باپ اور بھانیوں کا طعنہ آخر کب تک

(Azra Faiz, Wah)

آپ سب لوگ یہ جان کر حیران ہونگے کہ آج بیسٹ پرفارمنس کا ایوارڈ جنہیں ملنے جا رہا ہے وہ اس کمپنی کی کوئی بہت ایکسپیرینس پرسنالٹی نہیں ہیں بلکہ انیس سال کی ایک چھوٹی سی لڑکی جس نے اپنی سٹڈی کے ساتھ ساتھ اپنی انتھک محنت،دیانتداری ،خلوص اور ٹیلنٹ سے اس کمپنی کو مشکل حالات سے نہ صرف نکالا بلکہ کمپنی کی مارکٹنگ پلاننگ اس طرح کیں کہ سب کو حیران کردیا ۔کمپنی کے مینیجنگ ڈائیریکٹر نے اس ایوارڈ کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کو مارکٹنگ ایگزیکٹو کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مزید گرومنگ کے لئے بیلجئیم کی برانچ میں پریکٹس کا موقع بھی دے رہی ہے ۔آپ کی بھرپور تالیوں میں مس مریم ۔ ہال تالیوں سے گونج رہا تھا ۔اس ہال میں چند ایک لوگوں کے علاوہ سب ہی اس کی اس کامیابی پر خوش تھے ۔۔اس نے اپنے اچھے اخلاق اور خلوص سے سب کے دل میں بھی ایسی ہی جگہ بنائی تھی جیسی کہ کمپنی میں۔۔

اس نے اپنے بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ کو چوما ۔اپنے سرٹیفیکیٹ جو کہ کوٹنگ ہوئے ہوئے تھے سینے سے لگایا ۔اور واپس بیگ میں ڈال دئیے ۔جب بھی اس کی اپنے شوہر سے لڑائی ہوتی وہ ایسا ہی کرتی تھی۔۔۔کتنی جلدی وقت بدل گیا پہلے وہ مارتا تھا تو تھوڑی ہی دیر میں اسے بہلا رہا ہوتا ۔۔اپنے ہاتھوں کو زخمی کرتا ۔۔۔دیواروں میں ٹکریں مارتا ۔۔۔وہ ڈر جاتی ۔۔۔اپنا درد بھول کر اسے پکڑ لیتی ۔۔۔پانی پلاتی اس کو سہلاتی اور معاف کرنے کی بجاۓ معافی مانگتی اور اپنے شوہر کے اس اعتراف پر کہ وہ دنیا کی سب سے اچھی بیوی ہے جس نے اپنا مستقبل ۔۔اپنا کئرئیر اس کے لئے چھوڑا ۔۔۔پھر وعدہ کرتا کہ آئیندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا اگر آیئندہ ایسا ہوا تو بھلے چھوڑ دینا اور وہ پگلی یہ جانتے ہوۓ بھی کہ کبھی بھی کچھ ٹھیک نہیں ہوگا مان لیتی کہ وہ سچ کہہ رہا ہے ۔۔۔لڑائی کیوں ہوئی تھی شروع میں تو پتا نہ چلتا بلکہ مریم کو مارنے کہ بعد وہ بہت پیار سے اسے مناتے ہوئے پوچھتا بھلا بتاؤ تو سہی ہوا کیا تھا اور وہ بھی یہ نہیں جانتا تھا لہذا بڑی خوبصورتی سے اسے شیطان کی کارستانی کہہ کر چار قل پڑھ کر اس پر دم کردیتا کیونکہ یہ اسکا یقین تھا کہ شیطان مریم پر آتا ہے ورنہ وہ تو بہت ہی مضبوط اعصاب کا مالک تھا ۔۔۔کبھی کسی لڑکی کا معاملہ ہوتا تو تب بھی وہ یہی کہتا کہ تم تو جانتی ہو میں ایسا نہیں ہوں جو شخص اللہ کے قریب ہوتا ہے شیطان اسی پر ذور سے حملہ آور ہوتا ہے شکر کرو کہ بچت ہوگئی تم نے کسی فرشتے کی طرح میری آنکھیں کھول دٖیں اس کی مرہم پٹی کرتے ہوئے وہ اپنی بے تہاشا سچی محبت کا اظہار کرتا اور مریم خاموشی سے اپنے ایوارڈ اور سرٹیفیکیٹ واپس رکھ دیتی ۔۔۔

بابا بس کریں کیا چاہتے ہیں آپ آخر کیوں مار رہے ہیں میری ماں کو ۔۔کب تک ظلم کریں گے ۔۔۔کب تک ان کو اپنی پسند کی شادی کی سزا ملے گی ۔۔۔گھر ،گاڑی ،کاروبار سب گنوا چکے ہیں آپ پھر بھی اللہ توکل نہیں کرتیں یہ۔۔۔ اس بات کا طعنہ دیتے ہیں ۔۔۔ان کو اتنی بیماریا ں لگا کر بیمار عورت کہہ کر نفرت کا اظہار کرتے ہیں ان کی ایگو ،سیلف سٹیم کا قتل کرکے ان کو نفسییاتی مریضہ کہتے ہیں ۔۔۔ان کی ڈگریوں کو زنگ لگوا کر انہیں جاہل کہتے ہیں ۔۔۔ان کو زنجیروں میں باندھ کر زبان دراز کا خطاب دیتے ہیں ۔۔۔مریم کی بیٹی نے اپنی ماں کا دفاع کیا ۔۔۔۔کیا ظلم ڈھا دیا میں نے ۔۔۔اس کے باپ اور بھائیوں سے بھی برا ہوں کیا۔۔۔بات بے بات عورتوں کوقتل کردیتے ہیں جو اس کے خاندان میں ان سے بھی برا ہوں کیا ۔۔۔۔۔عورت کو ہر روز کھانے کے ساتھ ساتھ گھونسے ،لاتیں مارتے ہیں ان سے بھی برا ہوں کیا۔۔۔مریم کے شوہر نے اپنی بیٹی کو غصے سے جواب دیا ۔۔۔

مریم نے سوچا نوید بات تو صحیح کہہ رہا ہے اس نے بچپن سے ہی اپنے خاندان میں عورت پر ظلم ہی دیکھا ۔۔۔بات بے بات مرد عورت پر ہاتھ اٹھاتا ۔۔۔احتجاج پر عورت کو ایک ہی جملہ سننے کو ملتا تمہارے باپ اور بھائی سے بھی برا ہوں کیا ۔۔۔اور وہیں عورتیں خاموش ہو جاتیں ۔۔جانتی تھیں کہ یہ شخص ان کے باپ اور بھائیوں سے بہتر ہے ۔۔۔۔اسے نہیں معلوم تھا کہ نہ تو اس کی تعلیم اور نہ ہی اس کے شوہر کی تعلیم کچھ تبدیلی لائے گی بلکہ شوہر نے تو اس کے باپ اور بھائیوں کے نقش قدم پر چلنا تھا اور ان ہی کی مثال دینی تھی۔۔۔اس نے دکھ سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس کی خاطر اس نے سب کچھ برداشت کیا تھا اب اپنی پرچھائی اپنی بیٹی کے مستقبل پر پڑتے دیکھ کر تڑپ اٹھی ۔۔۔نہیں اب اور نہیں ۔۔۔میں غلط تھی اور دل میں تہیہ کیا کہ بس اب اور نہیں ۔۔۔۔۔ یہ مثال اب اور نہیں۔۔۔یہ طعنہ اب اور نہیں۔۔۔

وہی کمپنی تھی ۔۔۔وہی بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ لیکن عمر انیس نہیں بلکہ چالیس تھی ۔۔۔مریم نے فخر سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس کی خاطر اس نے ہر دکھ سہے وہ اپنی بیٹی کے لیئے طعنہ بننے کی بجائے اس کی آیئندہ آنے والی زندگی کے لئیے فخر بن گئی اب اس کی بیٹی کا شوہر اگر اس کو باپ کا طعنہ دے گا تو وہ اپنی ماں کی مثال دے گی ۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 331 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 37 Articles with 28589 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: