بھتہ خور اشتہاری لقمان عرف ہلاکو کا عبرتناک انجام

(Faisal Farooq Sagar, Gujranwala)

لقمان بٹ عرف ہلاکو کی ہلاکت سے گوجرانوالہ میں خوف اور دہشت کا ایک باب اختتام پذیر ہو گیا ، لقمان کی بیرون ملک سے ڈرامائی انداز میں گرفتاری عمل میں آئی اور بعدازاں وہ وزیر آباد کے قریب پولیس مقابلہ میں ہلاک ہو گیا ، لقمان جیسے بے رحم اورسفاک مجرم جسکے سرکی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی کی بیرون ملک سے گرفتاری اور اسکا بھیانک انجام عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی اور اس یقین کو تقویت ملے گی کہ جر م کی ہر کہانی کو ایک دن ایک قانون کی جیت پر اختتام پذیر ہونا ہوتا ہے اور مجرم کے ہاتھ بلاشبہ کتنے ہی لمبے کیو ں نہ ہوں اور وہ قانون کے شکنجے سے بچنے کے لئے چاہے لاکھوں میل دور جا کر ہی کیوں نہ چھپ جائے ایک دن اسے قانون کی گرفت میں آنا ہی ہوتا ہے، عوامی شکایات کے بوجھ تلے دبی پولیس کا مورال بلند کرنے کے لئے ایسی کامیابیاں بے حد اہم ہیں ،ماضی قریب میں سابق ڈی آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ نے ایسی کامیابیوں کی کئی داستانیں رقم کیں اور گوجرانوالہ کے شہریوں کو سماج دشمن عناصر سے نجات دلائی ، لقمان عرف ہلاکو جیسے ہی ایک کردار کو آجج تک گوجرانوالہ کے عوام بھول نہیں پائے ہوں گے جسے ننھا گورائیہ کے نام سے جانا جاتا تھا ، قتل ، بھتہ خوری سمیت دیگر وارداتوں میں مطلوب اس خطرناک اشتہاری مجرم کو بیرون ملک سے لاکر قانون کے سامنے جوابدہ بنایا گیا اور پھر اسکا انجام بھی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ،یقینی طور پر معاشرے کے لئے ناسور بن جانے والے ان خطرناک مجرمان کا انجام اس سے مختلف ہو بھی نہیں سکتا ،اسی قسم کا ایک کردار لقمان عرف ہلاکو گوجرانوالہ کے علاقے فتومنڈ سے سامنے آیا جس نے سال 2010ء سے جرائم کا آغاز کیا اور بعدازاں جرائم کا یک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا، ہلاکو نے تاجروں ،کیبل آپریٹر زاور عام شہریوں سے بھتہ وصول کرنے کے لئے 12ساتھیوں پر مشتمل ایک باقاعدہ گینگ تشکیل دیا ، یہ گینگ پہلے بھتہ طلب کرتا اور انکار کی صورت میں شہریوں پر فائرنگ کرادی جاتی ،متاثرین مقدمہ درج کراتے تو انہیں مزید انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ جاتا، لقمان کے جرائم کی ایک کی تفصیل شائع کرنا ممکن نہیں تاہم ایک جھلک آپکے سامنے پیش کی جارہی ہے تاکہ اسکے جرائم کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکے ،لقمان عرف ہلاکو نے کچی فتومنڈ کے رہائشی محمد عارف کو ادھار کی رقم واپس مانگنے پر قتل کرنے کی نیت سے ساتھیوں سمیت اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا جس میں 3 افراد ززخمی ہوئے سول تھانہ میں درج ہونے والے مقدمہ میں مدعی نے لقمان اور اسکے ساتھیوں کے خوف کی وجہ سے صلح کر لی ، اپنے اور ساتھیوں کے بارے پولیس کو مخبری کی رنجش میں اس نے ایک اورشخص فیضان بٹ کو فائرنگ کر کے زخمی کیا اس مقدمہ میں گرفتار ہو کر وہ بند حوالات جوڈیشل کیا گیا،ایک اور واردات میں اس نے شعیب سلیم کو بھتہ نہ دینے کی وجہ سے اپنے ساتھی سمیت فائرنگ کر کے زخمی کیا ،تھا نہ جناح روڈ میں مقدمہ درج ہو اجس میں گرفتار ہو کر وہ بند حولات جوڈیشل ہوا ، لقمان عرف ہلاکو اور اسکے ساتھیوں نے مدعی مقدمہ کی والدہ کے کانوں سے طلائی بالیاں نوچ لیں جس سے خاتون زخمی ہوگئی، تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج ہوااور وہ گرفتار ہو کر بند حوالات جوڈیشل ہوا، لقمان عرف ہلاکو نے مدعی مقدمہ احسان اﷲ کے پارٹنر عارف حسین سے بھتہ 5لاکھ روپے مانگا انہوں نے 2لاکھ دیئے بقیہ رقم نہ دینے کی وجہ سے مدعی اور اسکے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں جس پر مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج ہوا،اس مقدمہ میں لقمان عرف ہلاکو گرفتار ہو کر بند حوالات جوڈیشل ہوا، لقمان عرف ہلاکو نے اپنے ساتھی سمیت موٹر سائیکل سوار محمد سہیل کی بہن سے اسلحہ کے زور پر طلائی زیورات اور نقدی چھین لی ،جس پر مقدمہ تھانہ سول لائن درج ہوا ، لقمان عرف ہلاکواس مقدمہ میں گرفتار ہو کر بند حوالات جوڈیشل ہوا اور اس مقدمہ میں لقمان عدالتی اشتہاری تھا ، لقمان عرف ہلاکو نے مقدمہ تھانہ سول لائن میں استعمال ہونے والا اسلحہ پسٹل 30بور دوران حراست پولیس اپنے گھر سے برآمد کرایا ، جس پر ایک اورمقدمہ تھانہ سول لائن درج ہوا جس میں ملزم کو حولات بھجوایا گیا، ملزم مقدمہ ہذامیں عدالتی اشتہاری تھا ، لقمان عرف ہلاکو نے اپنے ساتھیوں سمیت محمد یونس کو 5لاکھ بھتہ نہ دینے کی وجہ سے فائرنگ کانشانہ بنایا اور فون پر جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیں جس پر مقدمہ تھانہ سول لائن درج ہوا اس مقدمہ میں وہ گرفتار ہوا کر بند حوالات جوڈیشل ہوا، لقمان عرف ہلاکو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شفقت اﷲ کے بہنوئی محمد سلیم جو ایک مقدمہ سول لائن کا مدعی تھا(جس میں لقمان عرف ہلاکو سزائے موت اور اسکے والد طارق سلیم کو عمر قید کی سزا عدالت سے سنائی جا چکی تھی )کو مقدمہ میں صلح نہ کرنے کی وجہ سے فائرنگ کر کے موت گھاٹ کے اتار دیا اور اسی وقوعہ میں ایک شخص محمد اشرف کو خمی کر دیا جس پر مقدمہ تھا نہ سوہدرہ وزیر آباد میں درج ہوا لقمان عرف ہلاکو اس مقدمہ میں مجرم اشتہاری تھا ، ہلاکو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ حاجی محمد اقبال کو بھتہ دس لاکھ روپے نہ دینے کی وجہ سے فائرنگ اور قتل کی دھمکیاں دیں جس مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج ہوا ، ہلاکو گرفتا ر ہو کر بند حولات جو ڈیشل گیا، ہلاکو نے شفقت اﷲ کو بذریعہ فون کال پانچ لاکھ روپے بھتہ اپنے والد طارق سلیم جو کہ لاہور جیل میں تھا کو بھجوانے اور مقدمہ تھا نہ سوہدرہ میں اپنے حق میں بیان دینے کا کہا اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دیں کہ جس طرح تمہارے بھائی کو قتل کیا ہے اسی طرح تمہیں بھی ماردیں گے جس پر مقدمہ تھا نہ سوہدرہ وزیر آباد میں درج ہوا، ہلاکو اس مقدمہ میں مجرم اشتہاری تھا ، ہلاکو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ محمد سلیم کے بھتیجے علی حسن پرانی دشمنی کی وجہ سے فائرنگ کر کے قتل کردیا کیونکہ ہلاکو کے بھائی نعمان عرف نومی کو سزائے موت اوراسکے والد طارق سلیم کو عمر قید ہو چکی تھی ،صلح نہ کرنے کی وجہ سے اس نے قتل کا اقدام کیا جس پر مقدمہ تھانہ سٹی وزیر آباد درج ہوا ، اس مقدمہ میں ہلاکو مجرم اشتہاری تھا ، ہلاکو نے اپنے بھائی نعمان عرف نومی ، والد طار ق سلیم اور دیگر ساتھیوں کو اسلحہ بھیج کر انصر ظفر راٹھور کو بھتہ 5لاکھ روپے نہ دینے کی وجہ سے فائرنگ کر کے زخمی کیا اور اسکی دوکان سے نقدی اور موبائل فون چھین کر لے گئے جس پر مقدمہ تھانہ باغبانپورہ درج ہوا ، ہلاکو اس مقدمہ میں اشتہاری تھا ، ہلاکو نے اظہر حسین شا ہ کو بذریعہ فون بھتہ اور کیبل کے کاروبار میں زبردستی حقدار بنانے پر مجبور کیا اور انکار کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دیں اور اسکی لیبر کو اسلحہ کے زور پر ڈرایا دھمکایا اور کیبل کٹوائی جس پر مقدمہ تھانہ جناح روڈ درج ہوا ،ہلاکو اس مقدمہ میں اشتہاری تھا، بعدازاں ہلاکو نے اظہر حسین شاہ کو اپنے خلاف مقدمہ درج کرانے اور ایک ملزم عامر رشید گجر کو نامزد کرنے پر بذریعہ فون قتل کی دھمکی دی جس پر مقدمہ تھا نہ جناح روڈ جناح روڈ درج ہوا ہلاکو اس مقدمہ میں بھی اشتہاری تھا ،ہلاکو نے بیرون ملک رہتے ہوئے ایک شخص انتصار کے کزن شبیر مہر اور اور اسکے بھانجے حیدر علی کو اپنی سالی حنا شبیر کے ساتھ پسند کی شادی کرنے پر بذریعہ شوٹر اپنے تمام اہل خانہ کی ایماء پر قتل کرایاجس پر مقدمہ تھا نہ ماڈل ٹاؤن درج ہوا، لقمان ہلاکو، فہمیدہ بی بی(والدہ)شائستہ سلیم ، ثمرہ سلیم (ہمشیرگان) جو تاحال بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اور اس مقدمہ میں تاحال اشتہاری ہیں جبکہ اسکے والد طارق سلیم بٹ کو بذریعہ انٹرپول دوبئی سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا جو کہ مقدمہ ہذاٰ میں گرفتار ہو کر حوالات جوڈیشل ہوا ، ہلاکو نے وسیم اقبال کو بذریعہ فون 35لاکھ روپے بھتہ مانگا اورعدم ادائیگی کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دیں جس پر مدعی کی درخواست پر مقدمہ تھانہ سول لائن میں درج ہوا ، ہلاکواس مقدمہ میں اشتہاری تھا، ہلاکو نے ایک شخص عبداﷲ کو بذریعہ فون دھمکی دی کہ وہ مقدمہ تھانہ ماڈل ٹاؤن سے دستبردار ہو جائے ورنہ اسے بھی شبیر مہر مقتول کی طرح زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا جس پر مقدمہ تھا نہ ماڈل ٹاؤن برخلاف ہلاکو اور اسکے والد سلیم بٹ درج کیا گیا ، ہلاکو اس مقدمہ میں اشتہاری تھا ، ہلاکو کے خلاف ایک شخص بلال قادری نے درخواست دی کہ اس نے 5لاکھ روپے بھتہ مانگا تھا جس پر مدعی نے تھا نہ سول لائن میں مقدمہ درج کرایا جسکی رنجش پر ہلاکو نے اپنے بندے بھجوا کر قاتلانہ حملہ کرایا ہے جس پر مقدمہ تھانہ سول لائن درج کیا گیا، ہلاکو نے ایک شخص مقصود شوکت کو بیرون ملک سے فون کر کے10لاکھ روپے بھتہ مانگا عدم ادائیگی پر قتل کی دھمکی دی مدعی کی درخواست پر مقدمہ تھانہ سول لائن رجسٹر ہوا، ہلاکو مقدمہ میں اشتہاری تھا ،ہلاکو نے بیرون سے فون ایک شخص ماسٹر اعجاز رسول کو اپنے قریبی ساتھیوں کاشف ، ملک سمیع اﷲ ، توقیر بٹ اور ثاقب کے ذریعے فائرنگ کرنے زخمی کرایا کہ وہ اسکی مجرمانہ سرگرمیوں سے پولیس کو آگاہ کرتا ہے جس کی بناء پر مقدمہ تھانہ سول لائن درج ہوا، ہلاکو مقدمہ میں اشتہاری ہے، ہلاکونے ایک شخص بلال بٹ کو بیرون ملک سے فون پر 3لاکھ روپے بھتہ طلب کیا انکار پر قتل کی دھمکی دی اور بعد میں ہلاکو کے ساتھیوں کاشف، ہمایوں ،گلنازاور یاسین نے مسلح ہو کر مدعی کے دفتر جاکر رقم کا تقاضا کیا مدعی مقدمہ نے ملزمان کی منت سماجت کر کے مہلت مانگی اور مقامی پولیس کو درخواست دے دی جس پر تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج ہوا،جس میں ملزم افضل گرفتار ہو کر حوالات جوڈیشل ہوا ،ہلاکو نے ایک شخص زاہد جاوید بٹ ( مسٹر 35)کو بیرون ملک سے کال کر کے بھتہ 5لاکھ روپے مانگا اور بذریعہ محمد زاہد وصول کرایا اور بعد میں 15لاکھ روپے مزید مانگے اور عدم ادائیگی پر خاندان سمیت قتل کردینے کی دھمکیاں دیں جس پر مقدمہ تھانہ کینٹ درج ہوا، ان سنگین وارداتوں کے متاچرین جس کرب اور تکلیف سے گزرے ہیں وہی جانتے ہیں ،موت ہر وقت سایے کی طرح پیچھا کرتی محسوس ہو تو زندگی کی تمام رنگینیاں اور رونقیں فضول لگنے لگتی ہیں ، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیرون ملک فرار ہو جانے والے انتہائی اثرورسوخ کے مالک ہلاکو کی گرفتاری چند دنوں میں ممکن نہیں ہوئی بلکہ گوجرانوالہ پولیس کے حقیقی ہیرو عمران عباس چدھڑ نے اسکے لئے 4سال محنت کی اور بالاخر درجنوں سنگین واراتوں میں انتہائی مطلوب ملزم کی گرفتاری کے لئے انکی محنت رنگ لے آئی ،کرائم فائٹر آفیسر اس دوران نہ صرف ہلاکو گینگ اور ان سے متعلقہ دیگر گینگز کا نیٹ ورک می توڑنے میں مصروف رہے بلکہ ہلاکواور اسکے ساتھیوں کی طرف سے دھمکائے گئے شہریوں اور تاجروں کو سکیورٹی بھی فراہم کرتے رہے ،انکی اس بے مثال کوشش سے گوجرانوالہ سے خوف اور دہشت کا ایک باب ختم ہوگیا ہے ، اسکے گینگ کے 4ارکان پہلے ہی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے تھے، ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑ نے جس بے خوفی اور ذمہ داری سے گوجرانوالہ کے امن میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ، ایسے وقت میں جب عوام پولیس سے بے زار اور سخت بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہے ہیں ، عمران عباس چدھڑ کی حد تک انکا اعتماد برقرار رہا اور وہ خطرناک مجرموں کی گرفتاری کے لئے انہیں اپنا ہر ممکن تعاون مہیا کرتے رہے ،ہلاکو گینگ سے نجات دلانے پر آرپی او طارق عباس قریشی اور سی پی او گوہر مشتاق بھٹہ سمیت پوری گوجرانوالہ پولیس مبارکباد کی مستحق ہے اور عوام میں تاثر کو بھی تقویت ملی ہے کہ پولیس اپنے فرائض کو پوری دیانتداری سے نبھائے تو ملزمان زمین میں بھی چھپ جائیں قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکتے ، کاش ہمارے تمام پولیس افسران، ایس ایچ اوز اورتفتیشی افسران تھانہ کلچر بدلنے کی بھی ٹھان لیں اورتھانوں میں عوام کی داد رسی کے لئے بھی سر دھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہ کریں ،ہمیں اپنے موجودہ نظام عدل کی افادیت اور خامیوں کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا کہ اسکی پیچیدگیا ں اورانصاف میں تاخیر عوام کی جان و مال سے کھیلے والے سفاک درندوں کو انجام تک پہنچانے میں کسقدر رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں اور انہیں مزید جرائم کا موقع فراہم کرتی ہیں،، جان کی بازی لگا کر پکڑے جانے والے اشتہاری مجرمان اتنی آسانی سے عدالتوں سے کیوں چھوٹ جاتے ہیں او ر ان خطرناک مجرمان کی باآسانی ضمانت پر رہائی کتنی مزید جانوں کے ضیاع اور کتنے خاندانوں کے لئے ذہنی کوفت اور کرب کا باعث بن جاتی ہے، ضرورغور کیجئے گا ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 152 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faisal Farooq Sagar

Read More Articles by Faisal Farooq Sagar: 59 Articles with 19997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: