حکمت آمیز باتیں بتیسواں حصہ

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
یہ تحریر فیس بک کے آفیشل پیج www.facebook.com/ZulfiqarAliBukhari
پر میری کہی گئی باتوں کا مجموعہ ہے، میری سوچ سے سب کو اختلاف کا حق حاصل ہے،میری بات کو گستاخی سمجھنے والے میرے لئے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں یا اپنے لئے مشعل راہ بھی بنا سکتے ہیں

دوسروں پر انگلی اُٹھانے والے اپنی غلطیوں کو بھول جاتے ہیں۔

معافی مانگ لینا بری بات نہیں ہے مگر ہم تعلق توڑنے کے لئے ضد پر قائم رہتے ہیں مگر بچانے کے لئے جھکتے نہیں ہیں۔

ہر انسان کو اپنے اعمال پر توجہ دینی چاہیے کون کیا کرتا ہے سے صرف نظر کر کے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی شرح بہت کم ہے جو کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ قومی خزانے کو ہر سال اربوں روپوں سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔اگرچہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں مگر بڑی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں دیئے جانے والوں ٹیکسوں کی رقوم درست جگہ پر خرچ نہیں ہوتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم خود بھی لالچ میں آکر اپنی آمدن کم ظاہر کرتے ہیں تاکہ ہمارے اثاثہ زیادہ بن سکیں

ہر مسئلے کے دو حل ہوتے ہیں جو آپ کی مرضی کے خلاف ہو تو پھر اپنی مرضی کا حل تلاش کرلیں مگر پھر یہ شکوہ نہ کریں کہ دوسروں کی وجہ سے آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ چاتےہیں تب ہی وہ بہترین کامیابی حاصل کر سکیں گے آپ انکی حوصلہ شکنی کریں گے تو یہ ایسا ہو گا کہ کسی پرندے کے پر کاٹ دیے جائیں اور آپ اُس سے اڑنے کی امید رکھیں۔

کچھ لوگ جب نطرانداز کیا جائے تو ڈھیٹ بن جاتے ہیں اور پھر سدھرنے کا نام نہیں لیتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درست ہیں اورکچھ نا عاقبت اندیش بھی انکو اس پر قائم رکھتے ہیں..... وقت گذرنے کے بعد کچھ کو عقل آتی ہے اور خود کو سدھارتے ہیں اور کچھ گمراہی کی دلدل میں گرے رہتے ہیں۔

ماضی کی تلخیوں کو بھولتے ہوئے مستقبل میں قدم رکھنے کا اپنے آج یعنی حال میں سوچ لیں تاکہ پرسکون زندگی گذر سکے۔

اصل ہیرو وہ ہے جو معاف کرنا، درگذر کرنا اور دوسروں کی باتیں سن کر بھی اچھائی سے نہیں رکتا ہے۔

تعلق خراب کرنا ہو یا بات کو بگاڑنا ہو تو سب ہی آگے بڑھ کر تماشہ بنواتے ہیں مگر جب اصلاح کی باری ہو تو سب پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ بھرم قائم رہے کہ پہلے غلط نہیں تھے۔

کوئی کتنا قابل ہے یہ ہم سب کو بتانا چاہتے ہیں مگر ہم خود کتنے قابل ہیں یہ ہم چھپانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی ہمارے گربیان میں جھانک کر اصلیت معلوم نہ کر لے۔

ہر انسان کو عزت چاہیے مگر کوئی کسی کی عزت کرنے اور عزت قائم رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ہے۔

ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے یہی سوچ ہمیشہ ہمیں لے دوبتی ہے۔

جب تک رازداری نہ رکھی جائے تب تک رشتے کمزور ہی رہتے ہیں، بہترین تعلقات کے لئے ایک دوسرے کی پردہ داری کے ساتھ خلوص رکھنا رشتے کا حسن ہے۔

فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لئے جہاں تک ہو سکے درخت لگائیں تاکہ ماحول خوشگوار ہو سکے، محض لگانا نہیں ہے بلکہ خیال بھی رکھنا ہے جب تک وہ تناور نہ ہو جائیں۔

کچھ لوگوں کی اولاد نہیں ہوتی وہ اولاد کی دعا کرتے ہیں اور پھر پوری توجہ سے پالتے ہیں جن کی ہوتی ہے وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایسا سلوک بھی کر لیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، یہی دیکھ لیں کہ آج نمبروں کی دوڑ کے لئے والدین بچوں کو خوار کرا کر،دوسرے سے مقابلہ کرا کر کیا تربیت دے رہے ہیں، بچوں کو حوصلہ دیں تاکہ وہ جو بھی کریں دل سے کریں اور کامیابی حاصل کریں کیونکہ ہرفرد انفرادی صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے وہ کچھ الگ کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 244 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 281 Articles with 224485 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer and Motivator.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: