ہمالیہ کے پہاڑوں پر ’ہریالی میں اضافہ‘


حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کے علاقے سمیت ہمالیہ کی بلندیوں پر نئے پودے اگ رہے ہیں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ یہ پودے اُن اونچی چوٹیوں پر اگ رہے ہیں جہاں پہلے نہیں اگتے تھے۔

محقیقین نے 1993 سے 2018 تک 'ٹری لائن' اور' سنو لائن' کے درمیان پودوں کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانے کے لیے سیٹیلائٹ ڈیٹا کا استعمال کیا ہے۔

اس ریسرچ کے نتائج گلوبل چینج بائیولوجی نامی جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔

اس ریسرچ کا اہم محور 'سب نیول علاقہ' یعنی ٹری لائن (اُس علاقے کی حد جہاں پیڑ پودے اُگ سکتے ہیں) اور سنو لائن (برف سے ڈھکے علاقے اور برف سے صاف علاقے کے درمیان سرحد) کے درمیان کا علاقہ تھا۔

سب نیول علاقوں میں زیادہ تر جھاڑیاں اور گھاس ہی اگ سکتی ہے۔

رپورٹ تیار کرنے والی اہم محقق اور برطانیہ میں ایکسیٹر یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیرن اینڈرسن کا کہنا ہے کہ 'پیڑ پودے اگنے کا سب سے زیادہ رحجان 5000 میٹر اور 5500 میٹر کی اونچائی کے درمیان دیکھا گیا ہے'۔
 


ان کا مزید کہنا تھا ’بہت بلندی پر چپٹی سطح پر زیادہ پھیلاؤ دیکھا گیا جبکہ نچلی سطح پر ڈھلان والے مقامات پر زیادہ پودے دیکھنے کو ملے'۔

یہ تحقیق ناسا کے لینڈسیٹ سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر کی گئی ہے جس میں 4150 میٹر اور 6000 میٹر بلند مقامات کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

اس میں مشرق میں میانمار سے لیکر مغرب میں افغانستان تک ہندوکش ہمالیہ کے الگ الگ مقامات کو شامل کیا گیا۔

ہریالی میں اضافہ
رسرچ سے معلوم ہوا کہ ہمالیہ کے علاقے کے سبھی بلند پہاڑوں پر ہریالی میں خطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

ہمالیہ میں گلیشیئرز اور پانی کے نظام پر کام کرنے والے محقیقین اور سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔

نیدرلینڈ کی یوٹریکٹ یونیورسٹی میں جیو سائنس کے پروفیسر والٹر ایمرزیل جو کہ اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، ان کا کہنا ہے کہ 'یہ ریسرچ گرم اور زیادہ بارشوں کے موسم سے جن نتائج کے امکانات ہوتے ہیں اس پر پورا اترتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا 'یہ ایک بہت ہی حساس اونچائی والا علاقہ ہے جہاں پر سنو لائن ہے۔ اس زون میں دیگر بلندیوں سے نکلنے والی سنولائن سے پودوں کو اگنے کا موقع ملا ہے'۔

اس ریسرچ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اتنی بلندیوں پر پودوں کے اگنے کی وجہ کیا ہے؟

البتہ دیگر تحقیقات سے اس طرح کے اشارے ملے ہیں کہ ہمالیہ کے علاقے کا جو ماحولیاتی نظام حیات ہے وہ ماحولیات کی وجہ سے پیڑ پودوں کی نشونما میں تبدیلی آنے کے اعتبار سے بے حد حساس ہے ۔
 


نیپال کی تریبھوون یونیورسٹی میں نباتیات کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر اچیوت تیواری کہتے ہیں 'ہمیں نیپال اور چین کے ترائی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے بعد ہی ٹری لائن کا پھیلاؤ دیکھا ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا 'اگر نچلے علاقوں میں یہ ممکن ہے تو واضح طور پر پہاڑوں کی بلندیوں پر بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہونے پر پیڑ پودوں کی تعداد بڑھے گی'۔

ہمالیہ پر باقاعدگی سے جانے والے بعض سائنسدانوں نے بھی پیڑ پودوں کے اضافے کی تصدیق کی ہے۔

تقریباً 40 برسوں سے نیپال میں واقع ہمالیہ میں فیلڈ رسرچ کرنے والی وجیٹیشن اکولوجسٹ الیزبیتھ بائیرز نے بتایا کہ 'پودے اب واقعی ان علاقوں میں اگ رہے ہیں جہاں کبھی گلیشیئر کی پرت ہوا کرتی تھی۔'

انھوں نے مزید بتایا 'بعض مقامات پر جہاں ماضی میں صاف برف کے گلیشیئر تھے اب وہاں ملبے سے ڈھکے پتھر ہیں جن پر آپ کو کاہی اور پھول بھی نظر آتے ہیں'۔

ہمالیہ کی ان بلندیوں پر پودوں کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں کیونکہ بیشتر سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کو درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئر کے پگھلنے پر مرکوز کیا ہے۔
 


محقیقین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کی بلندیوں پر پیڑ پودوں کے پھیلاؤ پر تفصیلی رسرچ کی ضرورت ہے جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ پودے مٹی اور برف کے ساتھ کیسے رابطہ قائم کرتے ہیں۔

اس تحقیق کی اہم محقق کیرن اینڈرسن پوچھتی ہیں کہ 'سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ علاقے میں پانی کی خصوصیات یا سائنس کے لیے ان پودوں میں اضافے کے کیا معنی ہیں؟'

ان کا کہنا ہے کہ 'کیا اس سے گلیشیئر اور برف کی چادروں کے پگھلنے کی رفتار تھم جائے گی یا اس میں تیزی آئے گی'۔

ہندوکش ہمالیائی علاقہ مشرق میں میانمار سے لے کر مغرب میں افغانستان تک آٹھ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ ان ممالک کے 140 کروڑ سے زیادہ افراد پانی کے لیے اس خطے پر انحصار کرتے ہیں۔


Partner Content: BBC

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2467 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: