پھر تجھے یاد کیا ہے دل نے

(Safdar Ali Hyderi, )

صحافتی پنڈتوں نے کچھ سوچ کر ہی کہا تھا اور یہ دعوی کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا کہ پاکستان کی اخباری صنعت میں کسی تیسرے اردو روزنامہ کی نہ گنجائش ہے اور نہ ضرورت۔
برگد کے درخت تلے کوئی اور درخت بھی کبھی پروان چڑھ پایا ہے بھلا !
اور جہاں ایک کی بجائے دو دو چھتنار درخت موجود ہوں وہاں کارکن صحافی ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے امروز ،مساوات اور مشرق جیسے اخبارات کو سسکتا ،دم توڑتا نہ دیکھتے تو اور کیا دیکھتے؟ اچھا ہوا کہ پنڈتوں کی یہ سب پیش گوئیاں سراسر غلط ثابت ہوئیں۔اور بہت اچھا ہوا کہ یہ کام کسی بڑے سرمایا دارکی بجائے ایک کارکن صحافی کے ہاتھوں انجام پایا۔یوں دنیا نے یہ منظر پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھا کہ ایک ورکنگ جرنلسٹ نے تجربے سے اٹے دماغ ،جذبوں بھرے دل اور سب سے بڑھ کراللہ تعالی کی بے پایاں رحمت کے زیر اثر (مگر خالی ہاتھوں) پاکستانی صحافت کو ایک کی بجائے دو اردو اخبار دئیے۔جو نہ صرف چھپے اور چلے بلکہ قارئین کے دلوں میں بھی گھر کرتے چلے گئے اور آج بھی لاکھوں نگاہوں کا مرکز ہیں ۔
پاکستانی صحافت کا مورخ ضیاشاہد کو ہرگز فراموش نہیں کرسکتا۔
ضیا شاہد سے میرا اولین تعارف عراق کویت جنگ کے دوران’’ پاکستان‘‘کے توسط سے ہوا (تب شاید آٹھویں جماعت میں تھا)۔یہ وہ پہلا اخبار تھاجس نے دو بڑے اخبارات کی مناپلی کا بت پاش پاش کر دیا تھا۔
اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اسکی اشاعت ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔اس اخبار کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اس نے اردو صحافت میں پہلی بار انٹرنیشنل نیوز،سپورٹس نیوز،بزنس نیوز اور شوبز نیوز کو مخصوص جگہوں پر نمایاں انداز میں شائع کرنے کا اہتمام کیا(جو ضیا صاحب کی فکر ی جدت کا اعجاز تھا)۔اب خبروں کو ڈھونڈنے کی زحمت تمام ہوئی اور قارئین کی اخبار میں دلچسپی میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا۔آج یہی انداز ہر اخبار کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے اور باآسانی ہر اخبار میں دیکھا بھی جا سکتا ہے۔آج اپنے ملک میں درجن بھر قومی خبارات دیکھتا ہوں تو میرا دل ضیا صاحب کی محبت سے لبریز ہوجاتا ہے اور ذہن انہیں’’ مجددِصحافت ‘‘ تسلیم کرنے لگتا ہے۔انکا یہ اچھوتا مقام ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ مالک اور کارکن صحافی میں دوریاں بڑھتی چلی گئیں اور بلاآخر نتیجہ مالکِ اخبار کے حق میں نکلا اور ضیا صاحب اخبار سے نکال دئیے گئے۔تب انہوں نے اپنے ہمدمِ دیرینہ خوشنود علی خان کے ساتھ مل کر ایک نئے اخبا ر کے اجراء کا پلان بنایا۔
اپنے اثاثے بیچ کر اپنی’’ لبرٹی ‘‘ لبرٹی پیپرز کے نام کرتے ہوئے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی قائم کی اور اخبار کے عام قاری اور غریب عوام کو براہ راست اس کا پارٹنر بنا کر مالک اور نوکر کی خلیج پاٹ دی۔
جلد ہی اس قابل ہو گئے کہ اس کا لاہور سے اجراء کر سکیں ۔خبریں کے پہلے شمارے کے ساتھ میری ایک بہت ہی خوشگوار یاد وابستہ ہے جو کبھی اپنے پڑھنے والوں سے ضرور شئیر کروں گا۔’’خبریں ‘‘کو بھی پاکستانی عوام نے ’’پاکستان ‘‘ ہی کی طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور نا مساعد حالات میں بھی اپنی مخصوص رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔اس شمع کو کوئی نہ بجھا پایا اور یہ فروزاں سے فروزاں تر ہوتی رہی ۔مخالفین آندھیوں کی طرح آئے اور بے ضرر بگولوں کی طرح ہوا میں تحلیل ہوتے چلے گئے ۔ہستی کو نیستی میں بدلنے کا مکروہ عزم لیکر آنے والے خود نیستی کی تاریک چادر اوڑھ کر ماضی کے کوڑا دان کی زینت بنے ۔حاسدین ناکام ہو کر اپنی سلگائی ہوئی آگ میں خود سلگتے رہے۔
جس کشتی کا ناخدا کوئی نہ ہو اسکا خدا ہوتا ہے ۔
اور یوں مضبوط کشتیاں ڈوب جاتی رہیں مگر کچا گھڑا برابر تیرتا اور آگے بڑھتا رہا۔
شاعر سچ ہی تو کہتا ہے
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا
خبریں کے ایک دیرنہ قاری اور محب کی حیثیت سے ناجانے کتنی یادیں ہیں جو اس سے جڑی اور یاداشت کے ذخیرے میں پڑی ہیں ۔
ان سب کو ضبط تحریر میں لاؤں تو کئی ایک ضخیم کالم بن جائیں گے۔
فی الحال انہیں آئندہ پر اٹھا رکھتے ہیں ۔
سرِدست’’ خبریں ‘‘ کی سالگرہ پر بات کرتے ہیں
۔عدنان اویس (شاید شروع میں وہ یہی نام لکھا کرتا تھا ) نے اس اخبار کے لئے اپنا کیرئیر داؤ پر لگا دیا اور اپنی جوانی بھی اسی پر وار دی۔
جب تک وہ زندہ رہا، باپ اور خبریں یہی دو اسکی زندگی کا محور و مرکز رہے۔اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ باپ کے لئے فکرمند پایا گیا۔
اس بات سے قطعاً بے خبر کہ موت اس کے انتہائی قریب آن پہنچی ہے ۔
پتہ ہوتا بھی تو اسے کیا فرق پڑنا تھا کہ وہ تو اپنی ذات سے بہت بلند ہو گیا تھا۔ اسکی اپنی ذات اس کے وجود کے کسی کونے کھدرے میں روپوش سی ہوگئی تھی۔
سنا کرتے تھے
’’ کتنا مشکل ہے خوداپنی ذات کی نفی کرنا‘‘ ۔
دیکھتے ہیں کہ اس نے اس مشکل کام کو کتنا آسان بنا لیا ہے ۔
نہ اسکا کبھی دعوی کیا نہ جتایا کہ وہ دکھاوے کا نہیں کر دکھانے کا عادی تھا۔
بتانے اور جتانے والے تو محض یہی دو کام کر پاتے ہیں۔جب کہ کچھ کر دکھانے والے
’’دل ہو مقتل میں تو پھر سر نہیں دیکھا جاتا ‘‘
کا عملی روپ ہوتے ہیں۔
فرماں بردار اولاد تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے اور ہر باپ کا نصیب بھی کہاں ہوتی ہے ۔
'’خبریں ‘‘گھر کا بچہ تھا بلکہ گھر بھر کا بچہ۔
سو اسے پروان چڑھاتے چڑھاتے ہاتھ اس گھر کے ہر فردکی زخمی ضرور ہوئے۔
آپ شاید مجھ سے اختلاف کریں لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اس سب میں سب سے زیادہ مصائب عدنان شاہد کو اٹھانے پڑے ۔
حتی کہ وہ جاں تک سے گزر گیا ۔
ضیا صاحب کا مقام اپنی جگہ لیکن میرے نزدیک ’’خبریں ‘‘کو پاکستان کا صف اول کا اخبار بنانے میں سب سے بڑا ہاتھ بھی عدنان ہی کا ہے ۔
یہ اسکا سب سے بڑا کارنامہ ہے جس کا اعتراف مجھ ایسا ضیا صاحب کا فین بھی کرنے پر مجبور ہے ۔
عدنان کی عمر جتنا تو انکا تجربہ تھا ۔
اردو ڈائجسٹ ،جنگ اور نوائے وقت جیسے صف اول کے اداروں میں کام کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جوانی بتا دی تھی ۔
پھر ’’صحافت‘‘تو انکا اپنا بغل بچہ تھا جس سے انہوں نے منافع کمایا ہو یا نہ کمایا ہو تجربہ تو ضرور پایا تھا جو آگے چل کر’’ خبریں‘‘کی اشاعت و کامیابی میں کام آیا۔
عدنان کے پاس کیا تھا نہ عمر نہ تجربہ اور اسکا خواب بھی تو سول سروس میں جانے اور آفیسر بننے کا تھا ۔
ضیا صاحب کی تنگ دامنی جسے زبردستی اس دنیا میں کھینچ لائی تھی جہاں دن تو جاگتے ہی ہیں راتیں بھی سونے نہیں دیتیں۔
مفت کا ورکر ہاتھ آیا تھا سو اس سے ہر وہ کام کرایا گیا جو چیف نے اس کے لئے اسائن کیا ۔
ہاں وہ باپ کو دفتر میں تو کیا گھر میں بھی اپنے ابو کو چیف صاحب ہی کہا کرتا تھا۔
ایسا ورکر بھی کسی نے دیکھا ہو گا بھلا ؟ جو کام میں یوں جتا کہ اسے اپنے خواب بھی بھول گئے اور اپنا آپ بھی ۔
ہاں یاد رہا تو فقط اتنا کہ چیف صاحب کی حکم عدولی نہ ہو ،
پرچہ لیٹ نہ ہو جائے ،
کاغذ کم نہ پڑ جائے ،
کوئی اہم خبرشائع ہونے سے رہ نہ جائے اور۔۔اور پھر جب کام کی زیادتی نے چیف صاحب کے تیزی سے بوڑھے ہوتے وجود پر حملہ کیا تو وہ نرس بن گیا ۔میل نرس ۔باقی تمام کاموں کے ساتھ یہ اضافی ذمہ داری بھی اس نے بخوشی بنا کہے اپنے سر لے لی کہ اسے اس سرائیکی جملے کے مصداق ہونا تھا
’’آکھے الا دا کوئی کم کم نی ہوندا‘‘(وہ کا کام نہیں ہوتا جس کے لئے کہنا پڑے) ۔
اخباری دنیامیں قدم رکھنے کے بعد وہ جب تک زندہ رہا خبریں اور چیف صاحب کے لئے جیا۔ اب تو سالگرہ ایڈیشن میں بھی اسکی کی تحریر لگنے لگی تھی جسے دیکھ کر ضیاصاحب کے مجھ ایسے پرستار مایوس ہو جاتے کہ ایک سال میں ایکبار ان کو پڑھنا بھی اب خواب ہو کر رہ گیا تھا۔یقین ہے کہ یہ کالم بھی چیف صاحب ہی کی مرضی پر اسے لکھنا پڑتا ہو گا وگرنہ وہ ایسا سنگدل بھی نہیں تھا کہ ضیا صاحب اور ان کے قارئین کے بیچ حائل ہوتا۔ضیا صاحب کے ہاتھ خالی تھے لیکن تجربہ تو بلا کا ساتھ رکھتے تھے ۔اور وہ ایسا کچھ بھی پاس نہ رکھنے کے باوجود وہ تھا کہ جس کے لئے کہا گیا ہے
’’وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا‘‘۔
ہاں صاحب اس نے ہزاروں دل فتح کر لئے تھے ۔وہ اب بھی فاتح ہے اور رہے گا۔
ندیم نظر نے سچ کہا
ہم اسے کبھی بھول نہیں سکتے کبھی بھی نہیں۔
دیکھو تو ہم تجھے یاد کرتے ہیں ،یاد رکھتے ہیں ۔
دیکھو تو الطاف قمر صاحب نے تجھے کیسے یاد کیا خود بھی روئے اور ہمیں بھی رلا ڈالا ۔بھائی یہ آنسو بتا رہے ہیں کہ ہم تجھے بھولے نہیں ہیں اور نہ تم نے بھلایا ہو گا
ہاں عدنان
پھر تجھے یاد کیا ہے دل نے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 373 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safdar Ali Hyderi

Read More Articles by Safdar Ali Hyderi: 56 Articles with 11084 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: