پٹھانوں کی من پسند نسوار درحقیقت کس نے اور کیوں ایجاد کی؟ جانیے


انسانی تاریخ میں تمباکو کی ایجاد کے بعد اس کے مختلف انداز میں استعمال کی تاریخ بہت پرانی ہے- اس کا سب سے قدیم استعمال بیڑی کی شکل میں تھا جبکہ تمباکو کے پتے کو سلگا کر اس کے دھوئيں کو اندر داخل کر کے اس کا لطف اٹھایا جاتا تھا- مگر پتدرہویں صدی میں سگریٹ نوشی پر لگنے والی پابندی کے سبب ایک عیسائی راہب نے تمباکو کے پتوں کو پیس کر ہونٹوں میں دبا کر اس کا استعمال شروع کیا اور اس سے بھی وہی نکوٹین کے وہی اثرات سامنے آئے جو تمباکو نوشی کے نتیجے میں حاصل ہوتے تھے-

اس وقت سے لوگوں نے تمباکو کے پتوں کا استعمال بغیر دھوئيں کے بھی کرنا شروع کر دیا مگر ماہرین صحت کے مطابق اس طرح تمباکو کے استعمال کے باعث منہ کے کینسر کے کیسز میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا- اسی وجہ سے وہ اس کا ذمہ داری اسی طریقے کو قرار دیتے ہیں مگر اس کے باوجود ماضی میں نپولین بونا پارٹ سے لے کر موجودہ زمانے میں مایہ ناز کھلاڑی شاہد خان آفریدی تک اس کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں-

پاکستان میں اگر نسوار پٹھانوں کی من پسند ہے تو کراچی والوں میں یہی تمباکو گٹکے کی شکل میں لینے کا رجحان پایا جاتا ہے- گٹکے کے مضر اثرات کے سبب حکومت سندھ کی جانب سے اس کی خرید و فروخت پر پابندی ہے- مگر اس کے باوجود کراچی کا کوئي علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں پر اس کا استعمال نہ کیا جاتا ہو اور لوگوں کے منہ میں یہ موجود نہ ہو- اسی طرح نسوار کی خرید و فروخت کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی مگر اس کے باجود پورے پاکستان میں کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں پر یہ میسر نہ ہو-
 


نسوار
نسوار تمباکو کے پتوں کا بنی ہوئی ایک ہلکی نشہ آور چیز ہے جو کہ چونا ،راکھ اور ایک خاص قسم کی گوند کو ایک خاص طریقے سے پیس کر تیار کیا جاتا ہے- اس کی بنیادی طور پر تین اقسام ہوتی ہیں جن میں سبز نسوار ، کالی نسوار اور سرخ نسوار مشہور ہے- سبز اور کالی نسوار کو ہونٹوں کے نیچے دبا کر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سرخ نسوار کو سونگھ کر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور قسم بھی ہے جس کو ماڈرن نسوار یا چائنا کی نسوار بھی کہا جاتا ہے یا پھر عام طور پر تکیہ بھی کہا جاتا ہے- یہ ایک چھوٹے سے تکیے سے مشابہ ہوتی ہے جو کہ ایک باریک کپڑے نما ٹشو پیپر میں پیک ہوتی ہے اس کو بھی منہ میں رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے ۔ نسوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو نپولین بھی استعمال کرتے تھے اور حالیہ دور میں جی ایچ کیو کی ایک تقریب میں شاہد آفریدی بھی استعمال کرتے دیکھے گئے ہیں ۔ عام طور پر نسوار کے استعمال کے بارے میں یہ کہا جاتا ہےکہ اس کا استعمال سب سے زيادہ پٹھان کرتے ہیں بنوں کی نسوار سب سے زيادہ مشہور ہے-

گٹکا
گٹکا استعمال کرنے والوں میں کراچی سر فہرست ہے اور دنیا بھر میں گٹکا استعمال کرنے والے شہروں میں کراچی کا پانچواں نمبر ہے جہاں ہر پانچواں فرد اس کے استعمال کا عادی ہے- گٹکا درحقیقت ایک مصالحہ ہوتا ہے جس میں جوتری ، الائچی چھالیہ کی گھٹیا قسم ، پستہ ، کتھا اور تمباکو کے پتے اور مصنوعی خوشبو اور کیمیکل شامل ہوتے ہیں ۔ اس کو استعمال کرنے والے ایک تھیلی کے اندر ڈال کر اس کو رکھ لیتے ہیں اور بوقت ضرورت پان کی طرح منہ میں ڈال کر اس کا استعمال کرتے ہیں اور اس کی پیک کو جگہ جگہ تھوکتے ہوۓ نظر آتے ہیں-
 

 
نسوار اور گٹکے میں یکسانیت
ان دونوں میں اس حوالے سے یکسانیت پائي جاتی ہے کہ ان دونوں میں تمباکو کے پتے موجود ہوتے ہیں جس کے سبب نکوٹین جسم میں داخل ہوتا ہے- اور اس کے عادی افراد تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی طرح ہی اس کے نشے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کو استعمال کرنے والے جگہ بے جگہ اس کو تھوکنے کے عادی ہوتے ہیں-یہ دونوں ہی مضر صحت ہوتی ہیں اور ان کے استعمال کرنے والوں کو منہ کے کینسر کے خطرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 4270 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: