نظریاتی ہلاکت

(Sami Ullah Malik, )

بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن پرکچھ کہنایالکھناآسان نہیں ہوتا،زبان وقلم کی ساری صلاحیتیں ناکافی لگنے لگتی ہیں ۔خصوصاًایسے موضوعات جن کاتعلق ہماری ذاتی یاملّی ناکامیوں سے ہو،وہاں ہماراخاص قومی مزاج خود پسندی اور رجحان راہ میں حائل ہوجاتاہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے دورمیں جب انسان مادی ترقی کی معراج پرپہنچ چکاہے،مسلم دنیاکے تصورکے ساتھ ہی ایک ایسی شکست خوردہ قوم کی تصویرابھرتی ہے جواپنےجوہرسے ناآشنااور مغربی دنیاکی اسیر ہے جس کاکوئی متعین مقصدہے نہ متعین پالیسی اورنہ منزل۔آج کوئی بھی مسلم ملک جدیدعلوم وتحقیقات کے میدان میں کسی قابل ذکرمقام پر نہیں کھڑا۔دنیابھرمیں مسلمان عالمی طاقتوں کے نرغے میں ہیں۔کہیں مسلمانوں کاوجودزنجیروں میں جکڑاہواہے توکہیں وہ نفسیاتی غلامی کاشکارہے کہ اندھی تقلیدسے آگے کچھ بھی سوچنے سے قاصرہے۔یہ ہماری موجودہ ملکی صورتحال کی ایک جھلک ہے۔” بات توسچ ہے مگربات ہے رسوائی کی”

اپنی خامیوں اورکمزوریوں کااعتراف بڑے ظرف کاکام ہوتاہے اوراگراحتساب اوراصلاح کے جذبے کے ساتھ ہوتورب کی عظیم نعمت اورکامیابی کی طرف پہلا قدم ثابت ہوسکتاہے۔یہاں ٹھہرکریہ بات سوچنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت امت محمدۖ ہمارے سامنے کامیابی کاتصورکیاہے؟اس وقت امت مسلمہ جن بے دین تہذیبوں کے درمیان موجودہے،ان کے سامنے توکامیابی کاتصور”زیادہ سے زیادہ خوشیوں کے حصول اورقول وعمل کی آزادی”سے زیادہ کچھ نہیں ہے جبکہ اسلامی الہامی نقطہ نظرکے مطابق کامیابی اورفلاح اللہ کی زمین پراللہ کی خلافت کی ذمہ داری اداکرتے ہوئے انسانی زندگی کوتابع امررب کرنااورپوری دنیاپر قرآن کانظام نافذ کردیناہے۔”اسی تصورکے تحت امت مسلمہ نے پہلے بھی دنیاکی امامت کامنصب حاصل کیاتھااوراب بھی اسلام کے غلبے کاراستہ یہی ہے۔

کامیابی کاراستہ،ترقی وخوشحالی کاراستہ،پستی سے نکل کرعروج کی طرف سفرکرنے کاراستہ،چندمہینوں یاسالوں کانہیں بلکہ قوموں کے عروج کاسفرصدیوں پرمحیط ہوتاہے اوراپنے افرادکی اتنی ہی جدوجہداورپیہم عمل کامتقاضی ہوتاہے۔ایک مشہور چینی کہاوت ہے:
”تمہارامنصوبہ اگرسال بھرکیلئےہے توفصل کاشت کرو،دس سال کیلئےہے تودرخت لگائواوراگردائمی ہے توتربیت یافتہ افراد تیارکرو۔”

اس لحاظ سے معاشرے کی تعمیرکیلئےفردکی تعمیرکاکام جتنااہم ہے،اتناہی نازک بھی ہے جس کیلئےایک ایسے لائحہ عمل اور مربوط نظام تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے فردکی تعمیرعین مطلوبہ خطوط پرممکن بنائی جاسکے۔اس حوالے سے ایک موقع پرنیلسن منڈیلا نے کہاتھا:
”ہم دنیاکوتبدیل کرنے کیلئےسب سے زیادہ طاقتوراسلحہ کے طورپرتعلیم کواستعمال کرسکتے ہیں”۔

کسی بھی قوم بلکہ تہذیب کی بقاءواستحکام کیلئےتعلیم کی اہمیت بنیادی ستون کی سی ہوتی ہےلہٰذایہاں علم سے مراد محض حرف شناسی نہیں ہے بلکہ علم کا صحیح ترین تصورمعرفتِ الٰہی،معرفتِ کائنات،معرفتِ انسان اورمقصد زندگی کی صحیح معرفت پرمبنی ہے جس کاماخذقرآن ہے۔اسی علم سے مستفیدہونے والی نسل رب العالمین، کائنات اوراس کے اندر انسان کی صحیح حیثیت کو پہچان کرجب اپنی صلاحیتیں اورتوانائیاں مقصدِ زندگی کی طرف لگائے گی تویقیناکامیابی اور ترقی کی معراج حاصل کرکے رہے گی۔اگریہ بات ذہن نشین رہے کہ اس تعلیمی فارمولے پر دمشق،بغداد، قاہرہ،قرطبہ اور ثمرقند کے تعلیمی مراکزنے کام کیا تھااوراپنے زمانے کی امامت کامنصب سنبھالاتھاتوہماری نگاہیں کسی مغربی نظام تعلیم سے مرعوب نہ ہوں۔مگرالمیہ یہ ہے کہ خودوطن عزیزمیں سیکولر اور لبرل تعلیمی فلسفہ ایک بڑامعیاربن کرابھراہے جبکہ اس بے دین”کوالٹی ایجوکیشن”کے اثرات تمام دنیاپراس صورت میں رونماہوئے ہیں کہ نفس پرستی اور دولت پرستی کے جذبات نسل انسانی کاخاصہ بن گئے۔خاندانی نظام کاشیرازہ بکھرگیا۔معاشرتی جرائم میں ہوشربااضافہ ہوااور بدترین اخلاقی گراوٹ نے احترام انسانیت کوپامال کیا۔غرض کوئی تعمیری پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ہاں یہ ضرورہواکہ انسان کواپنے قول وفعل کی مکمل آزادی مل گئی اورزیادہ سے زیادہ خوشیاں سمیٹنے کیلیے تمام ذرائع جائز قرارپائے۔

وطن عزیزکے اندرتعلیمی نظام کی صورتحال توپہلے ہی ابترہے لیکن اب اوربھی بھیانک ہوتی چلی جارہی ہے۔ قیام پاکستان سے لیکراب تک ہم اپنے نظام ِ تعلیم کبھی مغرب سے ادھارلیتے ہیں،کبھی امریکاسے،کبھی برطانیہ سے اورکبھی جاپان سے جس کے ساتھ ان کے تہذیبی عناصربھی وطنِ عزیزمیں خود بخود اپنی راہ نکال لیتے ہیں۔مقام فکریہ ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت جوپہلی اسلامی ایٹمی قوت بھی ہے،رب العالمین کی طرف سے ایسی نعمتِ عظیم ہے،جہاں اسلامی نظامِ تعلیم کے فروغ کے ذریعے امامتِ دنیا کے مقصدکی طرف پیش رفت کی جانی چاہیے تھی مگرستم ہوا کہ لارڈمیکالے کے عطا کردہ 19ویں صدی کے فرسودہ نظام تعلیم کواس طرح سینے سے لگائے رکھاگیاجیسے آسمانی صحیفہ ہوجبکہ میکالے نے اپنی تعلیمی سفارشات میں واضح طورپرکہاتھاکہ ہمارا مقصدایسے تعلیم یافتہ افرادپیداکرناہے جواپنی نسل اوررنگ کے اعتبارسے ہندوستانی ہوں مگرذہن اورفکرکے اعتبارسے انگریزہوں۔علامہ اقبال کیاخوب فرما گئے:
اوریہ اہل کلیساکانظام تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین ومروت کے خلاف

قوم کے نظام تعلیم کوسیکولر بنیادوں پراستوارکرنے کا سلسلہ پچھلے کئی برسوں سے شروع ہے جوان کے زعم میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔پچھلے چند سالوں میں اسی بنیاد پرپہلی جماعت سے میڑک اورانٹر،بی اے تک کے نصابوں میں زبردست تبدیلیاں کی گئیں۔بائیولوجی (نویں جماعت)کی کتاب سے قرآنی آیات کا اخراج،او لیول کے نئے نصاب میں انتہائی حیاسوز مواد اسلامیات کانہ پڑھایاجانا،نصاب سے نمازکے طریقے کوخارج کردینا،میٹرک کے نصاب سے سورة التوبہ اورسورة الانفال نکال دینااورچھٹی جماعت کیلئےطبع شدہ نصاب میں آنحضور ﷺ اسلام،جہاداورمحترمہ فاطمہ جناح پرمشتمل ابواب شامل نہ کرنا ان اقدامات کی ہلکی سی جھلک موجودہے لیکن اب ارباب اختیارنے تعلیمی نصاب سے ختم نبوت کے متعلق موادکوختم کرکےاب اقلیتی کوٹے میں اسلامیات کے اساتذہ کوبھرتی کرنے کافیصلہ کرلیاہے۔کون نہیں جانتاکہ اس کوٹے سے اقلیتی مذاہب کے نام پرقادیانی بھرتی کاراستہ ہموارکیاگیاہے تاکہ وہ نئی نسل کے اذہان میں اپنے عقیدے کوپروان چڑھا سکیں۔

منظرِ عام پرآنے والی چشم کشارپورٹوں کے مطابق یہ تمام کاروائیاں بیرونی آقا ؤ ں کے اشاروں پرکی گئیں جواپنے عالمی اقدار کے مستقبل کولاحق خطرات سے پریشان ہیں۔یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ہمارانظامِ تعلیم براہِ راست حملے کی زد میں ہے اورایمان اورنظریات پریہ حملہ کوئی صاحب شعوربرداشت نہیں کرسکتا۔اگراس موقع پربھی تساہل کامظاہرہ کیاگیا اوراسے ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرلیاگیاتواس کے ہولناک نتائج اس صورت میں ظاہرہوسکتے ہیں۔
گلاتوگھونٹ دیااہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدالاالہ الااللہ

اس وقت اولین ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی نظام تعلیم کونظریہ پاکستان سے ہم آہنگ کرکے طلبہ کی اخلاق وکردارسازی پرتوجہ دی جائے۔ طلبہ مغرب کی سائنسی وتکنیکی تحقیقات سے مستفید ہونےکیلئے انگریزی میں مہارت حاصل کریں مگر مرعوب ومقلد بن کرنہیں بلکہ آزاداورنقاد ذہن کے ساتھ اپنے سامنے حصول علم کا وہی مقصد رکھیں جوقرآن نے دیاہے۔ سیکولر ازم اورلبرل ازم کے”لال لال”چیلنج کاسامناکرنے کیلئے کمربستہ ہوجائیں اورقیادت زمانہ کے اپنے عزم کومستحکم کریں۔ ایک سازگارروشن مستقبل ہمارامنتظر ہے۔
شب گریزاں ہو گی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 143 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 351 Articles with 86826 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: