نفاذ قومی زبان اردو حقائق اور رکاوٹیں

(Ata Ur Rehman Chohan, Islamabad)

اردو کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 25 فروری 1948 کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا۔ اسی شام دستور ساز اسمبلی نے اس کی منظوری دی۔ پاکستان کے سابقہ دساتیر کی طرح موجودہ متفقہ دستور 1973 کی شق 251 میں اردو کو ملک کی قومی زبان کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے پوری قوم متفق ہے اور قومی زبان کے بارے میں کوئی ابہام اور اختلاف بھی موجود نہیں۔ عدالت اعظمٰی پاکستان بھی دستور کی شق 251 پر فوری عمل کرتے ہوئے قومی زبان کو فوری نافذ کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ قومی زبان کے نفاذ کے لیے دستور میں پندرہ سال کی مہلت دی گئی تھی۔ مقتدرہ قومی زبان نے یہ مدت ختم ہونے سے پہلے 1983 میں ہی ساری دفتری زبانوں کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے مواد اور ملازمین کی تربیت کا کام مکمل کرلیا تھا۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 1972 سے سارا دفتری اور عدالتی زبان اردو میں چلایا جارہا ہے۔پاکستان کی ساری عدالتوں میں ننانوے فیصد مقدمات پر بحث اور جرح اردو میں کی جاتی ہے اور فیصلے انگریزی میں جاری ہوتے ہیں۔ اسی طرح قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کی کاروائی اردو میں چلائی جاتی ہے۔ کابینہ سمیت تمام سرکاری اجلاسوں کی کاروائی اردو میں ہوتی ہے اور روداد اور فیصلے انگریزی میں جاری کیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ہر سطح پر لیکچر اور توضیع وتفہیم اردو میں ہوتی ہے اور امتحانات انگریزی میں لیے جاتے ہیں۔
نفاذ اردو کی راہ میں حائل رکاوٹیں

قومی زبان کو دفتری، تعلیمی اور عدالتی زبان بنانے میں اصل رکاوٹ ہماری نوکر شاہی ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ہماری سول، عدلیہ اور فوجی بیوروکریسی انگریزی بیوروکریسی کا تسلسل ہے۔ انگریز ایک محکوم قوم کو جس طرح ہانکتے تھے، جس شان وشوکت سے زندگی بسر کرتے تھے۔ جو تحکمامہ طرز عمل اختیار کرتے تھے وہی ہماری بیوروکریسی نے ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں سے اختیار کیا۔ جو صرف اور صرف انگریزی زبان اور انگریزی طرز حکمرانی میں ہی ممکن ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ اس غلام ذہنیت کی نوکرشاہی نے اپنی اولادوں کو بھی انگریزی میں پڑھایا لکھایا ہے تاکہ وہ بھی پاکستان پر قابض رہیں۔ وہ کہاں چاہیں گے کہ انگریزی زبان کو ترک کرکے اردو میں نظام حکومت منتقل کیا جائے۔ یہی بیوروکریسی ہمارے نیم خواندہ حکمرانوں کو قانون، قاعدوں اور ضوابط کی بھاری بھرکم کتابوں سے ڈرا ڈرا کر نہ کوئی عوامی مفاد کا کام کرنے دیتی ہے اور نہ انہیں نفاذ اردو کی طرف متوجہ ہونے دیتی ہے۔

اس میں ایک بڑی رکاوٹ یہ فکر بھی ہے کہ جدید دور میں انگریزی کے بغیر نہ اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن ہے اور نہ انگریزی جیسی بین الاقوامی زبان کے بغیر ترقی ممکن ہے۔ اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے تو دنیا میں چین، روس، فرانس، جرمنی، ترکی سمیت کسی ملک نے نہ انگریزی میں تعلیم دی اور نہ کسی کا نظام مملکت انگریزی میں چل رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ ترقی سے ہم کنار ہوئے بلکہ انگریز سامراج سے بہتر ترقی پائی۔

تیسری بڑی رکاوٹ ملک میں قائم ملکی اور بین الاقوامی انگلش میڈیم تعلیمی نیٹ ورک ہے۔ جو اربوں روپے پاکستان سے انگریزی تعلیم کے نام پر کماتے ہیں۔ ان کی پشت پر امریکی ادارہ یوایس ایڈ اور برطانوی ادارہ برٹش کونسل کے اربوں کے فنڈز بھی کارفرما ہیں۔

میسر امکانات اور دستوری تقاضے کے باوجود نفاذ اردو کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ستر سالوں سے انہوں قائد اعظم کی بصیرت/ویڑن کو زیر کار نہیں لانے دیا۔ انہوں نے دستور کی پروا کی اور نہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خاطر میں لائے۔ یہ چوری اور سینہ زوری اب سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ایک اور رکاوٹ عوامی بے حسی ہے۔ عوام کی طرف سے قومی زبان کے لیے کبھی کوئی منظم جدوجہد نہیں کی گئی۔

اب اس کا حل کیا ہے؟
نفاذ اردو ایک آسان مسئلہ ہے. جس کی پشت پر قائد اعظم کا فرمان، دستوری ضمانت، عدالت عظمیٰ کا دوٹوک فیصلہ، عوامی اتفاق رائے اور مقتدرہ کی مکمل تیاری موجود ہے۔اب ایک منظم اور عوامی جدوجہد کے ذریعے قومی زبان کے نفاذ کی اہمیت و ضرورت، استعماری زبان کے ناجائز تسلط کے نقصانات اور نوکرشاہی کی ہٹ دھرمی کو اجاگر کرتے ہوئے عوام کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔عوامی بیداری کو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے شہر شہر نفاذ اردو کے لیے ریلیاں، کانفرنسیں، جلسے، پریس کانفرنسیں اور تعلیمی اداروں میں مذاکرے اور مباحثے منعقد کروانے کی ضرورت ہے۔عوامی سطح پرجدوجہد کے ساتھ ساتھ عدالتی چارہ جوئی ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ ہائی کورٹس کی سطح پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے آئینی رٹ کی جاسکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے نفاذ اردو کے مطالبے کو ہر فرد اور حکومت تک پہنچانے کے لیے ہزاروں افراد پر مشتمل میڈیا ٹیم کی ضرورت ہے۔تحریک نفاذ اردو پاکستان کی طرف سے جاری آن لائن اور دستاویزی دستخطی مہم کے ذریعے کروڑوں شہریوں سے دستخط کروا کے بھی حکومت کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔

طلبہ تنظیموں، اساتذہ، علماء، وکلاء، تاجروں اور دیگر پیشہ ورانہ تنظیموں بالخصوص مزدور تنظیموں کو متحرک کرکے رائے عامہ کی بیداری اور حکومت کو نفاذ پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔آپ اس جدوجہد کا حصہ بنیں، اپنے شعبے کا انتخاب خود کریں اور قوم کو حقیقی آزادی سے ہم کنار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اگر ہم نے آج پیش قدمی نہ کی تو ہماری نسلیں قیامت تک انگریزی کی ظالمانہ تلوار سے علمی، معاشی اور معاشرتی طور پر قتل کی جاتی رہیں گی۔ ہماری تہذیبی پہچان مٹ جائے گی اور ہماری نسلیں دین سے بھی نابلد ہوجائیں گی۔ اس لیے یہی وقت ہے جاگنے اور دوسروں کو جگانے کا۔ اٹھئے، کمربستہ ہو جائیے اور انگریزی کے ناجائز تسلط کے خاتمے اور قومی زبان کے نفاذ تک مصروف جہاد رہیے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 142 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ata Ur Rehman Chohan

Read More Articles by Ata Ur Rehman Chohan: 6 Articles with 1057 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: