معاشرتی منافقت

(Rana Amir Roy, Mianwali)
ہمارے معاشرے میں منافقت حد سے بڑھ رہی اور اسی اثنا میں بندہ ناچیز کا بیان پیش خدمت ہے۔

رانا عامر راۓ

زہر لگتا ہے یہ عادت کے مطابق مجھ کو
کچھ منافق بھی بتاتے ہیں منافق مجھ کو
سبھی قارئین عنوان کو بخوبی جانتے، پہچانتے اور سمجھتے ضرور ہوں گے۔ لیکن میں ایک بات بتاتا چلوں کہ یہ عنوان چھٹی ساتویں جماعت کے معاشرتی علوم سے کوئ خاص تعلق تو نہیں رکھتا۔ خیر ہمارے معاشرے میں تو منافقت وافر مقدار سے بھی ذیادہ پائ جانیوالی چیز ہے۔(ہم مسلمان ہیں۔۔سبحان اللہ)
منافق یعنی نفاق کرنے والا ۔ دورخی کرنے والا۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والا۔۔۔۔ عام الفاظ میں ہم منافقت سے مراد یہ بھی لے سکتے ہیں کہ "ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور".

آجکل کے جدید اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جیسے سارا معاشرہ ( موبائل فونز، ٹی وی، کمپیوٹر وغیرہ) میں غرق رہتا ہے ویسے ہی منافقت کے معاملے میں بھی اسے فرصت نہ رہتی۔۔۔مگر افسوس صد افسوس ایسے لوگوں کے ایمان پر کہ جس میں کمزوری ہے اور اسی شے نے ہمارے پورے معاشرے کا کباڑہ کر دیا ہے۔ قول و فعل کے تضاد نے ہمارے اس ظالم سماج کی وہ پھینٹی لگائ ہے کہ اب تو زخم بھی درد ملنے پے کہتے ہیں ( آہ مزہ آ گیا سرکار !) ۔۔۔خاص طور پے ان لوگوں کے اوپر تو صدقے، واری چلے جانے کو دل چاہتا ہے جو نہایت سلیقہ شعاری اور خوبصورتی سے منافقت جیسے گھناؤنے عمل کو سرانجام دیتے ہیں۔ بلکل ایسے جیسے یہی تو کام ہے جو خداۓ بزرگ و برکت نے ان کے ذمے لگایا ہے۔۔اور وہ نبھا رہے ہیں۔بلکل اس شعر کے مصداق
ﮐﺌﯽ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﻠﻘﺌﮧ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﻬﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ کی۔۔۔

منافقت کی کئ اقسام ہیں۔۔۔بہرحال جتنی بھی ہیں سبھی گھناؤنی، گھٹیا اور غلیظ ترین ہی ہیں۔اگر منافق یونے پے کوئ اعزازی تمغہ یا میڈل ہوتا تو ہمارا آدھے سے ذیادہ معاشرہ اسکا حقدار ضرور ہوتا۔۔۔بس جی ! اب قسمت سے بھی کیا گلہ کیجیے کہ یہاں تو وہی انسان جسے اپنی منافقت کی وجہ سے شرم و حیا کو تھوڑا ہاتھ مارنا تھا وہی اپنے سینے اور بعض اوقات تو جذبات کی رو میں بہہ کر ماتھے پے بھی ہاتھ مارتا نظر آتا ہے۔(ماشاءاللہ!)...۔ہمیں تو یہ سمجھ نہی آتی کہ جان تو خیر سبھی نے اللہ کو دینی ہے، لیکن ایسے دو منہ والے لوگوں کا کیا بنے گا؟

تعریف کی رو سے جیسا کہ سب سمجھ سکتے ہیں ، منافقت کوئ بہت ہی عمدہ شے کا نام نہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ منافق شخص بہت سے مخلص اچھے اور ایماندار لوگوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے (بشرطیکہ وہ لوگ اتنے سمجھدار ہوں کہ اس شخص کو جانچ سکیں)....ہاۓ وہ بھی کیا دور تھے جب نفرت میں میں بھی لوگ ایمانداری، احساس اور مذہب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیتے تھے۔۔۔اور ادھر دور ایسا ہے کہ آپکو محبت میں بھی آخری لمحات تک سمجھ ہی نہی لگتی کہ کون منافق ہے اور کون وفادار ۔۔۔۔۔رہی بات نفرت کی تو کیا خوب یاد آئ ہے۔ "انسان کو ہر کام جس سےمحبت ہو چاہے نفرت، سچے دل اور عمل سے کرنا چاہیے". مگر معاشرے کا منافقانہ طرز عمل دیکھ کہ سر پیٹ لینے کو دل کرتا ہے۔

اس دور میں جہاں ایک بھائ دوسرے بھائ کا نقصان کر کے بڑا خوش ہوتا ہے اور فخر و غرور سے چھاتی تانے ایک اصل مرد ہونے کا دعوہ کرتا ہے۔جہاں محبوب اپنے عاشق کو اور عاشق اپنے محبوب کو تکلیف دے کر فرحت، چین، سکون،خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔جہاں ایک دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے منافقت کا سہارا لےکر دوستی کی اداکاری کرنی پڑتی ہے۔جہاں دوست احباب، رشتے دار، حکومت والے ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش نہیں مگر جب ان سے پوچھا جاۓ کہ جناب کہیے کیسی رہی تو کہتے ہیں "کیا کریں بھائ دنیا داری بھی کوئ چیز ہے"۔ تو گویا نفرت کو ترقی دے دلا کر دنیا داری بنا دیا گیا ہے۔۔۔ارے بھاڑ میں جاۓ ایسی دنیا داری کہ آپ کو نا چاہتے ہوۓ بھی کسی کی ہاں میں ہاں ملانی پڑے، اور جھوٹ موٹ کی تھرڈ کلاس اداکاری کا سہارا لینا پڑے۔۔کہ یہ مردوں کو زیب نہیں دیتی۔۔۔۔۔ایسے دور میں اللہ عذاب نہ بھیجے تو کیا من و سلوی اتارے۔ خود کو چھوٹی سی تکلیف میں دیکھ کہ بہت اللہ کو یاد کرتے ہیں توبہ کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ جی جنت میں میری تو جگہ بن جاۓ گی لیکن اسوقت ان کو اللہ بھول جاتا ہے جب کسی کا نقصان کرتے ہیں کہ کسی انسان کا جان بوجھ کر نقصان کرنا ضمیر کے مرے ہونے کی علامت ہے۔یہ بھی تو منافقت ہوئ۔۔۔مگر انہوں نے تو اپنے ضمیر کو اتنی تن دہی سے مارا ہے کہ ضمیر نہ ہو بلکہ محلے کا کوئ پاگل کتا ہو جسے پتھر مارنے کو ہر انسان اپنا حق سمجھے۔ انہی منافقت کے ماروں میں سے ایک شاعر بھی ہیں جو فرماتے ہیں کہ ؛
ناگ کو یہ بتا کر حیران کر دیا میں نے
ہمارا ز ہر ، ہمارے دلوں میں ہوتا ہے

انا للہ وان الیہ راجعون۔۔۔۔۔فاتحہ پڑھیے، کہ فاتحہ صرف لوگوں کے مرنے پر نہی بلکہ ضمیرکے مرنے پر بھی پڑھی جاۓ ۔۔۔۔خدارا ہمیں اپنا نہیں تو اپنی آنے والی نسلوں کا ہی سوچ لینا چاہیے کہ ہم انہیں جو سکھاتے ہیں وہی چیز وہ کرتے ہیں۔دین اسلام میں بھی منافقت کی کوئ جگہ نہی ہے اور منافقت سے دور رہنے کا درس دیا گیا ہے کیونکہ اس سے انسان کا ایمان جاتا رہتا ہے۔۔۔۔اللہ تعالہ کیسے اس شخص کو پسند کر سکتا جسکے دو چہرے، دو منہ اور دو زبانیں ہوں یعنی اسکی باتوں اور عمل میں فرق ہو۔ ہر انسان ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﻣﺤﺒّﺖ، ﺟﻨﮓ، نفرت ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ آﭖ ﺳﮯ ھﻮﺗﯽ ھے ﺍِﺭﺩ ﮔِﺮﺩ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﻣﺤﺾ ﮐِﺮﺩﺍﺭ ھوﺗﮯ ھیــــں۔ جو انسان اس جنگ کو جیت لیتا ہے پھر وہ خواہ دنیا کی نظروں میں پاگل کہلایا جاۓ یا ہارا ہوا انسان اسے رتی بھر بھی فرق نہیں پڑتا کیونکہ الفاظ وہاں کوئی وقعت نہیں رکھتے جہاں سمجھنے والے خاموش اور نہ سمجھنے والے داد دینا شروع کر دیں۔

بات یہ ہے کے جناب منافقت آپکی اور آپکے معاشرے کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہے۔۔میری تو یہی گزارش ہے۔۔۔۔۔۔نہی بلکہ فدویانہ التماس ہے کہ خود کو اور اپنے فدویوں کو منافقت کے خول میں لپٹنے سے بچایا جاۓ۔۔۔ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا جاۓ۔۔۔منافقت سے بچنے کا سب سے بہترین حل سچ بولنا ہے، امن کی پالیسی اپنائ جاۓ، محبت کو اپنے ارد گرد بکھیرا جاۓ (نوٹ : یہ آجکل کی جانو مانو والی محبت کی بات نہیں کی گئ ہے)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 181 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Amir Roy

Read More Articles by Rana Amir Roy: 20 Articles with 4133 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: