار ہو برائیوں سے نفرت کرتا ہو ، امن کا داعی ہو، جنگ سے نفرت کرتا ہو ۔ پاکستا ن وہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام سے قائم ہوا، اﷲ کی رحمت و خصو صی عنایت اس ملک پر اس ملک کے عوام پر رہیں ہیں اور انشاء اﷲ جاری و ساری رہیں گی۔ ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔کسی کی تحریر میں کچھ ترمیم کے ساتھ نقل کررہا ہوں، ’’ جانے والے مسافر2019ء تمہارا اﷲ حافظ،تم جارہے ہو تو یاد سے دلوں کا میل ، حسد و کینہ کی آگ،بری نظریں ، گھٹن اور بدگمانی، آپس کی رنجشیں، کدورتیں، لڑائی جھگڑے،بد کلامی و بد گوئی سب تم اپنے ساتھ لیتے جانا ، جہاں تم جاکر رہوگے نا وہیں ان کو بھی اپنے ساتھ ہی رکھنا، تم ہمیں تحفے تو بھیجو گے ؟ 2020 ء کے ہاتھوں؟ محبت بے تحاشا سی، خلوص و گرم جوشی بھی، بے غرض ناطے، گہرے تعلق اور نرم سے ،دل جو سب کے لیے دھڑکتے ہوں بھجوادینا‘‘۔اپنی بات کسی شاعر کے اس شعر پر ختم کرتے ہوئے دعا ہے کہ نیا سال ملک و قوم کے لیے نیک فعال ثابت ہو۔
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے
خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
(31دسمبر2019ء)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 713 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: