وفا ہے زیست کا حاصل قسط نمبر6

(Farah Ejaz, Karachi)

حنین اور ان کا نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا۔ اسٹروک کے بعد سے ہی اس کی ٹریٹمنٹ شروع کر دی گئی تھی۔ اسپیچ تھروپی اور ریھابلیٹیشن بھی جاری تھی۔ شادی کے بعد باقاعدہ سلمان اسے نیورولوجسٹ اور اسپیچ تھراپسٹ کے پاس لے کر جانے لگے۔ اس کی صحت کا اس سے زیادہ خیال رکھنے لگے۔ ان کی محبت اسے واپس زندگی کی رنگینیوں کی طرف لانے لگی۔ وہ جو اکثر یہ خواب دیکھنے لگی تھی کہ وہ تپتے صحرا میں تن تنہا کھڑی ہے۔ اس طرح کے خواب بھی آنا بند ہوگئے تھے۔ حیرت انگیز طور پر اس کا چہرہ بھی ٹھیک ہونے لگا۔ سلمان اس کا سارا کریڈٹ ڈاکٹرز کو دیتے تھے مگر وہ ان کی محبت اور توجہ کو اس کا کریڈٹ دیتی تھی۔ ان کے بڑے بھی خوش تھے۔ حشمت ولا کی رونقیں واپس لوٹ آئی تھیں۔ میر ان سب کی زندگیوں سے نکل چکا تھا۔ نہ انہیں اس کی کوئی خٰر خبر تھی اور نہ اس نے ان کی خبر رکھی۔ زبیر صاحب اور حشمت صاحب نے اس کا جو حق بنتا تھا وہ اسے دے دیا تھا۔ آخری دفع بس جائداد سے متعلق ضروری دستاویزات پر دستخط کے وقت ہی ان سب کا اس سے سامنا ہوا تھا۔

وقت بہت تیزی سے گزرجاتا ہے بہت کچھ بدلتے ہوئے۔ حال ماضی میں بدلتا ہے اور ماضی دھند میں لپٹی یاد بن جاتا ہے۔ بہت سے اپنے بچھڑ جاتے ہیں صرف یادیں رہ جاتی ہپی۔ حشمت ولا میں بھی ان پانچ سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ حشمت خان حنین اور سلمان کے دوسرے بچے کی پیدائش کے دومہینے بعد انتقال کر گئے تھے۔ آخری وقت میں اپنے دونوں بیٹوں اور سلمان سے وعدہ لیا تھا کہ اگر شاہ میر واپس لوٹے تو اس پر حشمت ولا کے دروازے بند مت کردینا۔ اسے واپس آنے دینا۔

"سلمان !"

"جی دادا جان۔"

ان کی اچانک طبیعت بگڑی تھی۔ جس پر انہیں ہسپتال لایا گیا تھا۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ ہارٹ ٢٥ پرسنٹ کام کرنے کی وجہ سے ان کی ہارٹ سرجری نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت انہیں آئی سی یو میں شفٹ کردیا گیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد سلمان کو اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا تھا انہوں نے اپنے پاس۔

"بیٹا.. میں.. تم سے... اور زبیر اور... صفدر سے... ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں."

"جی ۔۔۔ آپ حکم کریں بابا جان۔"

"میں مانتا ہوں بیٹا ۔۔۔ شاہ میر سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ غلطی نہیں گناہ ہوا ہے ۔۔۔ مم مگر اب سس سلمان اور حنین اپنی جگہ خوش ہیں ۔۔۔۔ مم مگر وہ ووو وہ۔"

"یہ باتیں بعد میں بھی ہوسکتی ہیں بابا جان آپ ابھی کچھ مت بولیں۔"

"وہاں اکیلا ہے وو وہ ۔۔۔ اگگ گر وہ آنا چاہے واپس تتت تو اسس سے آنے دینا۔"

صفدر صاحب نے باپ کی بگڑتی حالت پر قریب آکر انہیں کچھ بھی بولنے سے منع کرنا چاہا تو حشمت خان نے ان سنی کر کے اپنی بات بڑی مشکل سے پوری کی تھی۔ اور دھندلائی آنکھوں سے ان تینوں کو دیکھا تھا۔ وہ سب ایک دم ان کے بیڈ کے نزدیک آگئے تھے۔

"آپ جیسا بولینگے ویسا ہی ہوگا۔ یہ میرا وعدہ ہے بابا جان ۔۔۔۔ وہ اگر واپس آنا چاہے گا تو ہم میں سے کوئی اسے نہیں روکے گا۔" زبیر خان باپ کا ہاتھ تھام کر بولے تھے۔ تو حشمت خان نے آنکھیں بند کر لیں اور ہلکی آواز میں کلمہ پڑھنے لگے۔ اچانک ہلتے ہونٹ ساکت ہوگئے اور گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ یہ دیکھ کر وہ تینوں گھبرا گئے۔ سلمان تیزی سے باہر دوڑے تھے۔

جلد ہی ڈاکٹر نرسز کے ساتھ آئی سی یو میں داخل ہوا تھا۔ حشمت خان کی دھڑکن چیک کرنے کی کوشش کی۔ پھر نبض چیک کی مگر وہاں زندگی کے کوئی آثار نہ دیکھ کر مایوسی سے گردن ہلائی تھی۔ اور سفید چادر سے ان کا سر ڈھانپ دیا۔

"آئی ایم ساری ۔۔۔۔ ہی از نو مور۔"

*********************

حشمت خان کے انتقال کو ہوئے بھی تین سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ان کی موت کے بعد ایک کمی سی تو تھی حشمت ولا کے ہر ایک مکین کی زندگیوں میں مگر زندگی تو اسی کا نام ہے کہ خوشیوں کے ساتھ ان غموں کو بھی ساتھ لے کر جیو۔ مرنے والے کے ساتھ آپ کی زندگی رک تو نہیں جاتی۔ ختم تو نہیں ہوجاتی۔

طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے صفدر صاحب آفس نہیں جا سکے ۔ پیر کا دن تھا۔ ثریہ بیگم کسی کام سے اپنے بیڈروم میں داخل ہوئیں تو انہیں بستر پر تکیوں کے سہارے پشت اور سر ٹکائے گم سم بیٹھے دیکھا تو ان کے قریب چلی آئیں۔


"کیا بات ہے صفدر ۔۔۔۔۔ کیا طبیعت کچھ زیادہ خراب ہے تو ہاسپٹل لے چلوں آپ کو۔"

"نہیں, اب اتنی بھی خراب نہیں ہے ۔۔۔۔۔ بس تھکن سی ہے اور تھوڑا فلو ہے بس ۔۔۔۔ حنین نے مڈیسن تو دے دی تھی مجھے ۔۔۔۔ یہ حرارت بھی اتر جائے گی۔"

"جی ۔۔۔۔ حنین تو مجھے ہلنے بھی نہیں دیتی ۔۔۔۔۔ سارے کام کر دیتی ہے آپ کے بھی اور میرے بھی۔"

"ہمممم! وہ بس اتنا بولے تھے۔"

"کیا بات ہے صفدر؟ کل سے دیکھ رہی ہوں آپ کچھ چپ چپ سے ہیں ۔۔۔۔۔ کیا مجھ سے شیئر نہیں کرینگے؟"

"ایسی بات نہیں ہے بس بابا جان سے کیا وعدہ یاد آرہا ہے۔"

'تو کیا آپ میر کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟"

"ہاں ۔۔۔۔!"

"اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ واپس گھر آ جائے تو معاف کیجئے گا میں ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔ بیٹا وہ میرا بھی ہے ۔۔۔ مگر اس کی واپسی سے گھر کا سکون برباد ہو یہ میں نہیں چاہتی۔"

"تم ایسا کیوں سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔ حنین اور سلمان ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں ۔۔۔۔ اور شاہ میر نے بھی شادی کر لی ہے ۔۔۔۔۔ اور یہ بابا جان کی آخری وصیت تھی کہ اسے واپس گھر آنے دیا جائے۔"

"آپ اپنے بیٹے کی فطرت سے واقف نہیں ہیں کیا ۔۔۔ بس میں نے کہہ دیا وہ اس گھر میں نہیں آئے گا زبیر اور شفق کو بھی برا لگے گا۔"

"نہیں برا لگے گا ۔۔۔۔ زبیر کئی بار مجھ سے کہہ چکا ہے ۔۔۔ بلکے وہی مجھے بابا جان کی آخری خواہش پر عمل کرنے کو کہہ چکا ہے اور میرے خیال میں تمہیں بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔"

'ٹھیک ہے ۔۔۔۔ آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا کیجئے ۔۔۔۔۔ لیکن اگر میر کے واپس آنے پر حنین اور سلمان کی زندگی میں کوئی طوفان اٹھا تو میں یہ بھول جاؤنگی کہ (وہ کچھ دیر رکی تھیں بولتے بولتے پھر گویا ہوئیں ) میر بھی میرا بیٹا ہے ۔۔۔ میں سلمان کی زندگی میں اب چھوٹی سی بھی پریشانی نہیں چاہتی۔"

وہ خاموش نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھنے لگے تھے۔

"تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔"

وہ ان کے دلاسہ دینے پر کچھ نہ بولیں۔ مگر ان کے چہرے سے چھلکتی پریشانی وہ صاف محسوس کر رہے تھے ۔۔۔۔ اس لیے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھا تھا۔

××××××××××

وہ اپنے آفس میں بیٹھا اپنی خوبصورت سیکریٹری کو کسی کمپنی کے اوڈٹ کے لیے لکھے جانے والی میل ڈکٹیٹ کرا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا سیل فون بج اٹھا۔ غیر ارادی طور پر نمبر دیکھے بغیر کان سے لگا یا تھا اس نے۔

"ہیلو۔"


"ہیلو ۔۔۔۔ کیسے ہو تم۔"

کچھ مانوس سی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو چونک اٹھا ۔۔۔۔

"ہو از اٹ؟ ۔۔۔۔ سوری آئی ڈونٹ ریکگنائیز یو۔"

"بیٹا پانچ سال کا عرصہ اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ تم میری آواز بھی نہ پہچان سکو۔"

"ڈیڈ!"


"ہممم! ۔۔۔۔ ہاں۔"

"آپ نے مجھے ۔۔۔۔ اتنے عرصے بعد ۔۔۔۔ فون ۔۔۔۔ حیرت ہے۔"

"کیا تم گھر آسکتے ہو؟"

"آپ نے تو مجھ پر گھر کے دروازے بند کردیے تھے۔"

"وہ وقت.. وہ سچوئیشن ہی ایسی تھی ۔۔۔۔۔ اور یہ وقت ان زہریلی یادوں کو دہرانے کا نہیں ہے۔ اب بولو کیا تم آسکتے ہو گھر؟"

"اوکے آئی ول کم۔"

ان کے پوچھنے پر وہ بولا تو انہوں نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا تو ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے وجہیہ چہرے پر ابھری تھی۔ وہ کچھ بھی نہیں بھولا تھا۔ وہ حنین کی وجہ سے گھر سے نکالا گیا تھا۔ سب نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا۔ تو اس نے بھی ان کی خیر خبر نہ رکھی۔ ویسے بھی اسے اپنا حصہ اپنے دادا کی جائداد سے گھر سے نکلنے کے چھے مہینے بعد ہی مل چکا تھا۔ اور پھر نکی کے شوہر ہونے کے ناطے وہ ثاقب لودھی کا اکلوتا داماد تھا۔ دولت کی ریل پیل تھی چاروں طرف اس کے۔ کبھی کبھی دل میں یہ خیال ضرور آتا تھا کہ حشمت ولا جا کر بھیا جانی اور اس بدشکل کو دیکھے کہ اب وہ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ بھیا جانی کی تو اس کے رہتے ہوئے ہی بات طے ہوگئی تھی کسی اور سے مگر حنین اس سے اب کون شادی کرے گا۔ حشمت ولا کے دروازے اس پر بند کردیے گئے تھے۔ مگر اب وہ وہاں جا سکتا تھا۔ اور دیکھ سکتا تھا اس ٹھکرائی ہوئی عورت کو جس کی زندگی اس نے انگاروں سے بھر دی تھی۔ اور بھیا جانی کو جن کی محبت اس کی چھوڑی ہوئی دھتکاری ہوئی عورت تھی۔

*****************

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 429 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 145 Articles with 131738 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: