افریقہ کی امیر ترین خاتون نے ’اپنے ملک کو کیسے لوٹا‘؟


حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح افریقہ کی سب سے امیر خاتون نے اپنے ہی ملک کا استحصال کر کے اور بدعنوانی کے ذریعے اپنی قسمت چمکائی۔

ازابیل ڈاس سینٹوس کو زمین، تیل، ہیرے اور ٹیلی کام کے شعبوں میں منافع بخش سودوں تک رسائی اپنے والد کے دورِ صدارت میں حاصل ہوئی۔ ان کے والد قدرتی وسائل سے مالا مال جنوبی افریقی ملک انگولا کے صدر تھے۔

دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح انھیں اور ان کے شوہر کو کئی مشتبہ سودوں کے ذریعے قیمتی ریاستی اثاثے خریدنے کی اجازت دی گئی۔

تاہم ازابیل ڈاس سینٹوس کا کہنا ہے کہ ان پر عائد کیے گئے الزامات بالکل غلط ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف انگولا کی موجودہ حکومت کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔

انگولا کے سابق صدر کی یہ بیٹی اب برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں اور مرکزی لندن میں واقع بہت سی مہنگی جائیدادوں کی مالکہ ہیں۔

انگولا کے حکام کی جانب سے پہلے ہی ان کے خلاف مجرمانہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور اپنے آبائی ملک میں ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

اب بی بی سی پینوراما کو اس ارب پتی خاتون کے کاروبار اور جائیدادوں کے حوالے سے افشا ہونے والے سات لاکھ سے زائد دستاویزات تک رسائی دی گئی ہے۔

ان میں سے بہت سی دستاویزات افریقہ میں کام کرنے والی تنظیم 'پلیٹ فارم ٹو پروٹیکٹ وسل بلوورز' نے حاصل کر کے 'انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس' کو مہیا کی ہیں۔

حاصل ہونے والی ان دستاویزات کی چھان بین اور تفتیش ذرائع ابلاغ کے لگ بھگ 37 اداروں بشمول 'دی گارڈین' نے کی ہے۔

کرپشن واچ کے سربراہ اینڈریو فینسٹین کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ازابیل ڈاس سینٹوس نے کس طرح اپنے ملک اور اس کے شہریوں کا استحصال کیا۔

'جب بھی وہ دنیا کے کسی مشہور اور بھڑکیلے میگزین کے سرورق پر نظر آتیں ہیں یا ہر بار جب وہ فرانس کے جنوب میں کسی مسحور کُن پارٹی کی میزبانی کرتی ہیں، تو وہ یہ سب انگولا کے شہریوں کی اُمنگوں کو پامال کرتے ہوئے کر رہی ہوتی ہیں۔'
 


آئی سی آئی جے نے ان دستاویزات کو ’دی لوونڈا لیکس‘ کا نام دیا ہے۔

تیل کا کاروبار
سب سے مشکوک سودوں میں سے ایک سودا انگولا کی سرکاری تیل کمپنی سوننگول کی برطانیہ میں واقع ایک ذیلی کمپنی کے ذریعے ہوا۔

ڈاس سینٹوس کو سنہ 2016 میں سرکاری تیل کمپنی سوننگول کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ یہ سب ان کے والد جوس ڈاس سینٹوس کی اپنی بیٹی پر کرم فرمائی تھی۔ ان کے والد پر اقتدار پر کڑی گرفت تھی کیونکہ وہ گذشتہ 38 برسوں سے ملک پر حکمرانی کر رہے تھے۔

تاہم ستمبر سنہ 2017 میں وہ ملک کی صدارت سے ریٹائر ہوئے اور یہ وقت تھا کہ جس کے بعد ان کی بیٹی کی پوزیشن خطرات سے دوچار ہوئی اس کے باوجود کہ نئے آنے والے صدر ان کی والد کی پارٹی سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں انگولا کا صدر ان ہی کی منشا پر لگایا گیا تھا۔

والد کی ریٹائرمنٹ کے دو ہی ماہ بعد ازابیلا ڈاس سینٹوس کو سرکاری تیل کمپنی کی سربراہی سے نکال باہر کیا گیا۔

انگولے کے بہت سے باشندوں کے لیے یہ باعث حیرت تھا کہ کیسے نئے آنے والے صدر نے ریٹائر ہونے والے صدر کے خاندان کے کاروبار کی چھان بین شروع کر دی۔

افشا ہونے والی دستاویزات سے ظاہر ہوا کہ تیل کمپنی کی سربراہ کی حیثیت سے ازابیلا نے ایک مشکوک ٹرانزیکشن کے ذریعے 58 ملین امریکی ڈالر دبئی کی ایک کمپنی کو دیے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ان کا کوئی مفاد نہیں تھا تاہم بعد میں پتا چلا کہ دبئی کی کمپنی کا مالک ان کا ایک دوست تھا جبکہ اس کمپنی کا انتظام ازابیلا کا ایک بزنس مینیجر چلا رہا تھا۔

بی بی سی پینوراما کے مطابق جس روز ازابیلا ڈاس کو سرکاری تیل کمپنی کی سربراہی سے برخاست کیا گیا اسی روز دبئی کی کمپنی نے سوننگول کو 50 سے زائد بِل بھیجے تھے۔

اگرچہ اس روز ازابیلا کو برخاست کر دیا گیا تھا مگر اس کے باوجود انھوں نے یہ تمام بِل منظور کیے اور پیسے دبئی کی کمپنی کو ادا کیے گئے۔

اگرچہ دبئی کی اس کمپنی نے کنسلٹینسی کا کچھ کام کیا تھا مگر اس کام کے لیے اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا جواز ان بِلوں پر درج نہیں تھا۔

ایک بِل میں 472196 یورو ’غیرمعین اخراجات‘ کی مد میں مانگے گئے تھے، اسی طرح ایک دوسرے بِل میں 928517 یورو غیر معین قانونی سروس کی مد میں مانگے گئے۔

676339 یورو مالیت کے دو الگ الگ بِل ایک ہی کام کے اور ایک ہی روز جمع کروائے گئے تاہم ازابیلا نے دونوں بِلوں کو منظور کرتے ہوئے رقم جاری کر دی۔

میٹر بزنس سلوشنز نامی اس کمپنی کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے انگولا کی تیل کی صنعت کی از سر نو بحالی میں مدد کی تھی اور یہ بِل اس کام کی مد میں جمع کروائے گئے تھے جو کہ ان کی کمپنی نے چند دوسری کمپنیوں کی مدد سے کیا تھا۔

’اخراجات سے متعلق بلوں سے حوالے سے کنسلٹینسی کمپنیاں عموماً یہ کرتی ہیں کہ وہ اخراجات کو جنرل آئیٹم کی مد میں درج کرتی ہیں۔ اور ایسا عموماً اس لیے ہوتا ہے کہ اس کام میں اخراجات پیپر ورک پر اٹھتے ہیں۔۔۔ میٹر بزنس سلوشنز تمام اخراجات کے شواہد پیش کر سکتی ہے۔‘
 


ازابیلا ڈاس سینٹوس کے وکیل کا کہنا ہے کہ تمام ادائیگیاں قانونی تھیں اور نوکری سے نکالے جانے کے بعد ازابیلا نے کسی ادائیگی پر دستخط نہیں کیے۔

آئی سی آئی جے اور پینوراما نے مزید کچھ ایسی تفصیلات حاصل کی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ اس نوعیت کی کاروباری سودوں کے ذریعے ازابیل ڈاس کیسے امیر کبیر بنیں۔

سب سے زیادہ دولت انھوں نے پرتگال کی انرجی کمپنی گلپ میں اپنی حصہ داری کے ذریعے بنائی۔ یہ کپمنی ازابیل کی ایک ذیلی ملکیتی کپمنی نے انگولا کی سرکاری تیل کمپنی سے سنہ 2006 میں خریدی تھی۔

دستاویزات کے مطابق انھوں نے اس کمپنی کی قیمت کا صرف 15 فیصد بوقت خرید ادا کیا جبکہ باقی کی مالیت یعنی 70 ملین امریکی ڈالر کو کم شرح سود کے قرض میں بدلوا لیا۔

انگولا کی عوام پر چڑھنے والے اس قرض کو 11 برس تک ادا نہیں کیا گیا۔ اس وقت پرتگال کی اس کمپنی میں ان کا حصہ 750 ملین یوروز کا ہے۔ سنہ 2017 میں ازابیلا کی کمپنی نے یہ قرض ادا کرنے کی آفر کی تھی۔

تاہم ان کی جانب سے کی گئی آفر کو اس لیے مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس میں نو ملین یوروز سود کی ادائیگی شامل نہیں تھی۔

مگر چونکہ اس وقت ازابیلا انگولا کی تیل کمپنی کی سربراہ تھیں اس لیے انھوں نے اپنی اس آفر کو قرض کی مکمل ادائیگی قرار دیتے ہوئے خود ہی قبول کر لیا۔

اس قرض کی ادائیگی کے چھ روز بعد انھیں برخاست کر دیا گیا اور رقم نئی انتظامیہ کو واپس کر دی گئی۔ ازابیلا ڈاس کا کہنا ہے کہ اس سودے سے ان کے علاوہ انگولا کی سرکاری تیل کمپنی نے بھی منافع کمایا۔

ہیروں کا کاروبار
ازابیلا ڈاس کے شوہر سینڈیکا ڈوکولو نے سنہ 2012 میں ایک یک طرفہ معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ انگولا کی ریاستی ہیروں کی کمپنی سوڈیم کے ساتھ کیا گیا تھا۔

معاہدے کے تحت دونوں فریقین کو مشہور سوئس لگژری جیولر دی گریسگونو میں حصص خریدنے تھے اور اس سودے میں وہ پچاس، پچاس فیصد یعنی برابری کے حصہ دار تھے۔

دستاویزات ظاہر کرتے ہیں کہ معاہدے پر دستخط کے 18 ماہ بعد تک انگولا کی سرکاری کمپنی سوڈیم نے تو 79 ملین امریکی ڈالر شراکت داری کی مد میں ادا کیے تھے مگر ازابیلا کے شوہر نے صرف چار ملین ڈالر۔

جبکہ اس ڈیل کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عوض ازابیلا ڈاس کے شوہر سینڈیکا ڈوکولو کو علیحدہ سے پانچ ملین یوروز کی رقم سوڈیم نے ادا کی تھی۔

یہ انعامی رقم وہی تھی جو بعد ازاں انھوں نے سوڈیم کے ساتھ شراکت داری میں لگائی۔
 


یہ معاہدہ انگولا کی عوام کے لیے پریشان کن تھا۔

سوڈیم کمپنی نے اس ڈیل میں لگائی گئی تمام رقم ایک نجی بینک سے بطور قرض حاصل کی تھی۔ اس نجی بینک کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر خود ازابیلا ڈاس سینٹوس تھیں۔

سوڈیم کمپنی کو اس رقم پر نو فیصد کے حساب سے سود بھی ادا کرنا تھا جبکہ اس قرض کی منظوری ازابیلا کے والد، جو اس وقت صدر تھے، نے دی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر قرض کی رقم ڈوبتی بھی تو بینک کو کوئی نقصان نہ ہوتا۔

سوڈیم کمپنی کے موجودہ چیف ایگزیکٹیو براوؤ ڈا روسا نے بی بی سی پینوراما کو بتایا کہ انگولا کی عوام کو اس معاہدے سے اب تک ایک بھی ڈالر واپس نہیں ہو سکا ہے۔

’جب ہم نے قرض کی تمام رقم بینک کو ادا کر دی تو ہمیں پتا چلا کہ اس ڈیل میں سوڈیم کو 200 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔‘

ازابیل ڈاس کے والد یعنی ان کے شوہر کے سسر نے اپنے داماد کو انگولا کے خام ہیرے خریدنے کے جملہ حقوق بھی دے رکھے تھے۔

انگولا کی حکومت کا کہنا ہے کہ خام ہیرے انتہائی کم قیمت پر خریدے گئے جبکہ پینوراما کو پتا چلا ہے کہ اس سارے معاملے میں ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم کہیں بیچ میں ہی کھو گئی ہے۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ازابیل ڈاس سوئس کمپنی دی گریسوگونو میں شیئر ہولڈر بھی ہیں اگرچہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس کی تردید کی ہے۔

زمین کے معاملات
دستاویزات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کیسے ازابیل ڈاس سینٹوس نے ستمبر 2017 میں انگولا کی حکومت سے سرکاری زمینیں خریدیں۔ دیگر سودوں کی طرح اس ڈیل میں بھی انھوں نے زمین کے عوض صرف اپ-فرنٹ فیس کی ادائیگی ہی کی۔

ان کی کمپنی نے انگولا کے دارالحکومت میں برلبِ ساحل ایک مربع کلومیٹر ریاستی زمین خریدی۔ یہ خریداری بھی ان کے والد یعنی سابق صدر کی جانب سے جاری کردہ صدارتی فرمان کے تحت ہی مکمل ہو پائی۔

معاہدے میں کہا گیا کہ زمین کی قیمت 96 ملین امریکی ڈالر ہو گی تاہم دستاویزات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی کمپنی نے اس قیمت کا صرف پانچ فیصد ہی ادا کیا جبکہ باقی کی 95 فیصد رقم کے حوالے سے معاہدہ طے پایا کہ وہ اس زمین کی ڈویلپمنٹ میں انویسٹ کی جائے گی۔

بی بی سی پینوراما نے چند ایسے متاثرین سے بات کی ہے جنھیں اس زمین کی خریداری کے بعد وہاں سے بیدخل کی گیا تاکہ اس علاقے کو آباد کیا جا سکے۔

ان متاثرین کو یہاں سے اٹھا کر دارالحکومت سے 50 کلومیٹر دور ویرانے میں آباد کیا گیا۔

ان متاثرین میں ٹریسا ویساپا بھی شامل تھیں جن کا کاروبار اس پراجیکٹ کے باعث ختم ہو گیا اور اب وہ اپنے سات بچوں کو پالنے کے لیے درکار ضروری اخراجات پورے کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میری خدا سے صرف یہ التجا ہے کہ وہ (ازابیل) کو ہماری صورتحال کے بارے میں تھوڑا سوچنے پر مجبور کرے۔ شاید انھیں معلوم ہی نہ ہو مگر ہم مصیبت میں مبتلا ہیں۔'
 


ازابیل نے اس ڈیل کے حوالے سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس ڈیل کی زد میں صرف مقامی لوگ ہی نہیں آئے بلکہ 500 دیگر خاندان بھی۔ کیونکہ اس پراجیکٹ کے بعد اسی نوعیت کے ایک اور پراجیکٹ کے باعث مزید خاندانوں کو ساحل سمندر سے بیدخل کرنا پڑا۔

بیدخل کیے گئے تمام خاندان اب مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور ایک کھلے گٹر کے پاس رہائش پذیر۔ جب بھی سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے تو ان کا علاقہ گٹر کے پانی سے بھر جاتا ہے۔

ازابیل کہتی ہیں ان کے پراجیکٹس کے باعث کسی مقامی شخص کو اس کی زمین سے بیدخل نہیں کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پراجیکٹس بعدازاں منسوخ ہو گئے تھے اس لیے ان کی کمپنی کو کوئی اضافی رقم نہیں دی گئی۔

ٹیلی کام
ازابیل نے انگولا کی ٹیلی کام صنعت سے بھی خوب منافع کمایا۔

انھوں نے اپنے ملک کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی یونی ٹیل میں 25 فیصد حصص خریدے۔ اس کمپنی کو لائسنس سنہ 1999 میں ان کے والد اور اس وقت کے صدر نے جاری کیا تھا۔ لائسنس کے اجرا کے ایک ہی سال بعد وہ اس کمپنی میں 25 فیصد کی مالک بن گئیں۔ انھوں نے یہ شیئرز ایک اعلی حکومتی عہدےدار سے خریدے تھے۔

یونی ٹیل ان کو منافع کی مد میں اب تک ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کر چکی ہے جبکہ اس کمپنی میں ان کا حصہ لگ بھگ ایک ارب ڈالر کا ہے۔ تاہم یہ واحد ذریعہ نہیں ہے جس کے تحت انھوں نے اس نجی کمپنی سے پیسے کمائے۔

انھوں نے یونی ٹیل کو مجبور کیا کہ وہ 250 ملین یورو مالیت کے قرض سے ایک نئی کمپنی، جو کہ انھوں نے خود بنائی تھی، یونی ٹیل انٹرنیشنل ہولڈنگز قائم کرے۔

نئی بننے والی کمپنی کا نام گمراہ کن تھا کیونکہ اس کا تعلق یونی ٹیل سے تھا ہی نہیں بلکہ اس کی مالکہ ازابیل ڈاس تھیں۔

دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ ازابیل نے ایسے قرض کے معاہدے سائن کیے جس میں قرض لینے اور فراہم کرنے والی وہ خود تھیں۔

ازابیل نے اس بات کی بھی تردید کی ہے۔ ازابیل کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان قرضوں نے یونی ٹیل کو کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے اثرات سے محفوظ رکھا۔

ان تمام معاملات میں ملوث کمپنیوں کی نگرانی پرائس واٹرہاؤس کوپرز (پی ڈبلیو سی) نامی کمپنی کر رہی تھی جسے آڈٹ، کنسلٹینسی اور ٹیکس کے معاملات دیکھنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کی فیسیں ادا کی گئیں۔

جب بی بی سی پینو راما نے پی ڈبلیو سی سے ان معاہدوں اور معاملات کی بابت پوچھا تو کمپنی نے ازابیل اور ان کے خاندان کے ساتھ اپنے تعلقات کی منسوخی کے حوالے سے بتایا۔

پی ڈبلیو سی کا کہنا ہے کہ وہ ان سنجیدہ الزامات پر انکوائری کر رہے ہیں۔

سینٹر فار فنانشل کرائم اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر ٹام کیٹینج نے پینوراما کو بتایا کہ پی ڈبلیو سی نے ازابیل سینٹوس اور ان کی کمپنیوں کو قانونی کور فراہم کیا تھا۔


Partner Content: BBC

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3886 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: