نیتوں پر شک

(Amir jan haqqani, Gilgit)

ہمارے ہاں یہ رواج جڑ پکڑ چکی ہے کہ ہم ہر انسان کی نیت پر نہ صرف شک کرتے ہیں بلکہ حملہ آور ہوتے ہیں.

یہ آدمی فلاں کے ہاتھ کھیل رہا ہے..فلاں کا ایجنٹ ہے. پتہ نہیں کس کے لیے کام کررہا ہے. فلاں سے متاثر ہے یا اپنے ذاتی مفاد کے لیے یہ سب کررہا ہے. آپ کو یہ باتیں روز سننے کو ملیں گی.

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کسی کی دلیل کی طرف کھبی نہیں دیکھتے بلکہ اس کی نیت اور اس کے خلوص پر وار کرجاتے ہیں.

واضح رہے کسی کی نیت پر حملہ آور ہونا اور فتوی صادر کرنا خود کو خدائی منصب پر فائز کرنے کے برابر ہے.

ایسے لوگوں کے پاس عموما دلیل کی بجائے تعصب ہوتا،جذباتیت ہوتی، غصہ ہوتا ہے. وہ اپنے ہم خیال اور فکر لوگوں کو ہر حال میں درست سمجھتے، یہی تعصب اس کو راہ حق اور اعتدال و انصاف سے دور کرتا جاتا ہے.. ایسے لوگ دلیل اور برہان کے سامنے بالخصوص جذباتیت اور غصے کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر مزید راہ اعتدال سے دور چلے جاتے ہیں. عموما قدامت پسند اور تجدد پسند لوگ ایسا کرتے ہیں. یہ لوگ بعض دفعہ حداعتدال سے اتنا دور چلے جاتے ہیں کہ تشدد پسند بن جاتے ہیں. تشدد پسند لوگ انسانیت کے لیے زہرقاتل ہیں. یہ دلیل اور برہان کے مقابلے میں شک اور بہتان سے اک قدم آگے بڑھ کر انسان کی جان لینے کے درپے ہوجاتے ہیں.

ہمارا مجموعی المیہ یہ کہ ہم ٹھنڈے دل ودماغ اور اعتدال کیساتھ حالات و واقعات اور چیزوں کا تجزیہ نہیں کرتے، نتیجے کے طور پر نیتوں پر حملوں، خلوص پر شک سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر جان لینے اور دینے پر اتر آتے اور کسی کو حق تو کسی کو باطل گرداننے لگے.حق اور باطل قرار دینا کتنا خطرناک کام ہے اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں.

اس صورت حال سے باہر نکلنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں.

بس تھوڑی صبر کے ساتھ حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیتا جائے اور کسی صورت راہ اعتدال اور عدل وانصاف کا دامن نہ چھوڑیں، تعصب اور جذباتیت کو کچھ وقت کے لیے جھٹک دے، تو بہت کم عرصے میں انسان اس کیفیت سے نکل سکتا. تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 149 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 297 Articles with 143435 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: