ایسے قائد کو ہم نہیں مانتے!!!

(Muddasir Ahmed, India)

ملک کے موجودہ حالات کے تناظرمیں اب بھی لوگ یہ سوال کررہے ہیں کہ ہماری قوم کب اٹھے گی،اب بھی کئی لوگوں کو گمان ہے کہ مسلمان نہیں جاگ رہےہیں۔لیکن یہ وہ لوگ ہیںجنہوںنے عرصے سے مسلم قوم کوہائی جیک کرلیا تھااور مسلمانوں کو کبھی ملنے کا موقع نہیں دیا۔کچھ لوگ سیاست کے نام پر مسلمانوں کو ہائی جیک کرتے رہے تو کچھ لوگ مذہب کے نام پر مسلمانوں کے ذہنوں کومنتشر کرتے رہے اور کچھ لوگ مسلک وعقائد کے نام پر بکھیرتے رہے۔لیکن آج وقت بدل چکا ہے ،نوجوان نسل اپنی ذمہ داری کو سمجھ چکی ہے اور اس ملک کو بچانے کیلئے وہ خود آگے اتر چکی ہے۔یہ نسل جانتی ہے کہ اگر ملک و ملک کا قانون سلامت رہے گا تو ملک میں بسنے والے ہم بھارتیوں کا ایمان بھی باقی رہے گا،ہمارا مسلک بھی باقی رہے گا،ہماری سوچ بھی آزاد رہے گی اور ہمارا وجود بھی آزاد رہے گا۔اس لئے یہ نوجوان پہلے ملک کوبچانے کیلئے آگے اتر آئے ہیںاور اپنی استطاعت کے مطابق کام کررہے ہیں،جو لوگ سوال کررہے ہیںکہ ہم مسلمان متحد نہیں ہوپارہے ہیں تو ایسے لوگوںکیلئے جامع ملیہ اسلامیہ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،جے این یو ،ڈی یو،بنارس یونیورسٹی ایسی مثالیں ہیں جو یہ ثابت کررہی ہیںکہ اب صرف مسلمان ہی متحد نہیں ہیں،بلکہ ہندو مسلم سکھ عیسائی بھی متحد ہوچکے ہیں۔دنیا جان چکی ہے کہ بھارت میں مقیم بھارتیوں کا جو احتجاج چل رہا ہے اس احتجاج کے پس پردہ ایسی قوم ہے جو واحدانیت پر یقین رکھتی ہے،شجاعت ا سکا مقصد ہے اور احتجاج و جدوجہد اس کا ایمان ہے۔اب تک ملک میں مخصوص شعبوں سے جڑے ہوئے مخصوص لوگ بھارتی مسلمانوں کو ہائی جیک کئے ہوئے تھے،مسلکوں کا چاکلیٹ دیکر مسلمانوں میں انتشار پیدا کررہے تھے،اب مسلمانوں کا70 فیصد حصہ اس دھوکے بازی کو جان چکا ہے او روہ بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کیلئے آگے آچکا ہے اور وہ دن دورنہیں ہے جب اس ملک میں پرانا دور واپس لوٹ آئیگا۔ہندوستان کی معیشت سے لیکر تہذیب وتمدن پر بھی آج فرقہ وارایت کا غلبہ کا طاری ہوچکا ہے ایسے میں بھارتیوں کو چاہیےکہ وہ اس ملک کے تحفظ کیلئے آگے آئیں۔اب تک ہندوستانی مسلمانوں کو جن لوگوںنے قیادت کے نام پر گمراہ کیا تھا،اُن کی قیادت کو چھوڑ دیں،اس قیادت کوچھوڑنے سے پہلے ان لوگوں کو ان کی ذمہ داری سے بھی باآور کریں،اگر یہ آپ کی بات کو نہیں مانتے ہیںتو ایسے لوگوں کو چھوڑنا ہی بہتر ہے۔دوسری جانب فرقہ وارانہ فسادات،حکومتی ظلم وستم اور موجودہ حالات کےتناظرمیں کچھ لوگ اچانک قیادت کیلئے اُمنڈ آتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفادات کیلئے قوم کااستعمال کرتے ہیںاور ضرورت پڑنے پر سودا بھی کردیتے ہیں۔این آر سی اور سی اے اے کے معاملے میں کچھ لوگ قیادت کیلئے آئے ہوئے ہیں،انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آخر این آر سی اور سی اے اے کیا چیز ہے ،بس بیانر تھامے اپنی قیادت کالوہا منوانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کو قیادت بھی سوچ سمجھ کرقبول کرنے کی ضرورت ہے،ورنہ اب تک نام نہاد قائدین نے جس طرح سے مسلمانوں کی سودے بازی کی،مسلمانوںکو غریب لاچار مجبور بتاکر چندہ وصولی کی،وہ کام این آر سی اور سی اے اے کے نام پربھی ہوسکتا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 422 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 82 Articles with 21396 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: