ماں بننے کی خوشی ایک طرف، مگر آپ کی یہ عادات آپ کے بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں


کسی بھی عورت کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی یہی ہوتی ہے کہ وہ ماں بننے کے مرحلے سے گزر رہی ہوتی ہے اس دور کی خوشی الگ ہی ہوتی ہے- اس موقع پر ماں ہر طریقے سے اپنا اور اپنے بچے کا خیال رکھتی ہے اور ہر طریقے سے کوشش کرتی ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ کرے جو کہ اس کے بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو- مگر بعض اوقات نادانستگی میں بھی کچھ ایسی عادات کو اپنا لیتی ہے جو کہ اس کے بچے پر انتہائی برے اثرات مرتب کرتے ہیں آج ہم آپ کو اسی حوالے سے بتائيں گے-

1: چیخنا چلانا اور جھگڑا کرنا
ایک حاملہ ماں کو چیخنے چلانے اور جھگڑا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس کا براہ راست اثر اس کی کوکھ میں پروان چڑھتے ہوئے بچے پر پڑتا ہے- اور اس سے اس کا مدافعتی نظام اور دماغ متاثر ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ ماں کی صحت کے لیے بھی بہتر نہیں ہوتا ہے- اور اس کے بھی سر میں درد ، بے خوابی اور متلی کا سبب بن سکتا ہے- اس لیے حاملہ ماں کو چاہیے کہ وہ ایسی کسی بھی صورتحال میں بھی جھگڑے سے بچنے کی کوشش کرے-

2: زیادہ میٹھی چیزوں کا کھانا
یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جو مائیں حاملہ حالت میں بہت زيادہ میٹھی اشیا کا استعمال کرتی ہیں تو اس سے پیدا ہونے والے بچے کے سیکھنے اور یاد کرنے کے عمل پر براہ راست اثر پڑتا ہے- اور آئندہ آنے والی زندگی میں بچے کی یادداشت متاثر ہو سکتی ہے اس لیے حاملہ ماؤں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ حد سے زیادہ میٹھی اشیا نہ کھائیں- اور اگر زیادہ میٹھا کھانے کا دل بھی چاہے تو مصنوعی میٹھے کے بجائے تازہ پھلوں کا استعمال کرنا چاہیے اس کے ساتھ سوڈے والے مشروبات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے-
 


3: موڈ کا اتار چڑھاؤ
حالت حمل میں جبکہ ہارمون کے نظام میں تبدیلی واقع ہو رہی ہوتی ہے اس کی وجہ سے حاملہ ماں کے موڈ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے جو کہ ماں کے میٹابولزم میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے- اور یہ بچے کے اوپر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اس لیے ایک اچھی ماں بننے کے لیے حاملہ ماں کو چاہیے کہ اپنے اس موڈ کی تبدیلی پر کنٹرول کرے- اس لیے ماں کو چاہیے کہ مناسب نیند لے اور چہل قدمی کرے اور اپنے موڈ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے-

4: گرم پانی سے غسل یا سوانا لینا
حاملہ ماں اپنے اعصاب اور جسم کو سکون دینے کے لیے گرم پانی کے ٹب میں باتھ لیتی ہیں یا پھر سوانا باتھ لیتی ہیں جس سے ماں کو تو آرام ملتا ہے مگر اس کے اثرات بچے کے لیے اچھے نہیں ہوتے- اس لیے ڈاکٹر ماں کو بہت گرم یا بہت ٹھنڈے پانی سے غسل سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں اور کوشش یہ کرنی چاہیے کہ معتدل پانی سے نہائيں- اس کے علاوہ ڈاکٹر کے مشورے سے کچھ وقت کے لیے سوانا باتھ لیا جا سکتا ہے-
 


5: رونا
حاملہ ماں کا بعض اوقات خود بخود بغیر کسی وجہ کے رونے کا دل چاہتا ہے جس کے سبب اس کی بھوک کم ہو جاتی ہے اور کم خوابی میں بھی مبتلا ہو جاتی ہے جو کہ بچے کی نمو کے لیے اچھا نہیں ہوتا- اس لیے اگر رونے کا موڈ دو ہفتوں تک جاری رہے تو اس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرنا چاہیے-

6: نیند کے مسائل
ماہرین کے مطابق حمل کی حالت میں اسی فیصد خواتین میں ہارمون میں تبدیلی کے سبب نیند کے شیڈول میں خرابی واقع ہوتی ہے اور نیند کے مناسب نہ ہونے کے سبب موڈ میں بھی خرابی واقع ہوتی ہے- اور اس سے کھانے پینے کے شیڈول پر بھی اثر پڑتا ہے اس سے بچے کے متاثر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 20922 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
Language: