انسان اور میڈیا

(Rabyya, Gujranwala)

ہمارے ہاں کسی بھی پروگرام میں کی گئی تفریح کو عملی جامہ تب تک نہیں پہنایا جاتا جب تک اس کو چار لوگوں میں نشر نہ کیا جائے، آج کی میری اس تحریر کا موضوع بھی یہی ہے، ہر ایک کی پہنچ نہیں ہوتی ہر ایک چیز تک۔کب اور کیسے رواج ہی بنا لیا ہر طبقے میں بسنے والے نامور لوگوں نے چھوٹی سے چھوٹی سر گرمی کو سو شل میڈیا پر شائع/نشر کرنا۔کیوں آج ہماری خوشیاں نشر کیے بغیر کامل نہیں،آج سے کچھ عرصہ قبل کی بات کریں تو تب بھی سرگرمیاں نشر ہوتی تھی ،وہ کیا کہتے ہیں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں سمجھ تو آ ہی گئی ہو گی!آج دیوار کی جگہ میڈیا نے لے لی اختلاف ہے مجھے اس بات سے کی لوگ بدل جاتے ہیں،لوگ نہیں بدلتے بس انداز بیان بدل جاتا ہے۔چند روز قبل کی بات ہے سفر کے دوران مجھےقریب ایک ریستوران میں اپنی بھوک کو مٹانے کیلئے جانا پڑا آرڈر کرنے پر مجھے انتظار کرنے کو کہا گیا وہی ایک ٹیبل پر بیٹھے جونہی میری وہاں موجود مجمعےپر نظر پڑی تو کیا دیکھتی ہوں بچے سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے لوگوں کے ہاتھ میں الیکٹرونک آلات تھے میرے قریب کے ٹیبل پر ایک خاندان بیٹھا تھا جس میں تقریباً 7 سال کے بچے سے لے کر 55 سال کا مرد بیٹھا تھا،اور سب اپنے اپنے موبائل پر مشغول کوئی تصویریں لینے میں اور کوئی سوشل میڈیا پر اپنے تفریح مقامات کی خبر نشر کرنے میں اور جونہی کھنا ان کی ٹیبل پر آیا میں نے ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کے بیٹا پہلے کھانے کی تصویر تو کھینچ لو اور بچہ کہتا جی پاپا وہی کرنے لگا ہوں جہاں کھانا آنے پر بسم اللہ کی تلقین کرنا چاہیے تھی وہاں تصویر۔میری آنکھوں نے اپنا رخ بدلنا چاہا اور رخ بدلنے پڑ ایک اور فیملی اپنے سامنے بیٹھے افراد سےکم اور میڈیا پر زیادہ مشغول تھی،میں فوراً کاؤنٹر پر پہنچی, اپنا آرڈر لیا اور کھانا کھاتے ہی وہاں سے نکل آئی،یہ ہے ہم اور ہمارے اردگردکے لوگ کہی کوئی اللہ کی دی گئی نعمتوں اور دو وقت کی روٹی پر شکر ادا کرتا اور کہی کوئی سوشل میڈیا پر اپنے عزیز دوستوں اور رشتے داروں کو اپنی تفریح پوسٹ دکھا کر سکون حاصل کرتا ہے۔اور شرم کی بات یہ ہے کہ میڈیا پر اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی ہے۔خدارا اپنے پر اور ان لوگوں پر رحم کرو جن کو صرف دو وقت کی روٹی میسر ہے اور وہ اس پر خوش بھی مگر جونہی ان کی نظر آپ کی سر گرمیوں پرپڑتی وہ گہری سوچ میں پڑ جاتے۔میرے استاد ایک بات کہتے تھے تمہارا کچھ جانا نہیں اور میرا کچھ رہنا نہیں،اسی طرح آپ نے دکھاوا کرنا اور چلے جانا اور سکون جیسی چیز ان لوگوں میں سے چلی جانی جو بچے یہ سب دیکھنے پر اپنے والدین کو مجبور کرتے جن کو مشکل سے دو وقت کی روٹی میسر ہوتی،افسوس صد افسوس ان کی سوچ اور انکے عمل پر جو یہ سمجھتے کہ ان کی تفریح جیسی سرگرمیاں دوسروں کو دکھائے بغیر نا مکمل ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 254 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rabyya
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: